كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْأَمْرِ بِتَرْكِ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ إِذَا لَمْ يَحْمَدْ · حديث 1993
1993 - حَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَة مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ عَلَى هَذَا وَلَمْ يُشَمِّتْ عَلَى هَذَا فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ» [ص:555]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوشخص موجود تھے ، ان میں سے ایک شخص نے چھینک ماری ،الحمد للہ کہا، آپ نے اس کا جواب دیا جبکہ دوسرے نے چھینک ماری لیکن الحمد للہ نہ کہا ، اس لیے آپ نے ا س کا جواب نہیں دیا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس نے چھینک ماری اور الحمد للہ کہا ، جبکہ دوسرے نے چھینک مارنے کے بعد الحمد للہ نہیں کہا ۔
عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ فَشَمَّتَ عَلَى هَذَا وَلَمْ يُشَمِّتْ عَلَى هَذَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيُّ، ← معمر بن سهل الأهوازي ← أَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1993
