كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ بِعَرَفَاتٍ · حديث 877
877 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مِمَّا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَسْمَعُ كَلَامِي، وَتَرَى مَكَانِي، وَتَعْلَمُ سِرِّي وَعَلَانِيَتِي، لَا يَخْفَى عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِي، أَنَا الْبَائِسُ الْفَقِيرُ الْمُسْتَغِيثُ الْمُسْتَجِيرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْبِهِ، أَسْأَلُكَ مَسْأَلَةَ الْمِسْكِينِ وَأَبْتَهِلُ إِلَيْكَ ابْتِهَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِيلِ، وَأَدْعُوكَ دُعَاءَ الْخَائِفِ الضَّرِيرِ، مَنْ خَشَعَتْ لَكَ رَقَبَتُهُ، وَفَاضَتْ لَكَ عَيْنَاهُ، وَذَلَّ لَكَ جَسَدَهُ وَرَغِمَ أَنْفُهُ لَكَ، اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي بِدُعَائِكَ شَقِيًّا، وَكُنْ بِي رَءُوفًا رَحِيمًا يَا خَيْرَ الْمَسْئُولِينَ وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ»
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر جو دعائیں کیں ، ان میں سے ایک دعا :اللَّہُمَّ إِنَّکَ تَسْمَعُ کَلَامِی، وَتَرَی مَکَانِی، وَتَعْلَمُ سِرِّی وَعَلَانِیَتِی، لَا یَخْفَی عَلَیْکَ شَیْء ٌ مِنْ اَمْرِی، اَنَا الْبَائِسُ الْفَقِیرُ الْمُسْتَغِیثُ الْمُسْتَجِیرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْبِہِ، اَسْاَلُکَ مَسْاَلَۃَ الْمِسْکِینِ وَاَبْتَہِلُ إِلَیْکَ ابْتِہَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِیلِ، وَاَدْعُوکَ دُعَاء َ الْخَائِفِ الضَّرِیرِ، مَنْ خَشَعَتْ لَکَ رَقَبَتُہُ، وَفَاضَتْ لَکَ عَیْنَاہُ، وَذَلَّ لَکَ جَسَدَہُ وَرَغِمَ اَنْفُہُ لَکَ، اللَّہُمَّ لَا تَجْعَلْنِی بِدُعَائِکَ شَقِیًّا، وَکُنْ بِی رَء ُوفًا رَحِیمًا یَا خَیْرَ الْمَسْئُولِینَ وَیَا خَیْرَ الْمُعْطِینَ،اے اللہ!تو میری التجا سن رہا ہے اور میرے حال سے واقف ہے، اور تو میرے ظاہری و پوشیدہ اعمال کو خوب جانتا ہے، میری کوئی چیز بھی تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، میں پراگندہ حال، تیرے در کا فقیر، فریادی، پناہ گیر، لرزاں ، ترساں ، اپنے گناہوں کا اعتراف و اقرار کرنے والا، مسکینوں کی سی منت و سماجت کے ساتھ تجھ سے سوال کرتا اور حقیر و پُر تقصیر کی طرح عاجزی و انکساری کرتا ہوں ، اور خوف زدہ کور چشم کی مانندتجھ سے التجا کرتا ہوں- یہ ایسے شخص کی دعا ہے جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی، اور تیری بارگاہ میں اس کی آنکھیں برس رہی ہیں ، تیرا خوف اس پر طاری اور تیرے سامنے سراپائے انکساری ہے- اے اللہ! مجھے اپنی دعا کے ساتھ نامراد نہ لوٹانا۔اور اے سب سے بہتر مسئول (جس سے سوال کیا جائے) اور سب سے بہتر عطا کرنے والے! تو مجھ پر شفیق و مہربان ہوجا اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں-
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 877
