كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2017
2017 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ: «هَلْ دَعَوْتَ اللَّهَ بِشَيْءٍ؟» قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَا رَبِّ مَا أَرَدْتَ أَنْ تُعَاقِبَنِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ لَا طَاقَةَ لَكَ بِعَذَابِ اللَّهِ أَلَا قُلْتَ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ "
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی تیمارداری کی :بیماری کی وجہ سے سوکھ کر کمزور چوزے کی طرح ہوچکا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کی تھی یا کسی چیز کا سوال کیا تھا ؟اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں اکثر یہ دعا کیا کرتا ہوں :اے اللہ !تو نے مجھے جو عذاب اور سزا آخرت میں دینی ہے وہ سزا مجھے اس دنیا میں عطاء کردے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تعجب اور حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:سبحان اللہ !تم اس کی ہمت اور طاقت نہیں رکھتے ، کاش !تم نے یہ دعا کی ہوتی :{اللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ }اے ہمارے رب!تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور ہمیں آخرت میں بھی بھلائی عطاء کرنا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔(البقرۃ:201)
أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2017
