Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ · حديث 1981

1981 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا أَقُولُ؟ فَقَالَ: «قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ» فَقَالَ الْقَوْمُ: فَمَا نَقُولُ؟ قَالَ: «قُولُوا يَرْحَمُكَ اللَّهُ» قَالَ: فَمَا أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " قُلْ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ "

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص نے چھینک ماری اور اس نے آپ سے پوچھاکہ میں کیا کہوں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم الحمد للہ کہو یعنی اللہ عزوجل کا شکر ادا کرو ، وہاں موجود لوگوں نے کہا:اس کے جواب میں ہم کیا کہیں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم کہو:یرحمک اللہ ،اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے ،چھینک مارنے والے نے کہا:ان کے جواب میں میں کیا کہوں ؟اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم کہو:یَہْدِیکُمُ اللَّہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ،اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نوازے اور تمہارے معاملات کی اصلاح فرمائے ۔

فَمَا أَقُولُ لَهُمْ ← «قُولُوا يَرْحَمُكَ اللَّهُ» ← الْقَوْمُ: فَمَا نَقُولُ؟ ← «قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ» ← مَا أَقُولُ ← عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَمَّتِهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو معشر ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1981

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ · حديث 1982

1982 - حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّمْحِ التُّجِيبِيُّ، عَنِ ابْنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَمَعَهُ رِجَالٌ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ: مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " قُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ " قَالَ: فَمَاذَا يُرَدُّ عَلَيَّ؟ قَالَ: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» قَالَ: فَمَاذَا أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَمَا فِي بَيْتِي يَوْمَئِذٍ يَهُودِيُّ وَلَا نَصْرَانِيُّ

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے ، آپ کے پاس کچھ لوگ موجود تھے ،ان میں سے ایک شخص نے چھینک ماری اور اس نے آپ سے پوچھاکہ میں کیا کہوں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم الحمد للہ کہو یعنی اللہ عزوجل کا شکر ادا کرو ، اس نے کہا:مجھے جواب میں کیا کہا جائے گا ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یرحمک اللہ ،اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے ،چھینک مارنے والے نے کہا:ان کے جواب میں میں کیا کہوں ؟اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم کہو:یَہْدِیکُمُ اللَّہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ،اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نوازے اور تمہارے معاملات کی اصلاح فرمائے ۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :اس وقت میرے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ تو کوئی یہودی تھا اور نہ کوئی عیسائی ۔

مَا أَقُولُ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي بَيْتِي وَمَعَهُ رِجَالٌ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ مُجَاهِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّمْحِ التُّجِيبِيُّ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1982

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ · حديث 1983

1983 - حَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبْيَضُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ مَنْ عِنْدَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَإِذَا قَالُوا ذَلِكَ فَلْيَقُلْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ " قَالَ الطَّبَرَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: هَكَذَا رَوَاهُ أَبْيَضُ بْنُ أَبَانَ وَالْمُغِيرَةُ السَّرَّاجُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مُتَّصِلًا وَرَوَاهُ النَّاسُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ مَوْقُوفًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھلایا کرتے تھے کہ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ کہے : الحمد للہ رب العالمین ، تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے ،یعنی اللہ عزوجل کا شکر ادا کر ے ،جب چھینک مارنے والا یہ کہہ لے تو اس کے پاس موجود شخص کہے :یرحمک اللہ ، اللہ تعالیٰ تجھ سے رحم کرے ، جب جواب دینے والا یہ کلمہ کہہ لے تب چھینک مارنے والا اس سے کہے :یَغْفِرُ اللَّہُ لِی وَلَکُمْ ،اللہ تعالیٰ تمہیں اور مجھے بخش دے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أبيض بن أبان ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← الْحَضْرَمِيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1983

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ · حديث 1984

1984 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» ، وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ»

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ چھینک کے جواب میں کہا کرتے تھے :یَہْدِیکُمُ اللَّہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ،اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نوازے اور تمہارے معاملات کی اصلاح فرمائے ۔جبکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہا کرتے :یَغْفِرُ اللَّہُ لِی وَلَکُمْ ،اللہ تعالیٰ تمہیں اور مجھے بخش دے ۔

«يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ» ← «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ ← الْحَارِثِ، أَنَّ عَلِيًّا، كَانَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1984

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ اتِّبَاعِ الْعَاطِسِ الْحَمْدَ لِلَّهِ قَوْلَ رَبِّ الْعَالَمِينَ · حديث 1985

1985 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ السَّامِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ، ثنا صَبَاحُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَإِذَا قَالَ: رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ "

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب کوئی بندہ چھینک مارتا ہے اوراس پر وہ کہتا ہے :الحمد للہ ،فرشتے کہتے ہیں :رب العالمین ، جب چھینک مارنے والا ،رب العالمین کہتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں :یرحمک اللہ ، اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے ۔

الْمَلَائِكَةُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ ← رَبَّ الْعَالَمِينَ، ← الْمَلَائِكَةُ: رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَإِذَا ← «إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← صَبَّاحُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ، ← عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ السَّامِيُّ الْكُوفِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1985

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ كَيْفَ يُشَمَّتُ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ · حديث 1986

1986 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ فَكَانَ يَقُولُ: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ»

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہودی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ کر اس ارادہ و نیت سے چھینک مارتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعائیہ کلمات یعنی،یرحمک اللہ ،اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے،کہیں گے ،ان کی چھینک کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی کلمات کہا کرتے تھے :یَہْدِیکُمُ اللَّہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ،اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نوازے اور تمہارے معاملات کی اصلاح فرمائے ۔‘‘

يَهْدِيكُمُ اللَّهُ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ‏.‏ ← يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ فَكَانَ ← كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ رَجَاءَ أَنْ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1986

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مُبَادَرَةِ الْعَاطِسِ بِالْحَمْدِ · حديث 1987

1987 - حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ إِسْرَائِيلَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُطَّلِبِ الْكُوفِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ بَادَرَ الْعُطَاسَ بِالْحَمْدِ عُوفِيَ مِنْ وَجَعِ الْخَاصِرَةِ»

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس چھینک مارنے والے نے الحمد للہ کہنے میں جلدی کی اس کو پہلو کی بیماری سے عافیت عطاء کردی جاتی ہے ۔

«مَنْ بَادَرَ الْعُطَاسَ بِالْحَمْدِ عُوفِيَ مِنْ وَجَعِ الْخَاصِرَةِ» ← النَّبِيِّ ← عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُطَّلِبِ الْكُوفِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ إِسْرَائِيلَ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1987

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ سَمَاعِ الْعَاطِسِ · حديث 1988

1988 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ أَبُو الصَّبَّاحِ الْهَدَّادِيُّ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَبَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ عِنْدَ كُلِّ عَطْسَةٍ يَسْمَعُهَا: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ عَلَى كُلِّ حَالٍ لَمْ يُصِبْهُ وَجَعُ ضِرْسٍ وَلَا صُدَاعٌ "

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جس شخص نے ہر چھینک کی آواز پر یہ کلمات کہے :، تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کارب ہے ،وہ شخص ناک اور دانت درد کی تکلیف میں مبتلا نہیں ہوگا ۔

مَنْ ← عَلِيٍّ، ← حبة ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَيْبَانَ ← طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ أَبُو الصَّبَّاحِ الْهَدَادِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1988

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْأَمْرِ بِتَرْكِ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ إِذَا لَمْ يَحْمَدْ · حديث 1989

1989 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ قَالَ: فَسَمَّتْ أَوْ قَالَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ أَوْ قَالَ: فَشَمَّتَ وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ فَشَمَّتُّهُ وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَمْ أُشَمِّتْهُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوشخص موجود تھے ، ان میں سے ایک شخص نے چھینک ماری ،الحمد للہ کہا، آپ نے اس کا جواب دیا جبکہ دوسرے نے چھینک ماری لیکن الحمد للہ نہ کہا ، اس لیے آپ نے ا س کا جواب نہیں دیا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس نے چھینک ماری اور الحمد للہ کہا ، میں نے اس کا جواب دیا جبکہ دوسرے نے چھینک مارنے کے بعد الحمد للہ نہیں کہا ، اس لیے آپ نے ا س کا جواب نہیں دیا ۔

فَشَمَّتَ وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، ← فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ أَوْ ← فَسَمَّتْ أَوْ ← عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ رَجُلَانِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1989

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْأَمْرِ بِتَرْكِ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ إِذَا لَمْ يَحْمَدْ · حديث 1990

1990 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَطَسَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَمَّتَّ فُلَانًا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي قَالَ: «إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَإِنَّكَ لَمْ تَحْمَدْهُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود دوشخصوں میں سے ایک شخص نے چھینک ماری ،اس نے الحمد للہ کہا، آپ نے اس کا جواب دیا جبکہ دوسرے نے چھینک ماری لیکن الحمد للہ نہ کہا ، اس لیے آپ نے ا س کا جواب نہیں دیا ۔جس کی چھینک پر آپ نے جواب نہیں دیا تھا اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے فلاں کی چھینک کا جوب دیا جبکہ میری چھینک پر آپ نے جواب نہیں دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس نے چھینک ماری اور الحمد للہ کہا ، میں نے اس کا جواب دیا جبکہ تم نے چھینک مارنے کے بعد الحمد للہ نہیں کہا ، اس لییمیں نے ا س کا جواب نہیں دیا ۔

عَطَسَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ رَجُلَانِ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ فَقَالَ الرَّجُلُ: ← سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1990

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْأَمْرِ بِتَرْكِ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ إِذَا لَمْ يَحْمَدْ · حديث 1991

1991 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَمَّتَّهُ وَلَمْ تُشَمِّتْنِي، قَالَ: «إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى فَشَمَّتُّهُ وَسَكَتَّ أَنْتَ فَلَمْ تَحْمَدِ اللَّهَ فَلَمْ أُشَمِّتْكَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود دوشخصوں میں سے ایک شخص نے چھینک ماری ،اس نے الحمد للہ کہا، آپ نے اس کا جواب دیا جبکہ دوسرے نے چھینک ماری لیکن الحمد للہ نہ کہا ، اس لیے آپ نے ا س کا جواب نہیں دیا ۔جس کی چھینک پر آپ نے جواب نہیں دیا تھا اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے فلاں کی چھینک کا جوب دیا جبکہ میری چھینک پر آپ نے جواب نہیں دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس نے چھینک ماری اور الحمد للہ کہا ، میں نے اس کا جواب دیا جبکہ تم نے چھینک مارنے کے بعد الحمد للہ نہیں کہا ، اس لیے میں نے ا س کا جواب نہیں دیا ۔

عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقَالَ لَهُ: ← أَنَسٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1991

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْأَمْرِ بِتَرْكِ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ إِذَا لَمْ يَحْمَدْ · حديث 1992

1992 - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُعَافَى، ثنا أَبِي، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدْهُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوشخص موجود تھے ، ان میں سے ایک شخص نے چھینک ماری ،الحمد للہ کہا، آپ نے اس کا جواب دیا جبکہ دوسرے نے چھینک ماری لیکن الحمد للہ نہ کہا ، اس لیے آپ نے ا س کا جواب نہیں دیا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس نے چھینک ماری اور الحمد للہ کہا ، جبکہ دوسرے نے چھینک مارنے کے بعد الحمد للہ نہیں کہا ۔

«إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدْهُ». ← عَطَسَ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا، وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، ← أَنَسٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ ← أَبِي ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُعَافَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1992

chevron_left Previous
1…165166167…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter