Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1033

1033 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ، قَالَا: ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هَاشِمٍ الْبَزَّازُ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «يَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ، إِيَّاكَ أَعْبُدُ وَإِيَّاكَ أَسْتَعِينُ» قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ تُصْرَعُ تَضْرِبُهَا الْمَلَائِكَةُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهَا وَمِنْ خَلْفِهَا

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے ، دشمن سے سامنا ہوا ، میں نے آپ کو سنا ،آپ کی زبان مبارک پر یہ کلمات تھے :یَا مَالِکَ یَوْمِ الدِّینِ، إِیَّاکَ اَعْبُدُ وَإِیَّاکَ اَسْتَعِینُ قَالَ: فَلَقَدْ رَاَیْتُ الرِّجَالَ تُصْرَعُ تَضْرِبُہَا الْمَلَائِکَۃُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہَا وَمِنْ خَلْفِہَا،اے قیامت کے دن کے مالک ، میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور میں تجھ ہی سے مدد چاہتا ہوں ۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :میں نے دیکھا :لوگوں کو پچھاڑا جارہا تھا ، فرشتے ان کو آپ کے سامنے سے اور آپ کے پیچھے سے مارہے تھے ۔

فَلَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ تُصْرَعُ تَضْرِبُهَا الْمَلَائِكَةُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهَا وَمِنْ خَلْفِهَا ← «يَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ، إِيَّاكَ أَعْبُدُ وَإِيَّاكَ أَسْتَعِينُ» ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي غَزَاةٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَسَمِعْتُهُ ← أَبِي طَلْحَةَ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَنْبَلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هَاشِمٍ الْبَزَّازُ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1033

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1034

1034 - حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا حَزَّ بِهِ أَمْرٌ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ»

ہارون ابو زیاد کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جب کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو یہ دعا پڑھتے :اللَّہُمَّ إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ،اے اللہ !ہم ں خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور خاص تجھ سے مدد چاہتے ہیں ۔

«اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ← كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا حَزَّ بِهِ أَمْرٌ ← هَارُونَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ، ← أَبِي ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1034

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1035

1035 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَصَابَ مُسْلِمًا قَطُّ هَمٌّ أَوْ حَزَنٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ [ص:315] نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ بَصَرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمَّهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَعَلَّمُ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ؟ قَالَ: «بَلَى، يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی مسلمان جب بھی کوئی غم اور رپریشانی لاحق ہو تو وہ یہ دعا پڑھے ’’:اللَّہمَّ إنِّی عَبدُک ، وابنُ عبدِک ، وابنُ أمتِک ، ناصِیَتی بیدِکَ ، ماضٍ فیَّ حکمُکَ ، عدْلٌ فیَّ قضاؤکَ ، أسألُکَ بکلِّ اسمٍ ہوَ لکَ سمَّیتَ بہِ نفسَک ، أو أنزلْتَہ فی کتابِکَ ، أو علَّمتَہ أحدًا من خلقِک ، أو استأثرتَ بہِ فی علمِ الغیبِ عندَک ، أن تجعلَ القُرآنَ ربیعَ قلبی ، ونورَ صَدری ، وجَلاء َ حَزَنی ، وذَہابَ ہَمِّی ،اے میرے اللہ !میں تیرا بندہ ، تیرے بندے کا بیٹا ، تیری بندی کا بیٹا ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ،تیرا حکم مجھ پر جاری و ساری ہے ، میرے متعلق تیرا فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ میں تجھ سے تیرے سب اسماء ِ حسنیٰ (کے وسیلے)سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنی ذات کے لئے رکھے ، یا کسی کتاب میں نازل کئے ، یا کسی مخلوق کو سکھائے یا اپنے پاس ہی رکھنے پسند کئے ، تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور سینے کا نور بنا دے اور اسے میرے غم و اندوہ کا مداوا بنا دے۔‘‘اس دعا کی برکت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس سے اس کے غم اور پریشانی کو دور کردیتا ہے ، اس کی پریشانی کی جگہ پر اس کو خوشی عطاء کرتا ہے ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہم یہ کلمات سیکھ نہ لیں؟آپ نے فرمایا:کیوں نہیں !جو بھی ان کلمات کو سنتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ انہیں سیکھ لے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ، ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1035

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1036

1036 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثِ أَبُو صَالِحٍ الرَّسْعَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الطَّائِفِ مَاشِيًا عَلَى قَدَمَيْهِ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُجِيبُوهُ، فَانْصَرَفَ فَأَتَى ظِلَّ شَجَرَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِلَيْكَ أَشْكُو ضَعْفَ قُوَّتِي، وَقِلَّةَ حِيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ، أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، إِلَى مَنْ تَكِلُنِي، إِلَى عَدُوٍّ يَتَجَهَّمُنِي أَوْ إِلَى قَرِيبٍ مَلَّكْتَهُ أَمْرِي، إِنْ لَمْ تَكُنْ غَضْبَانَ عَلَيَّ فَلَا أُبَالِي، غَيْرَ أَنَّ عَافِيَتَكَ أَوْسَعُ لِي، أَعُوذُ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ، وَصَلَحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، أَنْ تُنْزِلَ بِي غَضَبَكَ أَوْ تُحِلَّ عَلَيَّ سَخَطَكَ، لَكَ الْعُتْبَى حَتَّى تَرْضَى، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ»

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف کی طرف گئے ، ان کو اسلام کی دعوت دی ، انہوں نے آپ کی دعوت کو قبول نہ کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سایہ دار درخت کے نیچے آئے ، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی اور پھر یہ دعا کی :’’اللَّہُمَّ إِلَیْکَ اَشْکُو ضَعْفَ قُوَّتِی، وَقِلَّۃَ حِیلَتِی، وَہَوَانِی عَلَی النَّاسِ، اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، اَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ، إِلَی مَنْ تَکِلُنِی، إِلَی عَدُوٍّ یَتَجَہَّمُنِی اَوْ إِلَی قَرِیبٍ مَلَّکْتَہُ اَمْرِی، إِنْ لَمْ تَکُنْ غَضْبَانَ عَلَیَّ فَلَا اُبَالِی، غَیْرَ اَنَّ عَافِیَتَکَ اَوْسَعُ لِی، اَعُوذُ بِنُورِ وَجْہِکَ الَّذِی اَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمَاتُ، وَصَلَحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، اَنْ تُنْزِلَ بِی غَضَبَکَ اَوْ تُحِلَّ عَلَیَّ سَخَطَکَ، لَکَ الْعُتْبَی حَتَّی تَرْضَی، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِکَ ، بار الٰہا!میں اپنی کمزوری و بے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا شکوہ تجھی سے کرتا ہوں، یا ارحم الراحمین! تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی میرا بھی رب ہے۔ تومجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کسی بیگانے کے جو تندی سے میرے ساتھ پیش آئے؟ یا کسی دشمن کے جس کو تو نے میرے معاملے کا مالک بنا دیا ہے؟ اگر مجھ پر تو ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی کی ذرا پروا نہیں، لیکن تیری عافیت میرے لیے زیادہ کشادہ ہے۔ میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ چاہتاہوں جس سے اندھیرے روشن ہو جاتے ہیں اور دنیا و آخرت کے معاملات کا سدھار اسی پر ہے، کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو یا تیرا عتاب مجھ پر وارد ہو، تیری ہی رضا مطلوب ہے یہاں تک کہ تو خوش ہو جائے اور تیرے بغیرکوئی زور اور طاقت نہیں۔‘‘

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ← الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثِ أَبُو صَالِحٍ الرَّسْعَنِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1036

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1037

1037 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو يَزِيدَ حُبَيْشٌ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ حَنَشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّهُ قَالَ لِبَنِيهِ: " يَا بَنِيَّ إِذَا أَهَمَّكُمْ أَمْرٌ أَوْ كَرَبَكُمْ أَمْرٌ فَلَا يَبِيتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ فِي لِحَافٍ طَاهِرٍ، وَأَظُنُّهُ قَالَ: عَلَى فِرَاشٍ طَاهِرٍ، وَلَا يَبِيتَنَّ مَعَهُ امْرَأَةٌ، ثُمَّ لَيَقْرَأَ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا تِسْعًا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سَبْعًا ثُمَّ لِيَقُلِ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي مِنْ أَمْرِي هَذَا فَرَجًا» ، فَإِنَّهُ يَأْتِيهِ آتٍ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الْخَامِسَةِ - وَأَظُنُّهُ قَالَ أَوْ فِي السَّابِعَةِ - فَيَقُولُ: الْمَخْرَجُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ أَبُو يَزِيدَ: فَأَصَابَنِي وَجَعٌ شَدِيدٌ فَلَمْ أَدْرِ كَيْفَ أُدَاوِيهِ فَبِتُّ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ، فَأَتَانِي آتِيَانِ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: جِسَّهُ، فَجَعَلَ يَلْتَمِسُ جَسَدِي، فَلَمَّا بَلَغَ مَوْضِعًا مِنْ رَأْسِي قَالَ: احْجِمْ هَاهُنَا، وَلَا تَحْلِقْهُ وَلَكِنْ بِغِرَاءَ ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا: كَيْفَ وَلَوْ ضَمَمْتَ إِلَيْهِمَا وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ سَأَلْتُ: قُلْتُ أَيُّ شَيْءٍ الْغِرَاءُ؟ فَقَالُوا: الْحِطْمَى أَوْ شَيْءٌ تَسْتَمْسِكُ بِهِ الْمِحْجَمَةُ فاحْتَجَمْتُ فَبَرَأْتُ، فَأَنَا الْيَوْمَ لَيْسَ أُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَحَدًا فَيَتَعَالَجُ بِهِ إِلَّا وَجَدَ شِفَاءً بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

رو ح بن حارث بن حنش اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! جب تمہیں کوئی مشکل پیش آئے ،کوئی تکلیف لاحق ہو یا تمہیں کسی غم کا سامنا ہو تو تم اس حال میں رات گزاروکہ باوضوء ہوکر اپنے صاف اور پاک بستر پر آئو اور اس حال میں تمہارے ساتھ میری بیوی نہیں ہونی چاہیے، اس کے بعد تم ’’سورہ و الشمس ‘‘کو نو بار پڑھواور ’’سورہ و اللیل ‘‘سات دفعہ پڑھو، اس کے بعد یہ دعا پڑھو: اے اللہ !میرے لئے میرے اس معاملے کو آسانی والا بنا دے ۔ یقینا اسی رات کے پہلے حصے میں ،یا تیسرے حصے میں ،یا پانچویں حصے میں ،راوی کہتا ہے میرا خیال ہے کہ انہوں نییہ بھی کہا کہ یا ساتویں حصے میںایک آنے والا آئے گا اور اس کو بتائے گا کہ تمہاری اس پریشانی سے نجات کا طریقہ اس طرح سے ہے ۔ابو زید کہتے ہیں : میں کسی تکلیف اور بیماری کا شکار ہوگیا ،مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں اس کا علاج کیسے کروں ؟تب یہ طریقہ مجھے یاد آیا تو میں نے اسی انداز سے رات گزاری۔ رات کے پہلے حصہ میںمیرے پاس دو آنے والے آئے ۔ ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے ساتھی سے کہا :اس کو ہاتھ لگاؤ،دوسرا میرے جسم پر ہاتھ لگانے لگا جب وہ ہاتھ لگاتے ہوئے میرے سر پر پہنچا تو اس نے کہا یہاں پر اس کو سنگھی لگاؤ، لیکن سر کے بالوں کو صاف نہیں کرنا اس کے بغیرسنگھی لگانی ہے ۔لیکن غراء کے ساتھ بھی اس کا علاج ممکن ہے ۔ان دونوں نے کہایاان میں سے ایک نے کہا:کیسے ہوگا ، اس نے خود ہی کہا :اگریہ اس کے ساتھ سورت ’’والتین والزیتون ‘‘پڑھ لے۔صبح کے وقت میں نے پوچھا :غراء کیا ہے ؟انہوں نے کہا : یہ ایک بوٹی ہے جس کے ساتھ تم سنگھی لگاؤ گے۔ میں نے سنگھی لگوائی تو میں ٹھیک ہوگیا ۔ اس کے بعد سے آج کے دن تک میں نے جس شخص کو بھی یہ طریقہ علاج بتایا ہے ، اللہ عزوجل نے اس کو اسی طرح سے شفاء بخشی ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← رَوْحِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ حَنَشٍ، ← أَبُو يَزِيدَ حُبَيْشٌ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1037

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1038

1038 - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حَذْلَمِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُدْرِكُ بْنُ أَبِي سَعْدٍ الْفَزَارِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَأَكْفِيَنَّ عَبْدِي صَادِقًا كَانَ أَوْ كَاذِبًا "

یونس بن میسرہ بن حلبس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے یہ کلمات کہے :حَسْبِیَ اللَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ،میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،اسی پر میں نے توکل کیا ہے اوروہی عظیم عرش کا رب ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتے ہیں :اب اپنے بندے کے ضرور کافی ہوجائوں گا ۔ چاہے وہ سچاہے یا جھوٹا ۔

يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، ← مُدْرِكُ بْنُ أَبِي سَعْدٍ الْفَزَارِيُّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حَذْلَمٍ الدِّمَشْقِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1038

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1039

1039 - حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَرْجَرَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كَانَ أَبِي إِذَا حَزَّ بِهِ أَمْرٌ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ: اللَّهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِي فِي كُلِّ كَرْبٍ وَأَنْتَ رَجَائِي فِي كُلِّ شِدَّةٍ وَأَنْتَ لِي فِي كُلِّ أَمْرٍ نَزَلَ بِي ثِقَةٌ وَعُدَّةٌ، فَكَمْ مِنْ كَرْبٍ قَدْ يَضْعُفُ عَنْهُ الْفُؤَادُ، وَتَقِلُّ فِيهِ الْحِيلَةُ، وَيَرْغَبُ عَنْهُ الصَّدِيقُ، وَيَشْمَتُ بِهِ الْعَدُوُّ، أَنْزَلْتُهُ بِكَ وَشَكَوْتُهُ إِلَيْكَ فَفَرَّجْتَهُ وَكَشَفْتَهُ وَكَفَيْتَنِيهِ، فَأَنْتَ صَاحِبُ كُلِّ حَاجَةٍ، وَوَلِيُّ كُلِّ نِعْمَةٍ، وَأَنْتَ الَّذِي حَفِظْتَ الْغُلَامَ بِصَلَاحِ أَبَوَيْهِ، فَاحْفَظْنِي بِمَا حَفِظْتُهُ بِهِ، وَلَا تَجْعَلْنِي فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ، اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، وَأَسْأَلُكَ بِالِاسْمِ الْأَعْظَمِ الْأَعْظَمِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَتْ بِهِ كَانَ حَقًّا عَلَيْكَ أَنْ تُجِيبَ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَقْضِيَ حَاجَتِي، وَيَسْأَلُ حَاجَتَهُ

محمد بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میرے والد کو کوئی پریشانی ہوتی تو وہ ضوء کرتے ، دو رکعت نماز ادا کرتے ، نماز کے بعد یہ دعا کرتے :اللَّہُمَّ اَنْتَ ثِقَتِی فِی کُلِّ کَرْبٍ وَاَنْتَ رَجَائِی فِی کُلِّ شِدَّۃٍ وَاَنْتَ لِی فِی کُلِّ اَمْرٍ نَزَلَ بِی ثِقَۃٌ وَعُدَّۃٌ، فَکَمْ مِنْ کَرْبٍ قَدْ یَضْعُفُ عَنْہُ الْفُوَادُ، وَتَقِلُّ فِیہِ الْحِیلَۃُ، وَیَرْغَبُ عَنْہُ الصَّدِیقُ، وَیَشْمَتُ بِہِ الْعَدُوُّ، اَنْزَلْتُہُ بِکَ وَشَکَوْتُہُ إِلَیْکَ فَفَرَّجْتَہُ وَکَشَفْتَہُ وَکَفَیْتَنِیہِ، فَاَنْتَ صَاحِبُ کُلِّ حَاجَۃٍ، وَوَلِیُّ کُلِّ نِعْمَۃٍ، وَاَنْتَ الَّذِی حَفِظْتَ الْغُلَامَ بِصَلَاحِ اَبَوَیْہِ، فَاحْفَظْنِی بِمَا حَفِظْتُہُ بِہِ، وَلَا تَجْعَلْنِی فِتْنَۃً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ، اللَّہُمَّ وَاَسْاَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ہُوَ لَکَ سَمَّیْتَہُ فِی کِتَابِکَ، اَوْ عَلَّمْتَہُ اَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ اَوِ اسْتَاْثَرْتَ بِہِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، وَاَسْاَلُکَ بِالِاسْمِ الْاَعْظَمِ الْاَعْظَمِ الْاَعْظَمِ الَّذِی إِذَا سُئِلَتْ بِہِ کَانَ حَقًّا عَلَیْکَ اَنْ تُجِیبَ، اَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، وَاَنْ تَقْضِیَ حَاجَتِی،اے اللہ !ہر کرب و آفت میں میرا معتمد تو ہی ہے ، ور دُکھ میں میر ی اُمیدوں کا مرکز و محور تو ہی ہے ، ہر آنے والی مصیبت اور پریشانی میں میرا رجوع تیری طرف اور اعتماد تجھ پر ہے ، کتنی ہی ایسی پریشانیاں ہیں کہ جو دل کو کمزور کردینے والی ہیں ، ان سے نکلنے کے ذرائع محدود ہوجاتے ہیں ،مشکل کھڑی میں دوست احباب منہ موڑ جاتے ہیں ،آنے والی مصیبت پر دشمن خوشی کا اظہار کرتے ہیں ،اے اللہ !میں تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں ،تیرے سامنے اس دکھ کا اظہار کررہا ہوں ،تو ہی اس سے نجات دلانے والا ہے ،اے اللہ !تو ہی اس کو دور کرنے والا ہے اور تو ہی اس میں کفایت کرنے والا ہے ،ہر حاجت اور ضرورت میں تو ہی میراساتھی ہے اور ہر نعمت کا والی بھی تو ہی ہے ،اے اللہ !تو ہی ہے جو والدین کی خیر خواہی کے ذریعے بچوں کی کی حفاظت کرتا ہے ،اے اللہ !تو میری حفاظت فرما، جس طرح تو بچے کی حفاظت کرتا ہے اورمجھے ظالم قوم کے لیے فتنہ اور آزمائش نہ بنانا ۔اے میرے اللہ !میں تجھ سے تیرے سب اسماء ِ حسنیٰ (کے وسیلے)سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنی ذات کے لئے رکھے ، یا کسی کتاب میں نازل کئے ، یا کسی مخلوق کو سکھائے یا اپنے پاس ہی رکھنے پسند کئے ،اے اللہ !میں تجھ سے تیرے سب سے بڑے اسم اعظم کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ جس کے واسطے سے تجھ سے جب سوال کیا جاتا ہے تو تو اپنے اس دعا کی قبولیت کو لازم کرلیتا ہے ۔تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پر رحمتیں نازل فرما اور میری حاجات کو پورا فرما ، اس کے بعد وہ اپنی حاجات کا سوال کرے ۔

كَانَ أَبِي إِذَا حَزَّ بِهِ أَمْرٌ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ ← مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَرْجَرَانِيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1039

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1040

1040 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ التَّيْمِيُّ، ثنا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَلَمْ نَبْرَحْ حَتَّى قَضَى، فَبَسَطْنَا عَلَيْهِ ثَوْبًا وَأُمٌّ لَهُ عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقُلْنَا لَهَا: يَا هَذِهِ احْتَسِبِي مُصِيبَتَكِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَتْ: «وَمَاتَ ابْنِي؟» قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَتْ: «حَقًّا تَقُولُونَ؟» قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَدَّتْ يَدَيْهَا فَقَالَتِ: " اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أَسْلَمْتُ لَكَ وَهَاجَرْتُ إِلَى رَسُولِكَ رَجَاءَ أَنْ يُغِيثَنِي عِنْدَ كُلِّ شِدَّةٍ وَرَخَاءٍ، فَلَا تَحْمِلْ عَلَيَّ هَذِهِ الْمُصِيبَةَ الْيَوْمَ، فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ مَا بَرِحْنَا حَتَّى طَعِمْنَا مَعَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک انصاری صحابی کے گھر گئے، وہ بیمار تھا، ہم اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوراناس کی وفات ہوگئی ،ہم نے اس کے اوپر اس کی چادر کو ڈادیا،اس کی بوڑھی ماں اس کے سر کے قریب بیٹھی ہوئی تھی، ہم نے اس کی والدہ سے کہا: ماں جی ! اللہ تعالٰی کی طرف سے اس آنے والی مصیبت پرآپ ثواب کی امید رکھیں، وہ کہتی ہے کہ میرا بیٹا فوت ہوگیا ؟ہم نے کہا: جی ہاں ایسا ہی ہے ،اس نے کہا:کیا تم ٹھیک کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا:بالکل ایسا ہی ہے ، تو اس نے اپنے ہاتھوں کو دعا کے انداز میں پھیلادیااور اس نے ان الفاظ میں دعا کی :اللَّہُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ اَنِّی اَسْلَمْتُ لَکَ وَہَاجَرْتُ إِلَی رَسُولِکَ رَجَاء َ اَنْ یُغِیثَنِی عِنْدَ کُلِّ شِدَّۃٍ وَرَخَاء ٍ، فَلَا تَحْمِلْ عَلَیَّ ہَذِہِ الْمُصِیبَۃَ الْیَوْمَ،اے اللہ !شک تو جانتا ہے میں نے اپنے آپ کو تیرے لیے مطیع کیا ، تیری خاطر میں نے تیرے رسول کی طرف ہجرت کی ،اس امید پر کہ تو ہر مصیبت اور ہر آسانی میں میرا ساتھ دے گا اور میرا مددگار رہے گا، اس لئے اے اللہ !آج مجھے اس مصیبت سے دوچار نہ کرنااس نے اپنے بیٹے کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ بالکل ٹھیک تھا ،یہاں تک کہ ہم نے اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← صالح المري ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1040

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِقَضَاءِ الدَّيْنِ · حديث 1041

1041 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَيْلِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ: هَلْ سَمِعْتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُعَاءً كَانَ يُعَلِّمُنَاهُ، وَذَكَرَ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ كَانَ يُعَلِّمُهُ أَصْحَابَهُ وَيَقُولُ: " لَوْ كَانَ عَلَى أَحَدِكُمْ جَبَلٌ ذَهَبَ دَيْنًا لَقَضَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ: اللَّهُمَّ فَارِجَ الْهَمِّ، كَاشِفَ الْغَمِّ، مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّينَ، رَحْمَانَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرِحِيمَهُمَا، أَنْتَ رَحْمَانِي فَارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ عَلَيَّ بَقِيَّةٌ مِنْ دَيْنٍ وَكُنْتُ لِلدَّيْنِ كَارِهًا فَكُنْتُ أَدْعُو بِذَلِكَ حَتَّى قَضَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِّي

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ان کے گھر تشریف فرما ہوئے ،انہوں نے کہا: کیا تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوئی دعا سنی ہے؟ جو دعا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سکھایا کرتے تھے اور پھر انہوں نے بیان کیا: اللہ کے نبی عیسی بن مریم علیہما السلام نے اپنے ساتھیوں کو یہ دعا سکھایاکرتے تھے اور کہا کرتے تھے :اگر تم میں سے کسی پر پہاڑ کے برابر سونا قرض ہوتو اس دعا کے پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالی ا سے اس قرض سے خلاصی عطا فرما دے گا :اللَّہُمَّ فَارِجَ الْہَمِّ، کَاشِفَ الْغَمِّ، مُجِیبَ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّینَ، رَحْمَانَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَرِحِیمَہُمَا، اَنْتَ رَحْمَانِی فَارْحَمْنِی رَحْمَۃً تُغْنِینِی بِہَا عَنْ رَحْمَۃِ مَنْ سِوَاکَ،اے اللہ !غموں کو دور کرنے والے، اے پریشانیوں سے نجات دلانے والے !اے مجبور اور لاچار کی دعا کو قبول کرنے والے !اے دنیا میں مہربانیاں کرنے والے اور آخرت میں رحم کرنے والے ! تو ہی میرا مہربان ہے ،اس لیے تو ہی مجھ پر اپنی طرف سے خاص مہربانی نزل فرما اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے علاوہ ہر کسی سے بے نیاز کر دے ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:مجھ پر کچھ قرض باقی تھا اور مجھے قرض سے سخت نفرت تھی ،میں نے اللہ تعالی سے یہی کی دعا تو اللہ تعالیٰ نے مجھیمیرے قرض سے خلاصی عطا فرما دی۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَيْلِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1041

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِقَضَاءِ الدَّيْنِ · حديث 1042

1042 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: أَتَى عَلِيًّا رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ مُكَاتَبَتِي فَأَعِنِّي، فَقَالَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلٍ دَيْنًا لَأَدَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْكَ، قُلْ: «اللَّهُمَّ أَغْنِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ»

ابو وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مکاتب غلام علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا:میں اپنا مالِ کتابت دینے سے عاجز آ گیا ہوں، آپ میری کچھ مدد کریں۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:کیا میں تمہیں کچھ ایسے کلمات نہ سکھا دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے مجھے سکھلائے تھے۔ اگر تمہارے اوپر پہاڑ برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تمہاری طرف سے اس کی ادائیگی کے اسباب مہیا کر دے گا؟ تم یوں کہا کرو:’’اللَّہُمَّ اکْفِنی بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ، وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِواکَ ا،ے اللہ!جن اشیاء کو تو نے حرام کیا ان سے بچاتے ہوئے اپنی حلال کردہ اشیاء کو میرے لیے کافی کر دے اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز کردے۔ ‘‘

مُكَاتَبَتِي فَأَعِنِّي، ← يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي عَجَزْتُ ← أَتَى عَلِيًّا رَجُلٌ ← أَبِي وَائِلٍ ← سيار أبي الحكم ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1042

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِقَضَاءِ الدَّيْنِ · حديث 1043

1043 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " قُولِي: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے فاطمہ !تم یہ دعا کیا کرو:اللَّہُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، رَبَّنَا رَبُّ کُلِّ شَیْء ٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْإِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ، اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْء ٌ، وَاَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْء ٌ، وَاَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْء ٌ، وَاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُونَکَ شَیْء ٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَاَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر،اے آسمانوں کے رب اور عرش عظیم کے رب ،اے ا ہمارے رب اور ہر چیز کے رب !اے رات کو نازل کرنے والے، انجیل کو اتارنے والے اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے !تو ہی سب سے پہلے ہے ،تجھ سے پہلے کچھ نہیں ، توہیسب سے آخر میں ہے تیرے بعد کچھ نہیں ہے ،توہی ظاہر ہے ،تیرے اوپر کچھ نہیں ہے ،تو ہی باطن ہے تیرے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ہمیں ہمارے قرض سے خلاصی دلادے اور ہمیں فقر سے بے نیاز کردے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1043

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِقَضَاءِ الدَّيْنِ · حديث 1044

1044 - حَدَّثَنَا جَبْرُونُ بْنُ عِيسَى الْمَغْرِبِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَضَرِيُّ الْمَغْرِبِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو مَعْمَرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا طَلَبْتَ حَاجَةً فَأَحْبَبْتَ أَنْ تَنْجَحَ فَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْحَلِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا} [الأحقاف: 35] إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارً بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا} [النازعات: 46] اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ، اللَّهُمَّ لَا تَدَعْ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتَهُ، وَلَا حَاجَةً مِنْ حَوَائِجِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا قَضَيْتَهَا بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب تم اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی حاجت کی دعا کرو اور تم چاہو کہ تمہاری دعاؤں کو قبول کر لیا جائے اور تمہیں مصیبت سے نجات عطا کر دی جائے تو ان الفاظ میں دعا کیا کرو :لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ، لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، بِسْمِ اللَّہِ الَّذِی لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْحَلِیمُ، سُبْحَانَ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ {کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوعَدُونَ لَمْ یَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَۃً مِنْ نَہَارً بَلَاغٌ فَہَلْ یُہْلَکُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ }{کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَہَا لَمْ یَلْبَثُوا إِلَّا عَشِیَّۃً اَوْ ضُحَاہَا}اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَالْغَنِیمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَۃَ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ، اللَّہُمَّ لَا تَدَعْ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَہُ، وَلَا ہَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَہُ، وَلَا دَیْنًا إِلَّا قَضَیْتَہُ، وَلَا حَاجَۃً مِنْ حَوَائِجِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ إِلَّا قَضَیْتَہَا بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ،اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ بلند و بالا اور عظمت والا ہے ،اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ تحمل والا اور کرم والا ہے، اس اللہ تعالی ٰکے نام کے ساتھ جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہی ہے زندہ رہنے والا ہے تو تحمل والا ہے ،پاک ہے رب جو عرش عظیم کا مالک ہے ،تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے{یہ جس دن اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا وعدہ دیئے جاتے ہیں تو (یہ معلوم ہونے لگے گا کہ) دن کی ایک گھڑی ہی (دنیا میں) ٹھہرے تھے۔}(الاحقاف:35){جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں۔}(النازعات:46) اے اللہ!میں تجھ سے وہ چیزیں (اعمال و خصال)مانگتا ہوں جو تیری رحمت کا سبب ہیں اور تیری بخشش کا باعث بننے والے( اعمال) اور ہر نیکی میں حصہ اور ہر گناہ سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں۔ میں تجھ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ میرا کوئی گناہ معاف کیے بغیر، کوئی غم ختم کیے بغیر اور کوئی حاجت جو تیری رضا کے مطابق ہو، پوری کیے بغیر نہ چھوڑ۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو مَعْمَرٍ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَضَرِيُّ الْمَغْرِبِيُّ، ← جَبْرُونُ بْنُ عِيسَى الْمَغْرِبِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1044

chevron_left Previous
1…868788…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter