كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ · حديث 1981
1981 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا أَقُولُ؟ فَقَالَ: «قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ» فَقَالَ الْقَوْمُ: فَمَا نَقُولُ؟ قَالَ: «قُولُوا يَرْحَمُكَ اللَّهُ» قَالَ: فَمَا أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " قُلْ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ "
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص نے چھینک ماری اور اس نے آپ سے پوچھاکہ میں کیا کہوں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم الحمد للہ کہو یعنی اللہ عزوجل کا شکر ادا کرو ، وہاں موجود لوگوں نے کہا:اس کے جواب میں ہم کیا کہیں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم کہو:یرحمک اللہ ،اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے ،چھینک مارنے والے نے کہا:ان کے جواب میں میں کیا کہوں ؟اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم کہو:یَہْدِیکُمُ اللَّہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ،اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نوازے اور تمہارے معاملات کی اصلاح فرمائے ۔
فَمَا أَقُولُ لَهُمْ ← «قُولُوا يَرْحَمُكَ اللَّهُ» ← الْقَوْمُ: فَمَا نَقُولُ؟ ← «قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ» ← مَا أَقُولُ ← عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَمَّتِهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو معشر ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1981
