كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 193
193 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، قَالُوا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَرْتَادُونَ لِأَهْلِيهِمْ فَأَصَابَتْهُمُ السَّمَاءُ فَلَجَأُوا إِلَى جَبَلٍ أَوْ إِلَى كَهْفٍ فَوَقَعَ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: وَقَعَ الْحَجَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ وَلَا يَعْلَمُ مَكَانَكُمْ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ادْعُوا بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: كَانَ لِي وَالِدَانِ وَكُنْتُ أَحْلُبُ لَهُمَا فِي إِنَاءَيْهِمَا فَإِذَا أَتَيْتُهُمَا وَهُمَا نَائِمَانِ قُمْتُ قَائِمًا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مَتَى اسْتَيْقَظَا وَكَرِهْتُ أَنْ تَدُورَ سِنَتُهُمَا فِي رُءُوسِهِمَا، فَإِذَا اسْتَيْقَظَا شَرِبَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَتْ لِي امْرَأَةٌ تُعْجِبُنِي فَأَرَدْتُهَا فَأَبَتْ أَنْ تُمَكِّنَنِي مِنْ نَفْسِهَا حَتَّى جَعَلْتُ لَهَا جُعْلًا، فَلَمَّا أَخَذَتْ جُعْلَهَا وَاسْتَقَرَّتْ بِنَفْسِهَا تَرَكْتُهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَزَالَ ثُلُثَا الْحَجَرِ الْآخَرُ، وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا يَعْمَلُ لِي يَوْمًا فَعَمِلَ ثُمَّ جَاءَ يَطْلُبُ أَجْرَهُ فَأَعْطَيْتُهُ فَلَمْ يَأْخُذْهُ وَتَسَخَّطَ فَوَفَّرْتُهُ عَلَيْهِ حَتَّى صَارَ مِنْ كُلِّ الْمَالِ، ثُمَّ جَاءَ يَطْلُبُ أَجْرَهُ، فَقُلْتُ: خُذْ هَذَا كُلَّهُ، وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلَّا أَجْرَهُ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَخَرَجُوا يَتَمَاشَوْنَ "
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی اُمت کے تین لوگ بارش کے موسم میں سفر کررہے تھے ، ان کو ایک غار نظر آیا، انہوں نے آپس میں طے کیا کہ کچھ وقت کے لیے اس میں پناہ حاصل کرتے ہیں ،چنانچہ وہ اس غار میں داخل ہوگئے ، اسی دوران ،پہاڑ کی چوٹی سے اللہ کے ڈر کی وجہ سے ایک پتھر لڑھکتا ہوا آیا اور اس نے غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ ہم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن واپس آنے میں مجھے تاخیر ہوگئی ، جب میں واپس لوٹا تووہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اورمیں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں کھڑا رہا ، جب وہ بیدار ہوئے تب انہوں نے دودھ نو ش کیا ۔ اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیرے ڈر اور تیری رضامندی کی خاطر کیا ہے تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما،دوسرے نے کہا:اے اللہ!تو جانتا ہے کہ میں ایک عورت کو پسند کرتا تھا ، میں نے اس کیساتھ شب بسری کے لیے اس رقم دی ،جب ہم تنہائی میں ہوئے ، اس پر قدرت پانے کے بعد میں نے اسے چھوڑ دیا اور وہ رقم بھی اس کو دے دی ۔اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیرے ڈر سے اورتیری رضاجوئی کے لیے کیا توہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما،اس کی دعا پر وہ پتھر ایک تہائی ہٹ گیا ،تیسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی، مگر ایک آدمی ان میں سے ایک ناراض ہوگیا ،وہ اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے!میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے کہا:یہ سار ڈھیریہ تمام تیری مزدوری ہے ، یہ لے جائو ۔ اس نے کہا:اے اللہ کے بندے!میرا مذاق مت اُڑا۔ میں نے کہا:میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ چنانچہ وہ سارا مال لے گیا ۔اگر میں چاہتا تو اس کی صرف وہی مزدوری اس کو دیتا جو اصل رقم تھی تو میں ایسا کرسکتا تھا۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گیا ۔ چنانچہ وہ چٹان اس جگہ سے سرک گئی اندرآسانی سے چلتے ہوئے باہر نکل گئے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 193
