Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2017

2017 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ: «هَلْ دَعَوْتَ اللَّهَ بِشَيْءٍ؟» قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَا رَبِّ مَا أَرَدْتَ أَنْ تُعَاقِبَنِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ لَا طَاقَةَ لَكَ بِعَذَابِ اللَّهِ أَلَا قُلْتَ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی تیمارداری کی :بیماری کی وجہ سے سوکھ کر کمزور چوزے کی طرح ہوچکا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کی تھی یا کسی چیز کا سوال کیا تھا ؟اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں اکثر یہ دعا کیا کرتا ہوں :اے اللہ !تو نے مجھے جو عذاب اور سزا آخرت میں دینی ہے وہ سزا مجھے اس دنیا میں عطاء کردے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تعجب اور حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:سبحان اللہ !تم اس کی ہمت اور طاقت نہیں رکھتے ، کاش !تم نے یہ دعا کی ہوتی :{اللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ }اے ہمارے رب!تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور ہمیں آخرت میں بھی بھلائی عطاء کرنا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔(البقرۃ:201)

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2017

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2018

2018 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي 8213 يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ قَدْ عَادَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنْتَ تَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ؟ " قَالَ: كُنْتُ أَقُولُ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْنِيهِ فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ أَبَدًا، أَفَلَا قُلْتَ: {رَبَّنَا آتِنَا} [البقرة: 201] فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " ثُمَّ دَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُفِيَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی تیمارداری کی :بیماری کی وجہ سے سوکھ کر کمزور چوزے کی طرح ہوچکا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کی تھی یا کسی چیز کا سوال کیا تھا ؟اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں اکثر یہ دعا کیا کرتا ہوں :اے اللہ !تو نے مجھے جو عذاب اور سزا آخرت میں دینی ہے وہ سزا مجھے اس دنیا میں عطاء کردے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تعجب اور حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:سبحان اللہ !تم اس کی ہمت اور طاقت نہیں رکھتے ، کاش !تم نے یہ دعا کی ہوتی :{اللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ }اے ہمارے رب!تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور ہمیں آخرت میں بھی بھلائی عطاء کرنا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔(البقرۃ:201)پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی اور اللہ کی طرف سے ان کی شفاء عطاء کردی گئی ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2018

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2019

2019 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا أَبِي، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ: «هَلْ دَعَوْتَ بِشَيْءٍ؟» فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ: " سَأَلْتَ الْبَلَاءَ، أَلَا قُلْتَ: {رَبَّنَا آتِنَا} [البقرة: 201] فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی تیمارداری کی :بیماری کی وجہ سے سوکھ کر کمزور چوزے کی طرح ہوچکا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کی تھی یا کسی چیز کا سوال کیا تھا ؟اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں اکثر یہ دعا کیا کرتا ہوں :اے اللہ !تو نے مجھے جو عذاب اور سزا آخرت میں دینی ہے وہ سزا مجھے اس دنیا میں عطاء کردے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تعجب اور حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:سبحان اللہ !تم اس کی ہمت اور طاقت نہیں رکھتے ، کاش !تم نے یہ دعا کی ہوتی :{اللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ }اے ہمارے رب!تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور ہمیں آخرت میں بھی بھلائی عطاء کرنا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔(البقرۃ:201)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2019

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2020

2020 - حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ فَقَالَ: «تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ؟» فَقَالَ: دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ، قَالَ: «فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ الْفَوْزُ بِالْجَنَّةِ وَالنَّجَاةُ مِنَ النَّارِ» وَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ فَقَالَ: «قَدْ سَأَلْتَ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ الْبَلَاءَ فَسَلْهُ الْعَافِيَةَ» ، وَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ "

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے ، وہ شخص یہ دعا کررہا تھا :اَسْاَلُکَ تَمَامَ النِّعْمَۃِ،ا ے اللہ !میں تجھ سے مکمل نعمت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا:کیا تمہیں علم ہے مکمل نعمت کیا ہے ؟اس نے کہا:یہ ایک دعا ہے جومیں نے کی ہے اور میں اس سے خیر اور بھلائی کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مکمل نعمت سے مراد جنت کا حصول اور جہنم سے چھٹکارا پاناہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اورشخص کو سنا: وہ شخص ان الفاظ میں دعا کررہا تھا :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الصَّبْرَ، اے اللہ !میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم نے اپنے رب سے بلا اور آزمائش کا سوال کیا ہے ، تم اللہ سے عافیت کا سوال کرو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور شخص کے پاس سے گزر ہوا وہ ان الفاظ میں دعا کررہا تھا :یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ ، اے جلالت اور اکرام والے !اس کی سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یقینا تمہاری دعا قبول کی جائے گی ، اس لیے تم اللہ سے سوال کرو ۔

قدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ. ← يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ← «قَدْ سَأَلْتَ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ الْبَلَاءَ فَسَلْهُ الْعَافِيَةَ» وَمَرَّ بِرَجُلٍ ← اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَسْأَلُکَ الصَّبْرَ، ← رَجُلًا ← «فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ الْفَوْزُ بِالْجَنَّةِ وَالنَّجَاةُ مِنَ النَّارِ» ← دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ. ← «تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ؟» ← اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَسْأَلُکَ تَمَامَ النَّعْمَۃِ، ← مَرَّ النَّبِيُّ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← اللَّجْلَاجِ، ← أَبِي الْوَرْدِ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2020

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2021

2021 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَا: ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي وَهُوَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ، فَقَالَ: «قَدْ سَأَلْتَهُ الْبَلَاءَ، فَاسْأَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ» وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ نِعْمَتِكَ، فَقَالَ: «ابْنَ آدَمَ تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ، قَالَ: «فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ فَوْزٌ مِنَ النَّارِ وَدُخُولُ الْجَنَّةِ» وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ: قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ "

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے ،وہ شخص نماز پڑھتے ہوئے یہ دعا کررہا تھا :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الصَّبْرَ، اے اللہ !میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم نے اپنے رب سے بلا اور آزمائش کا سوال کیا ہے ، تم اللہ سے عافیت کا سوال کرو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور شخص کے پاس سے گزر ہوا وہ ان الفاظ میں دعا کررہا تھا : وہ شخص یہ دعا کررہا تھا :اَسْاَلُکَ تَمَامَ النِّعْمَۃِ،ا ے اللہ !میں تجھ سے مکمل نعمت کا سوال کرتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا:کیا تمہیں علم ہے مکمل نعمت کیا ہے ؟اس نے کہا:یہ ایک دعا ہے جومیں نے کی ہے اور میں اس سے خیر اور بھلائی کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مکمل نعمت سے مراد جنت کا حصول اور جہنم سے چھٹکارا پاناہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور شخص کے پاس سے گزر ہوا وہ ان الفاظ میں دعا کررہا تھا :یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ ، اے جلالت اور اکرام والے !اس کی سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یقینا تمہاری دعا قبول کی جائے گی ، اس لیے تم اللہ سے سوال کرو ۔

«ابْنَ آدَمَ تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ؟» ← اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ نِعْمَتِكَ، ← «قَدْ سَأَلْتَهُ الْبَلَاءَ، فَاسْأَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ» وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ ← فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ، ← أَتَى رَسُولُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي وَهُوَ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← اللَّجْلَاجِ، ← أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ الْقُشَيْرِيِّ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2021

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2022

2022 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، كِلَاهُمَا عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ قَالَ: «لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» فَقَالَ قُلْتُ: طَهُورٌ كَلَّا بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ، عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَعَمْ إِذَنْ»

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کے پاس اس کی عیادت کے لیے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے یہ الفاظ کہا کرتے تھے :لَا بَاْسَ طَہُورٌ إِنْ شَاء َ اللَّہُ ،کوئی بات نہیں ، اللہ کے حکم سے ٹھیک ہوجانے والا ہے ۔اس اعرابی نے کہا:آپ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہونے والا ہے ، ہرگز نہیں بلکہ یہ تو بخار ہے جو جوش ماررہا ہے ، ایک بوڑھے پر ، اس کو قبرمیں پہنچانے والا ہے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تب ایسا ہی ہوگا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، كِلَاهُمَا ← مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2022

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2023

2023 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا سِنَانٌ أَبُو رَبِيعَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَهُوَ مَحْمُومٌ فَقَالَ: «كَفَّارَةٌ وَطَهُورٌ» فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: بَلْ حُمَّى تَفُورُ، عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کے پاس اس کی عیادت کے لیے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے یہ الفاظ کہا کرتے تھے :لَا بَاْسَ طَہُورٌ إِنْ شَاء َ اللَّہُ ،کوئی بات نہیں ، اللہ کے حکم سے ٹھیک ہوجانے والا ہے ۔اس اعرابی نے کہا:آپ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہونے والا ہے ، ہرگز نہیں بلکہ یہ تو بخار ہے جو جوش ماررہا ہے ، ایک بوڑھے پر ، اس کو قبرمیں پہنچانے والا ہے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو چھوڑ دیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سنان أبو ربيعة ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحَسَنُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبَغْدَادِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2023

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2024

2024 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ أَبُو عَوْنٍ الزِّيَادِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْمِنْقَرِيُّ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ فَقَالَ: «كَفَّارَةٌ وَطَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَلْ حُمَّى تَفُورُ، عَلَى شَيْخٍ، كَبِيرٍ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَعَمْ إِذًا وَمَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ» فَمَا خَرَجَ حَتَّى مَاتَ

مخلد بن عقبہ بن شرحبیل رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کے پاس اس کی عیادت کے لیے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے یہ الفاظ کہا کرتے تھے :لَا بَاْسَ طَہُورٌ إِنْ شَاء َ اللَّہُ ،کوئی بات نہیں ، اللہ کے حکم سے ٹھیک ہوجانے والا ہے ۔اس اعرابی نے کہا:آپ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہونے والا ہے ، ہرگز نہیں بلکہ یہ تو بخار ہے جو جوش ماررہا ہے ، ایک بوڑھے پر ، اس کو قبرمیں پہنچانے والا ہے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تب ایسا ہی ہوگا اور جو اللہ چاہے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے باہر نہیں نکلے تھے کہ اس کی موت ہوگئی ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مَخْلَدِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْمِنْقَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ أَبُو عَوْنٍ الزِّيَادِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2024

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2025

2025 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ آجِلًا فَارْفَعْنِي، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي، فَقَالَ: «مَا قُلْتَ؟» فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ عَافِهِ» أَوِ اشْفِهِ فَمَا اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ الْوَجَعَ بَعْدُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں بیمار تھا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے ، تب میں یہ دعا کررہا تھا :اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ اَجَلِی قَدْ حَضَرَ فَاَرِحْنِی، وَإِنْ کَانَ آجِلًا فَارْفَعْنِی، وَإِنْ کَانَ بَلَاء ً فَصَبِّرْنِی،اے اللہ !اگر میری موت کا وقت آچکا ہے تو مجھے راحت عطا فرما ، اگر میری موت کا وقت ابھی نہیں آیا تو مجھے بلند فرما اور اگر یہ بیماری میرے لیے آازمائش ہے تو مجھے صبر عطاء فرما ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا :تم کیا دعا کررہے تھے؟میں نے الفاظ دْہرا دئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ٹانگ سے مارا اور اللہ سے دعا کی :اے اللہ !اس کو عافیت عطاء فرما ، یا آپ کے الفاظ تھے:اے اللہ !اس کو شفا عطاء کر ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس بیماری کے بعد میں کبھی بیمار نہیں ہوا ۔

مريض ← دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2025

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2026

2026 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اشْتَكَيْتُ بَطْنِي فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا حُضُورُ أَجَلِي فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ مُسْتَأْخَرًا فَخَفِّفْ عَنِّي، وَإِنْ كَانَتِ الشِّدَّةُ وَالْبَلَاءُ فَصَبِّرْنِي، فَقَالَ: «كَيْفَ قُلْتَ؟» فَأَعَدْتُ الْقَوْلَ، فَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى بَطْنِي وَقَالَ: «اللَّهُمَّ اشْفِهِ» فَمَا اشْتَكَيْتُ بَطْنِي بَعْدُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں بیمار تھا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے ، تب میں یہ دعا کررہا تھا :اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ اَجَلِی قَدْ حَضَرَ فَاَرِحْنِی، وَإِنْ کَانَ آجِلًا فَارْفَعْنِی، وَإِنْ کَانَ بَلَاء ً فَصَبِّرْنِی،اے اللہ !اگر میری موت کا وقت آچکا ہے تو مجھے راحت عطا فرما ، اگر میری موت کا وقت ابھی نہیں آیا تو مجھے بلند فرما اور اگر یہ بیماری میرے لیے آازمائش ہے تو مجھے صبر عطاء فرما ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا :تم کیا دعا کررہے تھے؟میں نے الفاظ دْہرا دئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ٹانگ سے مارا اور اللہ سے دعا کی :اے اللہ !اس کو عافیت عطاء فرما ، یا آپ کے الفاظ تھے:اے اللہ !اس کو شفا عطاء کر ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس بیماری کے بعدکبھی میرے پیٹ میں بھی درد نہیں ہوئی ۔

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← غَيْلاَنَ بْنَ جَامِعٍ ← عمرو بن ثابت ← مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2026

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2027

2027 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ ثَوْرٍ الْجُذَامِيُّ، وَابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَا: ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف فرماہوئے ،تب میں بیمار تھا ، انہوں نے اسی طرح بیان کیا ۔

دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا مَرِيضٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ← عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ ثَوْرٍ الْجُذَامِيُّ، وَابْنُ أَبِي مَرْيَمَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2027

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدَّهْرِ · حديث 2028

2028 - حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ» هَذَا لَفْظُ سَعِيدِ بْنِ هَاشِمٍ وَقَالَ الْقَعْنَبِيُّ: لَا تَقُولُوا: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:زمانے کو گالی نہ دیں ، بلاشبہ اللہ ہی زمانہ ہے ۔امام قعنبی رحمہ اللہ کہتے ہیں :تم میں سے کوئی شخص ہرگز یہ نہ کہے :ہائے !زمانے کی رسوائی ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← مالک بن أنس ← سَعِيدُ بْنُ هَاشِمٍ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2028

chevron_left Previous
1…168169170…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter