كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2161
2161 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا الطِّيبُ بْنُ سَلْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَةَ الْعَدَوِيَّةَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَشْرِ الْوُجُوهِ، وَعَنِ الْوَشْمِ، وَأَنْ يَجْعَلَ فِي الرَّأْسِ شَيْءٌ، وَلَا بَأْسَ بِالْجَبِينِ، وَنَهَى عَنِ النِّيَاحَةِ وَلَمْ يَلْعَنْهُنَّ، وَنَهَى أَنْ يَبْكِينَ قِيَامًا، وَأَنْ يَنْدُبْنَ، وَنَهَى أَنْ يُقْطَعَ الشَّعْرُ، وَنَهَى عَنْ صَكِّ الْوُجُوهِ وَخَمْشِهَا، وَلَا بَأْسَ أَنْ يَبْكِينَ قُعُودًا مَا لَمْ يَقُلْنَ هُجْرًا، وَنَهَى أَنْ تَتْبَعَ النِّسَاءُ الْجَنَائِزَ، وَقَالَ: «لَيْسَ لَهُنَّ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ»
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا چہرے کو مصنوعی طور پر سرخ کرنے سے ، جسم گودنے سے ،سر پر مصنوعی بال لگوانے سے ، ہاں البتہ پیشانی پر کچھ لگانے کی گنجائش ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے سے منع کیا اور ان پر لعنت نہیں کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر رونے سے منع کیا اور اسی طرح واویلہ کرنے سے منع فرمایا ، عورتوں کو بال کاٹنے سے منع کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ نوچنے اور چہرہ پیٹنے سے منع کیا ، ہاں البتہ بیٹھ کر رونے کی اجازت ہے جب تک اس میں آواز بلند نہ ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس میں عورتوں کے لیے کوئی اجر نہیں ہے ۔
قَشْرِ الْوُجُوهِ، ← عَائِشَةَ تَقُولُ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ ← عَمْرَةَ الْعَدَوِيَّةَ، تَقُولُ: ← الطَّيِّبُ بْنُ سَلْمَانَ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2161
