كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1021
1021 - حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الَّتِي عِنْدَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ عَنْ أَبِيهَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: عَلَّمَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ إِذَا نَزَلَ بِي: لَقَدْ خَصَصْتُكَ بِهِنَّ دُونَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَكْتُمْنَاهُنَّ، فَلَمَّا زَوَّجَ ابْنَتَهُ تِلْكَ وَتَوَجَّهَتْ إِلَى الشَّامِ شَيَّعَهَا وَشَيَّعْنَاهَا مَعَهُ، فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ وَأَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ خَلَا بِهَا فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُعَلِّمُهَا إِيَّاهُنَّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَخَلَّفْتُ ثُمَّ أَدْرَكْتُهَا فَسَأَلْتُهَا عَنْهُنَّ فَقَالَتْ: قَالَ لِي أَبِي [ص:312]: بُنَيَّةُ إِنَّكِ تَقْدَمِينَ أَرْضًا أَنْتِ بِهَا غَرِيبَةٌ فَإِنْ نَزَلَ بِكِ كَرْبٌ أَوْ غَمٌّ فَقُولِي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَرْفَعُهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَزَادَ أَبُو زُهَيْرٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَلَّمَنِي عَمِّي، وَقَالَ: عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
علی بن حسین بنت عبد اللہ بن جعفرجو کہ عبد الملک بن مروان کے ہاں تھی وہ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو کچھ کلمات سکھلائے اور ان سے کہا:جب تمہیں کسی کرب اور مصیبت کا سامنا ہوتو ان کلمات کے ذریعے اللہ سے دعا کرنا، اوران سے فرمایا کہ میں تمہیں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے مقابلے میں ترجیح دیتے ہوئے صرف تمہیں یہ دعا سکھلا رہا ہوں، اس کے بعد حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ان کلمات کا کسی کے سامنے اظہار نہیں کیا کرتے تھے ، بعد میں جب ان کی اس بیٹی کی شادی ہوئی اور وہ ملک شام کی طرف روانہ ہوئی ، وہاں جاکر مختلف لوگوں سے واسطہ پڑنے لگا ،ہم بھی انہیں لوگوں میں ان کے ساتھ تھے ۔جب ان کی بیٹی مستقل طور پر وہاں رہنے لگی اور خود عبد اللہ بن جعفر وہاں سے واپس روانہ ہونا چاہتے تھے ، تب مجھے اندازا ہوا کہ اب عبد اللہ اپنی بیٹی کو وہ کلمات سکھلانے والے ہیں ۔اس کے بعد جب عبد اللہ اپنی بیٹی کو وہ کلمات سکھلاکر واپس روانہ ہوگئے تو میں ان کے پیچھے ہو گیا تھوڑے فاصلے کے بعد میںکوجا ملا ،میں نے ان سے ان کلمات کے بارے میںپوچھا: انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے یہ کلمات سکھائے ہیں اور انہوں نے مجھے کہا :اے بیٹی !تم ایسی سرزمین پرہو جہاں پر تم اجنبی اور مسافر ہو، اگر تمہیں کسی تکلیف کرب اور غم کا سامنا ہو تو یہ کلمات کہنا :’’لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، تَبَارَکَ اللَّہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ،اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،صرف اللہ ہی عبادت کے لائق ہے وہ تحمل والا اور کریم ہے ،بابرکت ہے اللہ تعالیٰ جو عرش عظیم کا رب ہے ،تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ابو زُہیر کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن جعفر کہتے ہیں مجھے میرے چچا نے یہ کلمات سکھلائے اور اوروہ کہتے ہیں کہ مجھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات سکھلائے تھے ۔
عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِيهَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، ← بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الَّتِي عِنْدَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← اَبُوْ خَلِیْفَۃَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1021
