كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ سَمَاعِ الرَّعْدِ · حديث 985
985 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَنَا رَعْدٌ وَبَرْقٌ وَبَرْدٌ فَقَالَ لَنَا كَعْبٌ [ص:305]: " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الرَّعْدَ: سُبْحَانَ مَنْ يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ ثَلَاثًا عُوفِيَ مِمَّا يَكُونُ فِي ذَلِكَ الرَّعْدِ " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَقُلْنَا فَعُوفِينَا، ثُمَّ لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَإِذَا بَرْدَةٌ قَدْ أَصَابَتْ أَنْفَهُ فَأَثَّرَتْ بِهِ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا هَذَا؟ فَقَالَ: بَرْدَةٌ أَصَابَتْ أَنْفِي فَأَثَّرَتْ بِي، فَقُلْتُ: إِنَّ كَعْبًا حِينَ سَمِعَ الرَّعْدَ قَالَ لَنَا: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الرَّعْدَ: سُبْحَانَ مَنْ يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ عُوفِيَ مِمَّا يَكُونُ فِي ذَلِكَ الرَّعْدِ، فَقُلْنَا فَعُوفِينَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَهَلَّا أَعْلَمْتُمُونَا حَتَّى نَقُولَهُ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سفر میں حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ تھے،کڑک ، بجلی اورسردی نے ہمیں آلیا ۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے ہمیںکہا :جو شخص کڑک اور بجلی کی آواز کو سن کر تین بار یہ کلمات کہتا ہے :پاک ہے وہ ذات جس کے لیے کڑک (رعد)بھی اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتی ہے ،اللہ کے فرشتے بھی اس کے خوف سے تسبیح بیان کرتے ہیں۔تو اس شخص کو کڑک میں موجود شر سے عافیت عطا کردی جاتی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں: ہم نے تین بار یہ کلمات کہے : اللہ تعالی نے ہمیں عافیت عطا فرمادی ۔اس کے بعد میں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کسی راستے میں ملا تو وہاں بھی سخت سردی کا موسم تھا ،سردی کی شدت کی وجہ سے ناک بہنے لگے،نا ک نشانات بن گئے ۔ میں نے کہا:اے امیرالمومنین !یہ کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا :ٹھنڈ کی وجہ سے میری ناک کی یہ حالت ہوگئی ہے ۔میں نے عرض کیا:حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے ہمیںکہا :جو شخص کڑک اور بجلی کی آواز کو سن کر تین بار یہ کلمات کہتا ہے :پاک ہے وہ ذات جس کے لیے کڑک (رعد)بھی اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتی ہے ،اللہ کے فرشتے بھی اس کے خوف سے تسبیح بیان کرتے ہیں۔تو اس شخص کو کڑک میں موجود شر سے عافیت عطا کردی جاتی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں: ہم نے تین بار یہ کلمات کہے : اللہ تعالی نے ہمیں عافیت عطا فرمادی ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :تم نے اسی وقت ہمیں یہ کیوں نہ بتایا ۔
لَنَا كَعْبٌ مَنْ ← كُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَنَا رَعْدٌ وَبَرْقٌ وَبَرْدٌ ← جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 985
