Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدُّنْيَا · حديث 2053

2053 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسَّالُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «لَا تَسُبُّوا الدُّنْيَا فَإِنَّ فِيهَا تُصَلُّونَ، وَفِيهَا تَصُومُونَ، وَفِيهَا تَعْمَلُونَ»

عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں :دنیا کو گالی نہ دو ، بلاشبہ تم دنیا میں نماز پڑھتے ہو ، اس میں تم روزے رکھتے ہو اور اس دنیا میں ہی تم دیگر اعمال صالحہ کرتے ہو ۔

«لَا تَسُبُّوا الدُّنْيَا فَإِنَّ فِيهَا تُصَلُّونَ، وَفِيهَا تَصُومُونَ، وَفِيهَا تَعْمَلُونَ» ← عَلِيًّا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أَبُو مَرْيَمَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسَّالُ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2053

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدِّيَكَةِ · حديث 2054

2054 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَجُلٌ دِيكًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا تَلْعَنْهُ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ»

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مرغ نے آواز بلند کی ،ایک شخص نے اس پر لعنت کی ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس پر لعنت نہ کرو ، یہ نماز کے لیے بلاتا ہے ۔

«لَا تَلْعَنْهُ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ» ← لَعَنَ رَجُلٌ دِيكًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِيِّ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إسحاق أنبا عبد الرزاق أنبا معمر

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2054

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدِّيَكَةِ · حديث 2055

2055 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبِّ الدِّيَكَةِ وَقَالَ: «إِنَّهُ يُؤَذِّنُ لِلصَّلَاةِ»

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغ کو گالی دینے سے منع فرمایا۔اور فرمایا:بلاشبہ یہ نماز کے لیے بلاتا ہے ۔

سَبِّ الدِّيَكَةِ وَقَالَ: «إِنَّهُ يُؤَذِّنُ لِلصَّلَاةِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2055

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْبَرَاغِيثِ · حديث 2056

2056 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَمَّارُ بْنُ هَارُونَ أَبُو يَاسِرٍ، ثنا سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا لَعَنَ بُرْغُوثًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلْعَنْهُ فَإِنَّهُ نَبَّهَ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لِلصَّلَاةِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کھٹمل پرلعنت کی ۔اس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کو گالی نہ دو ، اس نے اللہ کے نبیوں میں سے ایک نبی کو نماز کے لیے متنبہ کیا تھا ۔

أنسٍ، أن رجلاً لعن برغوثاً، ← قَتَادَةَ ← سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ، ← عَمَّارُ بْنُ هَارُونَ أَبُو يَاسِرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2056

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِسْبَالِ الْإِزَارِ وَالْخُيَلَاءِ · حديث 2057

2057 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالُوا: ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ثنا عَقِيلُ بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو جَرِيءٍ الْهُجَيْمِيُّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَجِبُ أَنْ تُعَلِّمَنَا عَمَلًا لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَنَا بِهِ، قَالَ: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَلَوْ أَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَوَجْهُكَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ، وَإِيَّاكَ أَنْ تُسْبِلَ الْإِزَارَ فَإِنَّهَا مِنَ الْخُيَلَاءِ، وَالْخُيَلَاءُ لَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا سَبَّكَ رَجُلٌ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تَسُبَّهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّ أَجْرَ ذَلِكَ لَكَ وَيَكُونُ عَلَيْهِ وَبَالُهُ»

ابو جری ہجیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !بلاشبہ میں ایک دیہاتی آدمی ہوں ، اس لیے یہ بات لازم ہے کہ آپ ہمیں کوئی تعلیم و تربیت دیں ، شاید کہ اللہ عزوجل اس کی وجہ سے ہمیں فائدہ پہنچا دے ۔رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نیکی والے کسی عمل کو حقیر اور کمتر نہ سمجھنا ، چاہے یہ نیکی ہی کیوں نہ ہو کہ تم اپنے پانی کے ڈول سے پانی طلب کرنے والے کے لیے کچھ پانی انڈیل دو ،چاہے یہ نیکی ہی ہو تم اپنے مسلمان بھائی سے بات کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے چہر ے کے ساتھ بات کرو ،فرمایا:اپنے کپڑا ،تہہ بند وغیر ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے پچنا ، بلا شبہ ایسا کرنا تکبر ہے اور تکبر اللہ عزوجل کو پسند نہیں ہے ۔فرمایا:اگر کوئی شخص تمہارے ان عیوب او رنقائص کو بیان کرکے جن کو وہ تمہارے بارے میں جانتا ہے تمہیں گالی دیتا ہے ، تم بھی اس کے عیوب سے واقف ہو اس کے باوجود تم اس کو جواب میں گالی نہ دو ، اس پر تمہارے لیے اجر ہے اور اس کے لیے وبال ۔

قُلْتُ ← أَبُو جَرِيءٍ الْهُجَيْمِيُّ، ← عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ التَّمَّارُ، ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2057

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِسْبَالِ الْإِزَارِ وَالْخُيَلَاءِ · حديث 2058

2058 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ أَبُو الْخَلِيلِ، ثنا عُبَيْدَةُ الْهُجَيْمِيُّ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَرِيءٍ جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكِبْتُ قَعُودًا لِي فَأَتَيْتُ مَكَّةَ فِي طَلَبِهِ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ صَلَّى اللَّهُ عَلّيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» فَقُلْتُ: إِنَّا مَعْشَرَ أَهْلِ الْبَادِيَةِ قَوْمٌ مِنَّا الْجَفَا فَعَلِّمْنِي كَلَامًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ تَعَالَى بِهِ قَالَ: «اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ شَيْئًا وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهُ مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْمُخْتَالَ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتَ إِسْبَالَ الْإِزَارِ قَدْ يَكُونُ بِسَاقِ الرَّجُلِ الْقَرْحُ أَوِ الشَّيْءُ يَسْتَحْيِي مِنْهُ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ أَوِ الْكَعْبَيْنِ إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَبِسَ بُرْدَةً فَتَبَخْتَرَ فِيهَا وَنَظَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ فَمَقَتَهُ فَأَمَرَ الْأَرْضَ فَأَخَذَتْهُ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ بَيْنَ الْأَرْضِ فَاحْذَرُوا مَقْتَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

ابو جری ہجیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک قافلے کے ساتھ سفر کے لیے روانہ ہوا ، میں مکہ میں پہنچا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتے ہوئے ،آپ بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے کہا :السلام علیک یارسول اللہ !(اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سلامتی ہو )آپ نے میرے سلام کا جواب دیا ۔ میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !بلاشبہ میں ایک دیہاتی آدمی ہوں ، اس لیے ہمارے مزاج میں سختی ہے ، آپ ہمیں کوئی تعلیم و تربیت دیں ، شاید کہ اللہ عزوجل اس کی وجہ سے ہمیں فائدہ پہنچا دے ۔رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو ، فرمایا:نیکی والے کسی عمل کو حقیر اور کمتر نہ سمجھنا ،فرمایا:اپنے کپڑا ،تہہ بند وغیر ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے پچنا ، بلا شبہ ایسا کرنا تکبر ہے اور تکبر اللہ عزوجل کو پسند نہیں ہے ۔میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے تہہ بند کا ذکر کیا ہے ،بعض دفعہ چادر آدھی پنڈلی تک یا اس سے کچھ اوپر یا کچھ نیچے ہوتی ہے ، جس سے انسان حیا محسوس کرتا ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آذھی پنڈلی تک یا ٹخنو ں تک رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔آپ نے فرمایا:تم سے پہلی قوموں میں ایک لباس پہنا اور اس لباس میں فخر او ر تکبر انہ انداز اختیار کیا ۔ اللہ عزوجل نے اپنے عرش کے اوپر اس کی طرف دیکھا ، اللہ تعالیٰ اس پر شدید غضبناک ہوا ، اللہ نے زمین کو حکم دیا ، زمین نے اس کو پکڑ لیا ، وہ زمین میں دھنستا چلا جارہا ہے ۔اللہ عزوجل کے غصے سے ڈرتے رہو ۔

أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ← عُبَيْدَةَ الْهُجَيْمِيَّ ← عَبْدُ السَّلَامِ أَبُو الْخَلِيلِ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2058

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِسْبَالِ الْإِزَارِ وَالْخُيَلَاءِ · حديث 2059

2059 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُو يَحْتَبِي بِشَمْلَةٍ قَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمِهِ فَقُلْتُ: أَيُّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ؟ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى نَفْسِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ وَفِيَّ جَفَاؤُهُمْ فَأَوْصِنِي قَالَ: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَوَجْهُكَ مُنْبَسِطٌ، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تَشْتُمْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّهُ يَكُونُ لَكَ أَجْرُهُ وَعَلَيْهِ وِزْرُهُ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّ إِسْبَالَ الْإِزَارِ مِنَ الْمَخِيلَةِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَلَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا» فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ أَحَدًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا

ابو جری ہجیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضرت جابربن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کو اپنے جسم کے گرد لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے ، آپ کی چادر کا پلو آپ کے قدموں میں گراہوا تھا ، میں نے کہا :تم میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں ؟اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف اشارہ کیا ، میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !بلاشبہ میں ایک دیہاتی آدمی ہوں ، اس لیے ہمارے مزاج میں سختی ہے ، آپ مجھے کوئی نصیحت فرمادیں ،رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نیکی والے کسی عمل کو حقیر اور کمتر نہ سمجھنا ، چاہے یہ نیکی ہی ہو تم اپنے مسلمان بھائی سے بات کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے چہر ے کے ساتھ بات کرو ،چاہے یہ نیکی ہی کیوں نہ ہو کہ تم اپنے پانی کے ڈول سے پانی طلب کرنے والے کے لیے کچھ پانی انڈیل دو ،فرمایا:اگر کوئی شخص تمہارے ان عیوب او رنقائص کو بیان کرکے جن کو وہ تمہارے بارے میں جانتا ہے تمہیں گالی دیتا ہے ، تم بھی اس کے عیوب سے واقف ہو اس کے باوجود تم اس کو جواب میں گالی نہ دو ،فرمایا:اپنے کپڑا ،تہہ بند وغیر ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے پچنا ، بلا شبہ ایسا کرنا تکبر ہے اور تکبر اللہ عزوجل کو پسند نہیں ہے ۔فرمایا:کبھی کسی کو گالی نہ دینا ، کہتے ہیں :میں نے اس کے بعد کبھی کسی کو گالی نہیں دی ، یہاں تک کہ کسی بکری اور اونٹ کو بھی برا بھلا نہیں کہا ۔

جَابِرُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ← عُبَيْدَةَ الْهُجَيْمِيَّ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2059

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِسْبَالِ الْإِزَارِ وَالْخُيَلَاءِ · حديث 2060

2060 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْمُثَنَّى أَبِي غِفَارٍ، ثنا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، عَنْ أَبِي جُرَيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ، عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» قُلْتُ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنَا رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ خَبَرٌ دَعَوْتَهُ فَكَشَفَ عَنْكَ، وَإِذَا أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَسْهَلَ لَكَ» قُلْتُ: اعْهَدْ إِلَيَّ عَهْدًا قَالَ: «لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا، وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ وَإِنْ تُكَلِّمْ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهُ مِنَ الْمَخِيلَةِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تَشْتُمْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ»

ابو جری ہجیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان الفاظ میں سلام کہا:علیک السلام یارسول اللہ !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم یہ نہ کہو علیک السلام، علیک السلام یہ تو فوت شدہ لوگوں کا تحفہ ہے ، اس کی جگہ تم یہ کہو :السلام علیکم ، میں نے کہا:آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ؟آپ نے فرمایا:میںاس اللہ کا رسول ہوں کہ اگر تمہیں مصیبت لاحق ہو ، تم اس کو پکارو تو وہ اللہ تم سے آفت و مصیبت کو دور کردے ، جب تم قخط سالی میں مبتلا ہوجائو ، اس کو پکارو تو وہ اللہ تمہارے لیے آسانیاں پیدا کردے ، میں نے عرض کیا :آپ مجھے کوئی نصیحت کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کبھی کسی کو گالی نہ دینا ،نیکی والے کسی عمل کو حقیر اور کمتر نہ سمجھنا ،چاہے یہ نیکی ہی ہو تم اپنے مسلمان بھائی سے بات کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے چہر ے کے ساتھ بات کرو،فرمایا:اپنے کپڑا ،تہہ بند وغیرہ کوآدھی پنڈلی تک بلند رکھنا ، اگر یہ نہ کرسکو تو ٹخنوں تک اونچا رکھنا ،اپنے کپڑا ،تہہ بند وغیرہ کو نیچے لٹکانے پچنا ، بلا شبہ ایسا کرنا تکبر ہے اور تکبر اللہ عزوجل کو پسند نہیں ہے اورفرمایا:اگر کوئی شخص تمہارے ان عیوب او رنقائص کو بیان کرکے جن کو وہ تمہارے بارے میں جانتا ہے تمہیں گالی دیتا ہے ، تم بھی اس کے عیوب سے واقف ہو اس کے باوجود تم اس کو جواب میں گالی نہ دو ، اس پر تمہارے لیے اجر ہے اور اس کے لیے وبال ۔

قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ ← أَبِي جُرَيٍّ، ← أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، ← الْمُثَنَّى أَبِي غِفَارٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2060

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِسْبَالِ الْإِزَارِ وَالْخُيَلَاءِ · حديث 2061

2061 - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا سَالِمٌ أَبُو الْجَمِيعِ، ثنا رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَوْتُ بِرَاحِلَتِي فَقُلْتُ: لَآتِيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ، فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ قَاعِدًا مُحْتَبِيًا فِي بُرْدَةٍ فَسَمِعْتُهُ يَرُدُّ عَلَى السَّائِلِ: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَصُبَّ مِنْ فَضْلِ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ أَوْ قَالَ لَكَ مَا لَيْسَ فِيكَ فَلَا تَشْتُمْهُ وَلَا تَقُلْ لَهُ مَا لَيْسَ فِيهِ؛ فَيَكُونُ لَكَ أَجْرُهُ وَعَلَيْهِ وَبَالُهُ، وَلَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا» فَمَا سَبَبْتُ شَيْئًا بَعِيرًا وَلَا شَاةً وَلَا إِنْسَانًا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّبِّ

حضرت جابربن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سنا،میں نے اپنی سواری منگوائی ، میں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور حاضر ہوں گا اور آپ کی باتیں سنوں گا ، چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضرہوا ، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بیٹھے ہوئے تھا اور آپ نے اپنی چادر کو اپنے جسم کے گرد لپیٹا ہوا تھا ، میں نے آپ کو سوالات کے جوابات دیتے ہوئے سنا ،آپ نے فرمارہے تھے :نیکی والے کسی عمل کو حقیر اور کمتر نہ سمجھنا ،چاہے یہ نیکی ہی کیوں نہ ہو کہ تم اپنے پانی کے ڈول سے پانی طلب کرنے والے کے لیے کچھ پانی انڈیل دو،فرمایا:اپنے کپڑا ،تہہ بند وغیر ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے پچنا ، بلا شبہ ایسا کرنا تکبر ہے اور تکبر اللہ عزوجل کو پسند نہیں ہے ،اگر کوئی شخص تمہارے ان عیوب او رنقائص کو بیان کرکے جن کو وہ تمہارے بارے میں جانتا ہے تمہیں گالی دیتا ہے ، تم بھی اس کے عیوب سے واقف ہو اس کے باوجود تم اس کو جواب میں گالی نہ دو ، اس پر تمہارے لیے اجر ہے اور اس کے لیے وبال ۔:کبھی کسی کو گالی نہ دینا ، کہتے ہیں :میں نے اس کے بعد کبھی کسی کو گالی نہیں دی ، یہاں تک کہ کسی بکری اور اونٹ کو بھی برا بھلا نہیں کہا ۔جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گالی سے منع کے بارے میں سنا ۔

سليم بن جابر ← أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ← زَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ، ← سَالِمٌ أَبُو الْجَمِيعِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2061

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى · حديث 2062

2062 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَمْوَاتَنَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا»

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہمارے فوت شدگان کو برا بھلا نہ کہا کرو ، ایسا کرنے سے تم ہمارے زندہ مسلمانوں کو اذیت دیتے ہو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2062

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى · حديث 2063

2063 - حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ، عَنْ صَخْرٍ، وَقَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ»

حضرت صخر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہمارے فوت شدگان کو برا بھلا نہ کہا کرو ، ایسا کرنے سے تم ہمارے زندہ مسلمانوں کو اذیت دیتے ہو۔

صَخْرٍ، وَقَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ ← عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2063

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى · حديث 2064

2064 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہمارے فوت شدگان کو برا بھلا نہ کہا کرو ،وہ اپنے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ حاصل کر چکے ہیں ۔

عَائِشَةَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ← أَبُو مُسْلِمٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2064

chevron_left Previous
1…171172173…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter