Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 193

193 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، قَالُوا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَرْتَادُونَ لِأَهْلِيهِمْ فَأَصَابَتْهُمُ السَّمَاءُ فَلَجَأُوا إِلَى جَبَلٍ أَوْ إِلَى كَهْفٍ فَوَقَعَ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: وَقَعَ الْحَجَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ وَلَا يَعْلَمُ مَكَانَكُمْ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ادْعُوا بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: كَانَ لِي وَالِدَانِ وَكُنْتُ أَحْلُبُ لَهُمَا فِي إِنَاءَيْهِمَا فَإِذَا أَتَيْتُهُمَا وَهُمَا نَائِمَانِ قُمْتُ قَائِمًا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مَتَى اسْتَيْقَظَا وَكَرِهْتُ أَنْ تَدُورَ سِنَتُهُمَا فِي رُءُوسِهِمَا، فَإِذَا اسْتَيْقَظَا شَرِبَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَتْ لِي امْرَأَةٌ تُعْجِبُنِي فَأَرَدْتُهَا فَأَبَتْ أَنْ تُمَكِّنَنِي مِنْ نَفْسِهَا حَتَّى جَعَلْتُ لَهَا جُعْلًا، فَلَمَّا أَخَذَتْ جُعْلَهَا وَاسْتَقَرَّتْ بِنَفْسِهَا تَرَكْتُهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَزَالَ ثُلُثَا الْحَجَرِ الْآخَرُ، وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا يَعْمَلُ لِي يَوْمًا فَعَمِلَ ثُمَّ جَاءَ يَطْلُبُ أَجْرَهُ فَأَعْطَيْتُهُ فَلَمْ يَأْخُذْهُ وَتَسَخَّطَ فَوَفَّرْتُهُ عَلَيْهِ حَتَّى صَارَ مِنْ كُلِّ الْمَالِ، ثُمَّ جَاءَ يَطْلُبُ أَجْرَهُ، فَقُلْتُ: خُذْ هَذَا كُلَّهُ، وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلَّا أَجْرَهُ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَخَرَجُوا يَتَمَاشَوْنَ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی اُمت کے تین لوگ بارش کے موسم میں سفر کررہے تھے ، ان کو ایک غار نظر آیا، انہوں نے آپس میں طے کیا کہ کچھ وقت کے لیے اس میں پناہ حاصل کرتے ہیں ،چنانچہ وہ اس غار میں داخل ہوگئے ، اسی دوران ،پہاڑ کی چوٹی سے اللہ کے ڈر کی وجہ سے ایک پتھر لڑھکتا ہوا آیا اور اس نے غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ ہم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن واپس آنے میں مجھے تاخیر ہوگئی ، جب میں واپس لوٹا تووہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اورمیں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں کھڑا رہا ، جب وہ بیدار ہوئے تب انہوں نے دودھ نو ش کیا ۔ اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیرے ڈر اور تیری رضامندی کی خاطر کیا ہے تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما،دوسرے نے کہا:اے اللہ!تو جانتا ہے کہ میں ایک عورت کو پسند کرتا تھا ، میں نے اس کیساتھ شب بسری کے لیے اس رقم دی ،جب ہم تنہائی میں ہوئے ، اس پر قدرت پانے کے بعد میں نے اسے چھوڑ دیا اور وہ رقم بھی اس کو دے دی ۔اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیرے ڈر سے اورتیری رضاجوئی کے لیے کیا توہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما،اس کی دعا پر وہ پتھر ایک تہائی ہٹ گیا ،تیسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی، مگر ایک آدمی ان میں سے ایک ناراض ہوگیا ،وہ اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے!میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے کہا:یہ سار ڈھیریہ تمام تیری مزدوری ہے ، یہ لے جائو ۔ اس نے کہا:اے اللہ کے بندے!میرا مذاق مت اُڑا۔ میں نے کہا:میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ چنانچہ وہ سارا مال لے گیا ۔اگر میں چاہتا تو اس کی صرف وہی مزدوری اس کو دیتا جو اصل رقم تھی تو میں ایسا کرسکتا تھا۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گیا ۔ چنانچہ وہ چٹان اس جگہ سے سرک گئی اندرآسانی سے چلتے ہوئے باہر نکل گئے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 193

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 194

194 - حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا دَاهِرُ بْنُ نُوحٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ رَهْطًا ثَلَاثَةً انْطَلَقُوا فَأَصَابَتْهُمْ سَمَاءٌ فَلَجَأُوا إِلَى غَارٍ فَبَيْنَمَا هُمْ فِيهِ إِذِ انْفَلَتَتْ صَخْرَةٌ مِنْ قِمَّةِ الْجَبَلِ تَدَهْدَهُ حَتَّى ضَمَّتْ عَلَى بَابِ الْغَارِ فَقَالَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: كَفَّ الْمَطَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ وَلَمْ يَرَكُمْ أَحَدٌ سِوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلْيَنْظُرْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ أَفْضَلَ عَمَلٍ عَمِلَهُ قَطُّ فَلْيَذْكُرْهُ، ثُمَّ لِيَدْعُ اللَّهَ تَعَالَى فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ بَارًّا بِوَالِدَيَّ وَأَنِّي كُنْتُ آتِيهِمَا بِغَبُوقِهِمَا فَأَغْبِقُهُمَا وَأَنِّي أَتَيْتُهُمَا لَيْلَةً بِغَبُوقِهِمَا فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ دَخَلَا مَضَاجِعَهُمَا وَنَامَا، فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا، وَكَرِهْتُ أَنْ أَرْجِعَ بِغَبُوقِهِمَا مِنْ قَبْلِ أَنْ أَغْبِقَهُمَا، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ مَخَافَتُكَ فَافْرُجْ عَنَّا، قَالَ: فَقَالَتِ الصَّخْرَةُ، فَتَفَرَّجَتْ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِمُ الضَّوْءُ، فَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي طَلَبْتُ امْرَأَةً وَهَوِيتُهَا وَأَنْفَقْتُ مَالِي فِيهَا حَتَّى إِذَا ظَفِرْتُ بِهَا وَقَعَدْتُ مِنْهَا مَقْعَدَ الرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ قَالَتْ: أَيْ إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَفُضَّ خَاتَمِي إِلَّا بِحَقِّهِ، فَقُمْتُ عَنْهَا فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ إِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ مَخَافَتُكَ فَافْرُجْ عَنَّا فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ حَتَّى لَوْ شَاءَ الْقَوْمُ أَنْ يَخْرُجُوا لَخَرَجُوا، فَقَالَ آخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أُجَرَاءَ فَعَمِلُوا لِي عَمَلًا فَوَفَّيْتُهُمْ أُجُورَهُمْ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا تَرَكَ أَجْرَهُ حَتَّى كَانَ مِنْهُ أَضْعَافُ الْمَالِ، فَجَاءَ بَعْدُ يَطْلُبُ أَجْرَهُ فَقُلْتُ لَهُ: هَاكَ دُونَكَ تَمَامُ أَجْرِكَ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ مَا حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ مَخَافَتُكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَقَالَتِ الصَّخْرَةُ فَتَدَهْدَهَتْ فَانْطَلَقُوا مُعَانِقِينَ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی اُمت کے تین لوگ سفر کررہے تھے ،اسی دوران موسلا دھار بارش شروع ہوئی ،انہوں نے ایک غار میں پناہ لی ،،وہ اس غار میں داخل ہوگئے ، اسی دوران ،پہاڑ کی چوٹی سے اللہ کے ڈر کی وجہ سے ایک پتھر لڑھکتا ہوا آیا اور اس نے غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے بارش کے تھمنے کی انتظار کیا ، جب بارش رْکی تو وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں:بارش تم چکی ،راستے صاف ہوچکے ،ہمیں اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ ہم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن واپس آنے میں مجھے تاخیر ہوگئی ، جب میں واپس لوٹا تووہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اورمیں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں کھڑا رہا ،یہاں تک کہ صبح ہوگئی ۔ اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیرے ڈر اور تیری رضامندی کی خاطر کیا ہے تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما،وہ پتھر اپنی جگہ قدرے سرک گیا ،روشنی اندر آنے لگی لیکن نکلنے کے لیے جگہ ناکافی تھی ۔دوسرے نے کہا:اے اللہ!تو جانتا ہے کہ میں ایک عورت کو پسند کرتا تھا ، میں نے اس کیساتھ شب بسری کے لیے اس رقم دی ،جب ہم تنہائی میں ہوئے ،جب میں نے اس پر قدرت پالی تو اس نے مجھے کہا:یہ تمہارا حق نہیں ہے ، اس لیے اس کو اس کے حقدار کے لیے چھوڑ دو ،اسے چھوڑ دیا اور وہ رقم بھی اس کو دے دی ۔اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیرے ڈر سے اورتیری رضاجوئی کے لیے کیا توہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما،اس کی دعا پر وہ پتھروہاں ہٹ گیا اگر وہ لوگ وہاں سے نکلنا چاہتے تو نکل سکتے تھے ۔تیسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی، مگر ایک آدمی ان میں سے ایک ناراض ہوگیا ،وہ اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے!میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے کہا:یہ سار ڈھیریہ تمام تیری مزدوری ہے ، یہ لے جائو ۔اگر میں چاہتا تو اس کی صرف وہی مزدوری اس کو دیتا جو اصل رقم تھی تو میں ایسا کرسکتا تھا۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گیا ۔ چنانچہ وہ چٹان اس جگہ سے سرک گئی اندرآسانی سے چلتے ہوئے باہر نکل گئے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ ← دَاهِرُ بْنُ نُوحٍ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 194

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 195

195 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ، أَنَّ أَبَا سَلْمَى الْقِتْبَانِيَّ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، رَضِيَ [ص:80] اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ خَرَجُوا يَرْتَادُونَ لِأَهْلِيهِمْ فَأَصَابَهُمُ الْمَطَرُ، فَأَوَوْا تَحْتَ صَخْرَةٍ، فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالُوا: إِنَّهُ لَا يُنْجِيكُمْ مِنْ هَذَا إِلَّا الصِّدْقُ فَلْيَدْعُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِأَفْضَلَ عَمَلٍ عَمِلَهُ فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ حَسْنَاءُ جَمْلَاءُ فَأَرَدْتُهَا عَلَى نَفْسِهَا فَامْتَنَعَتْ عَلَيَّ، ثُمَّ إِنَّهُ أَصَابَنَا سَنَةٌ فَعَرَضْتُ عَلَيْهَا أَنْ أُعْطِيَهَا مِائَةَ دِينَارٍ وَتُمَكِّنَنِي مِنْ نَفْسِهَا، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ، فَلَمَّا كُنْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا أَخَذَتْهَا رِعْدَةٌ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَتَرَكْتُهَا وَتَرَكْتُ لَهَا الْمِائَةَ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ هَذَا ابْتِغَاءَ رِضْوَانَكَ وَاتِّقَاءَ سَخَطِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ حَتَّى رَأَوْا مِنْهَا الضَّوْءَ، ثُمَّ قَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي أَبَوَانِ كَبِيرَانِ وَكَانَتْ لِي غَنَمٌ أَرْعَاهَا عَلَيْهِمَا فَكُنْتُ إِذَا رُحْتُ بِهَا جِئْتُهُمَا فَبَدَأْتُ بِهِمَا قَبْلَ وَلَدِي وَأَهْلِي فَنَآنِي الشَّجَرُ يَوْمًا، فَجِئْتُ وَقَدْ نَامَا فَحَلَبْتُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُ بِالْإِنَاءِ إِلَيْهِمَا فَوَقَفْتُ عَلَيْهِمَا وَهُمَا نَائِمَانِ وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَكَرِهْتُ أَنْ أَبْدَأَ بِصَبِيَّتِي قَبْلَهُمَا، فَلَمْ أَزَلْ وَاقِفًا عَلَيْهِمَا حَتَّى انْفَجَرَ الْفَجْرُ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي صَنَعْتُ هَذَا ابْتِغَاءَ رِضَاكَ وَاتِّقَاءَ سَخَطِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَانْصَدَعَتِ الصَّخْرَةُ صَدْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ قَالَ الثَّالِثُ: كُنْتُ فِي غَنَمٍ أَرْعَاهَا فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقُمْتُ أُصَلِّي فَجَاءَ الذِّئْبُ فَدَخَلَ الْغَنَمَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ صَلَاتِي فَصَبَرْتُ حَتَّى فَرَغْتُ مِنْ صَلَاتِي، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ وَاتِّقَاءَ سَخَطِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، قَالَ فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ " قَالَ عُقْبَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْكِيهَا حِينَ انْفَرَجَتْ قَالَتْ: طَاقْ، فَخَرَجُوا مِنْهَا

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلی اُمت کے تین آدمی معاش کے لیے سفر پر نکلے ، دوران سفرموسلا دھار بارش ہوئی ، انہوں نے بارش سے بچنے کے لیے غار میں پناہ حاصل کی ،اس دوران پہاڑ سے ایک پتھر نے لڑھک کر غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ تم اپنی زدگی میں کیے سب سے اچھے اور صالح عمل کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!میری ایک چچازاد بہن تھی، وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے اس سے اپنی نفسانی خواہش پورا کرنے کا اظہار کیا، مگر وہ اس پر آمادہ نہ ہوئی، یہاں تک کہ قحط سالی کا ایک سال پیش آیا جس میں وہ میرے پاس آئی، میں نے اس کو ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ اپنے نفس پر مجھے قابو دے گی، اس نے آمادگی ظاہر کی اور قابو دیا۔ جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا: تو اللہ سے ڈر!اور اس مہر کو ناحق وناجائز طور پر مت توڑ۔ چنانچہ میں اس فعل سے باز آگیا، حالانکہ مجھے اس سے بہت محبت بھی تھی اور میں نے وہ ایک سو بیس دینار اس کو ہبہ کردیئے۔ یا اللہ! اگر میں نے یہ کام خالص تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما، جس میں ہم مبتلا ہیں۔ چنانچہ چٹان کچھ اور سرک گئی، مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ دوسرے نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن لکڑی کی تلاش میں میں بہت دور نکل گیا، جب شام کو واپس لوٹا تو وہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اور ان سے پہلے اہل وعیال وخدام کو دودھ دینابھی پسند نہ کیا۔ میں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں طلوعِ فجر تک ٹھہرا رہا، حالانکہ بچے میرے قدموں میں بھوک سے بلبلاتے تھے۔ اسی حالت میں فجر طلوع ہوگئی، وہ دونوں بیدار ہوئے اور اپنے شام کے حصہ والا دودھ نوش کیا۔ اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیری رضامندی کی خاطر کیا تو تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما، چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی، مگر ابھی غار سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ تیسرے نے کہا:اے اللہ!میں اپنی بکریوں کو چرا رہا تھا ، اسی دوران نماز کا وقت ہوا ، میں اٹھا اور میں نے نما زپڑھنا شروع کی ، میری نماز کے دوران بھیڑیا آگیا،وہ بکریوں میں داخل ہوگیا ، میں نے نماز کو توڑنا مناسب نہ سمجھا ، میں نے صبر کیا ، یہاں تک کہ میں نے اپنی نماز مکمل کی ۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ پھر کیا تھا چٹان ہٹ گئی اور تینوں باہر نکل گئے۔

يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ ابْنُ لَهِيعَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 195

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 196

196 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جُنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ التَّغْلِبِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُرَادِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ [ص:81]: " خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ فَبَيْنَمَا هُمْ يَعْبُدُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَوَوْا إِلَى كَهْفٍ فَخَرَّتْ صَخْرَةٌ مِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ حَتَّى الْتَقَمَتْ بَابَ الْغَارِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: يَا عِبَادَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَا يُنْجِيكُمْ مِمَّا وَقَعْتُمْ فِيهِ إِلَّا أَنْ تَصْدُقُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَهَاتُوا مَا عَمِلْتُمْ خَالِصًا فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ بِالذُّنُوبِ، فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي طَلَبْتُ حَبِيبَةً لِحُسْنِهَا وَجَمَالِهَا وَأَعْطَيْتُ فِيهَا مَالًا ضَخْمًا حَتَّى إِذَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا وَجَلَسْتُ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ ذَكَرْتُ النَّارَ فَقُمْتُ عَنْهَا فَرَقًا مِنْكَ، اللَّهُمَّ ارْفَعْ عَنَّا هَذِهِ الصَّخْرَةَ فَانْصَدَعَتْ حَتَّى إِذَا نَظَرُوا إِلَى الضَّوْءِ، ثُمَّ قَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ قَوْمًا يَحْرُثُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِنِصْفِ دِرْهَمٍ فَلَمَّا فَرَغُوا أَعْطَيْتُهُمْ أُجُورَهُمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَمِلْتُ عَمَلَ اثْنَيْنِ وَاللَّهِ لَا آخُذُ إِلَّا دِرْهَمًا، فَذَهَبَ وَتَرَكَ مَا فِي يَدِي، فَبَذَرْتُ مِنْ ذَلِكَ النِّصْفِ دِرْهَمٍ، فَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَلِكَ رِزْقًا كَثِيرًا، فَجَاءَ صَاحِبُ النِّصْفِ دِرْهَمٍ فَأَرَادَهُ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ عَشْرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ خَوْفًا مِنْكَ فَارْفَعْ عَنَّا هَذِهِ الصَّخْرَةَ، فَانْفَرَجَتْ حَتَّى نَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ أَبِي وَأُمِّي كَانَا نَائِمَيْنِ فَأَتَيْتُهُمَا بِقَعْبٍ مِنْ لَبَنٍ فَخِفْتُ أَنْ أَضَعَهُ فَتَقَعُ فِيهِ هَامَةٌ وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا فَيَشُقُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمَا فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى اسْتَيْقَظَا فَشَرِبَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ هَذَا ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا هَذِهِ الصَّخْرَةَ، قَالَ: فَانْفَرَجَتْ حَتَّى سَهُلَ لَهُمْ طَرِيقُهُمْ حَتَّى خَرَجُوا سَالِمِينَ " ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَدَقَ اللَّهَ نَجَا»

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلی اُمت کے تین آدمی سفر کررہے تھے۔ عبادت کرنے کے لیے وہ لوگ ایک غار میں چلے گئے ،اسی دوران پہاڑ سے ایک پتھر نے لڑھک کر غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ تم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرو۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!میں نے حسین و جمیل عورت کو تلاش کیا ، اس کو میں نے بیش بہا ما ل بھی دیا ، جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے مجھے جہنم کی آگ سے ڈرایا ، میں تیرے خوف کی وجہ سے وہاں سے اٹھ گیا ،اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما، جس میں ہم مبتلا ہیں۔ چنانچہ چٹان کچھ سرک گئی،وہاں اندر روشنی آنے لگی مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ دوسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے ان کے ساتھ آدھا دینار مزدوری طے کی ، کام سے فارغ ہونے پر ان کی ان کی طے شدہ مزودری دے دی، مگران میں سے ایک مزدور نے کہا:تم نے کام دو مزدوروں کے برابر لیا جبکہ مزدوری ایک بندے کے حساب سے دے رہے ہو ، وہ اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے!میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے دس ہزار دینار دئیے ۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ چنانچہ چٹان کچھ مزید سرک گئی،وہاں مزید روشنی آنے لگی مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ تیسرے نے کہا:اے اللہ!تو جانتا ہے کہ میرے والدین بہت بوڑھے تھے، دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اورمیں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں کھڑا رہا ،یہاں تک کہ وہ خود بیدار ہوئے اور انہوں نے دودھ نوش کیا ۔ اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیری رضامندی کی خاطر کیا تو تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما، چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی اور تینوں باہر نکل گئے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُرَادِيِّ، ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ، كِلَاهُمَا ← جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ التَّغْلِبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← مُفَضَّلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 196

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 197

197 - حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنْبَأَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَرْتَادُونَ لِأَهْلِيهِمْ مَنْزِلًا فَأَوَاهُمُ الْمَبِيتُ إِلَى غَارٍ، فَدَخَلُوا فَانْحَدَرَتْ عَلَيْهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ، فَسَدَّتْ عَلَيْهِمُ الْغَارَ فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَا يُنْجِيكُمْ مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ إِلَّا أَنْ تَدْعُوا بِصَالِحِ أَعْمَالِكُمْ، قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمُ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ فَكُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلِي وَلَا مَالِي، وَإِنِّي طَلَبْتُ الشَّجَرَ يَوْمًا - يَعْنِي الْمَرْعَى - فَلَمْ أُرِحْ عَلَيْهِمَا حَتَّى نَامَا، فَحَلَبْتُ لَهُمَا غَبُوقَهُمَا وَجِئْتُهُمَا بِهِ فَوَجَدْتُهُمَا نَائِمَيْنِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَغْبِقَ قَبْلَهُمَا أَهْلِي وَمَالِي، فَقُمْتُ وَالْقَدَحُ عَلَى يَدِي أَنْتَظِرُ اسْتِيقَاظَهُمَا فَلَمْ يَسْتَيْقِظَا حَتَّى بَزَقَ الْفَجْرُ، فَاسْتَيْقَظَا فَشَرِبَا غَبُوقَهُمَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ ثَوَابِكَ وَرَحْمَتِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ، فَانْفَرَجَتْ عَنْهُمُ الصَّخْرَةُ انْفِرَاجًا لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ " وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ كَانَتْ لِي ابْنَةُ عَمٍّ وَكَانَتْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ فَأَرَدْتُهَا عَلَى نَفْسِهَا فَطَلَبَتْ مِنِّي [ص:82] عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ فَلَمَّا قَدَرْتُ عَلَيْهَا وَهِيَ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ قَالَتْ: إِنِّي لَا أَحِلُّ لَكَ أَنْ تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، قَالَ: فَتَحَرَّجْتُ مِنَ الْوقُوعِ عَلَيْهَا، وَتَرَكْتُ الذَّهَبَ الَّذِي أَعْطَيْتُهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ، فَانْفَرَجَتْ عَنْهُمُ الصَّخْرَةُ انْفِرَاجًا لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ مِنْهُ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أُجَرَاءَ فَأَعْطَيْتُهُمْ أُجُورَهُمْ غَيْرَ رَجُلٍ مِنْهُمْ تَرَكَ الَّذِي لَهُ وَذَهَبَ، فَثَمَّرْتُ لَهُ أَجْرَهُ وَكَثَّرْتُ مِنْهُ الْأَمْوَالَ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالرَّقِيقِ، فَجَاءَ بَعْدَ حِينٍ شَيْخٌ كَبِيرٌ يَطْلُبُ أَجْرَهُ، فَقُلْتُ: كُلُّ مَا تَرَى مِنْ أَجْرِكَ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالرَّقِيقِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْتَهْزِئْ بِي، قُلْتُ: إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ، فَأَخَذَ ذَلِكَ كُلَّهُ فَاسْتَاقَهُ، وَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهُ شَيْئًا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ وَرَجَاءَ رَحْمَتِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ، فَانْفَرَجَتْ عَنْهُمُ الصَّخْرَةُ فَخَرَجُوا مِنَ الْغَارِ يَمْشُونَ "

حضرت سالم اپنے والد سے رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی اُمت کے تین آدمی اپنے کسی کام سے سفر کررہے تھے۔ رات گزارنے کے لیے ایک غار میں داخل ہوئے، پہاڑ سے ایک پتھر نے لڑھک کر غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا :اللہ کی قسم ! اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ تم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرو۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن لکڑی کی تلاش میں میں بہت دور نکل گیا، جب شام کو واپس لوٹا تو وہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اور ان سے پہلے اہل وعیال وخدام کو دودھ دینابھی پسند نہ کیا۔ میں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں طلوعِ فجر تک ٹھہرا رہا۔ اسی حالت میں فجر طلوع ہوگئی، وہ دونوں بیدار ہوئے اور اپنے شام کے حصہ والا دودھ نوش کیا۔ اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیری رضامندی کی خاطر کیا تو تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما، چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی، مگر ابھی غار سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان میں سے دوسرے نے کہا:اے اللہ!میری ایک چچازاد لڑکی تھی، وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے اس سے اپنی نفسانی خواہش پورا کرنے کا اظہار کیا، مگر وہ اس پر آمادہ نہ ہوئی، یہاں تک کہ قحط سالی کا ایک سال پیش آیا جس میں وہ میرے پاس آئی، میں نے اس کو ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ اپنے نفس پر مجھے قابو دے گی، اس نے آمادگی ظاہر کی اور قابو دیا۔ جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا:تو اللہ سے ڈر!اور اس مہر کو ناحق وناجائز طور پر مت توڑ۔ چنانچہ میں اس فعل سے باز آگیا، حالانکہ مجھے اس سے بہت محبت بھی تھی اور میں نے وہ ایک سو بیس دینار اس کو ہبہ کردیئے۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما، جس میں ہم مبتلا ہیں۔ چنانچہ چٹان کچھ اور سرک گئی، مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ تیسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی، مگر ایک آدمی ان میں سے اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے!میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے کہا:تم اپنے سامنے جتنے اونٹ، گائے، بکریاں اور غلام دیکھ رہے ہو، یہ تمام تیری مزدوری ہے۔ اس نے کہا:اے اللہ کے بندے!میرا مذاق مت اُڑا۔ میں نے کہا:میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ چنانچہ وہ سارا مال لے گیا اور اس میں سے ذرہ برابر بھی نہیں چھوڑا۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ پھر کیا تھا چٹان ہٹ گئی اور تینوں باہر نکل گئے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنْبَأَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 197

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 198

198 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ» فَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ

جناب سالم اپنے والد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تین لوگ سفر پر نکلے ۔۔حدیث غار کا تذکرہ کیا ۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ کِلَاهُمَا ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْحَضْرَمِيُّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 198

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 199

199 - حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَرَقَبَةِ بْنِ مَصْقَلَةَ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُسْلِمِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ: بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ الْقَاضِي، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ح [ص:83] وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ الْخَزَّازُ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَاصِمٍ النَّبِيلِ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ خَرَجُوا يَرْتَادُونَ لِأَهْلِيهِمْ فَأَصَابَتْهُمُ السَّمَاءُ فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ» فَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ

حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم سے پہلی قوموں میں سے تین لوگ اپنے اہل و عیال کے لیے حصول معاش کے لیے سفر پر نکلے ،راستے میں بارش ہوئی ، انہوں نے ایک غار میں پناہ حاصل کی ۔۔پھر حدیث غار کا تذکرہ کیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ کُلُّهُمْ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ أَبِي عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ← وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ← عبد الله بن عمر العمري ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ← وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ الْخَزَّازُ، ← [ص:83] وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← وَحَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ الْقَاضِي، ← أَبِيهِ: بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← مَيْمُونُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُسْلِمِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، ← أَبِيهِ، وَرَقَبَةِ بْنِ مَصْقَلَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 199

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 200

200 - حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثِ الْغَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث غاربیان کرتے ہیں ۔

النَّبِيِّ بِحَدِيثِ الْغَارِ ← أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الْحِمْصِيُّ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 200

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 201

201 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خُلَيْفٍ، ثنا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، رَضِيَ اللَّهُ، عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ» فَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تین لوگ سفر پر نکلے ۔۔حدیث غار کا تذکرہ کیا ۔

«خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ» فَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← رَوَّاد بْنِ الَجَرَّاح ← عَمْرُو بْنُ خُلَيْفٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 201

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ · حديث 202

202 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَسْتَحْيِي مِنَ الْعَبْدِ أَنْ يَرْفَعَ إِلَيْهِ يَدَيْهِ فَيَرُدَّهُمَا خَائِبَتَيْنِ»

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے حیاء کرتا ہے کہ بندہ اس کے سامنے اپنے ہاتھوں کو بلند کرے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں کو خالی لوٹادے ۔

سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ← محمد بن الفرج ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 202

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ · حديث 203

203 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ سَلْمَانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَسْتَحْيِي إِذَا رَفَعَ الْعَبْدُ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا لَا شَيْءَ فِيهِمَا»

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے حیاء کرتا ہے کہ بندہ اس کے سامنے اپنے ہاتھوں کو بلند کرے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں کو خالی لوٹادے ۔

النَّبِيِّ ← سَلْمَانَ ← أبا عثمان النهدي ← جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ، أَنَّهُ ← أَبُو أُسَامَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 203

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ · حديث 204

204 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا حَبِيبٌ، كَاتِبُ مَالِكٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَوَّادٌ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنَ الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ إِذَا دَعَاهُ أَنْ يَرُدَّ يَدَيْهِ صِفْرًا لَيْسَ فِيهِمَا شَيْءٌ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ جواد ہے ،سخی ہے اور کریم ہے وہ اپنے بندے سے حیاء کرتا ہے کہ بندہ اس کے سامنے اپنے ہاتھوں کو بلند کرے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں کو خالی لوٹادے ۔

أَنَسًا ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← حَبِيبٌ، كَاتِبُ مَالِكٍ، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 204

chevron_left Previous
1…161718…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter