Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ لِأَخِيهِ: جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ · حديث 1969

1969 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَأَبُو مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْرَأُ فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» فَقُلْتُ: أَبُو مُوسَى جُعِلْتُ فِدَاكَ، فَقَالَ: «لَقَدْ أُعْطِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ»

حضرت عبد اللہ بن بُریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسجد جانے کے لیے نکلے ،حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :یہ کون ہیں ؟میں نے عرض کیا :میں آپ پر فدا ہوجائوں !یہ ابو موسیٰ ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یقینا ان کو آل دائودکی بینسری یعنی سریلی آواز عطاء کی گئی ہے ۔

«لَقَدْ أُعْطِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ» ← «مَنْ هَذَا؟» فَقُلْتُ: أَبُو مُوسَى جُعِلْتُ فِدَاكَ، ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الْمَسْجِدِ وَأَبُو مُوسَى يَقْرَأُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1969

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ لِأَخِيهِ: جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ · حديث 1970

1970 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ثنا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: «مَا فَوَاضِلُ الْأَعْمَالِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ»

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا ، میں نے عرض کیا :اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے !نفع مند اعمال کون سے ہیں؟

أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَقُلْتُ: «مَا فَوَاضِلُ الْأَعْمَالِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ» ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ، ← مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1970

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ لِأَخِيهِ: جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ · حديث 1971

1971 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْأَذَنِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ»

حضرت معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا ، اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ مجھے پرقربان فرمائے۔

أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، ← أَبِي ← ھَارُوْنُ بْنُ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ الزَّرْقَاءِ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْأَذَنِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1971

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ لِأَخِيهِ: جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ · حديث 1972

1972 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صُبَيْحٍ الْأَسَدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا غُلَامُ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ؟» قُلْتُ: بَلَى، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا:اے بچے !کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھلادوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے ذریعے فائدہ دے گا ؟میں نے عرض کیا :کیوں نہیں ، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ ← أحمد بن صبيح الأسدي، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1972

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ: أَعَزَّكَ اللَّهُ · حديث 1973

1973 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَالْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: «مَنْ رَأَى مَقْتَلَ حَمْزَةَ؟» فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا رَأَيْتُ مَقْتَلَهُ أَعَزَّكَ اللَّهُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ حَتَّى وَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَآهُ قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ مُثِّلَ بِهِ وَاللَّهِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ فَوَقَفَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْقَتْلَى فَقَالَ: «أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ لُفُّوهُمْ بِدِمَائِهِمْ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ جَرِيحٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا جَاءَ جُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى، لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَ الْقَوْمِ قُرْآنًا فَاجْعَلُوهُ فِي اللَّحْدِ»

حضرت ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اُحد کے موقع پر فرمایا: تم میں سے کس نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قتل گاہ کو دیکھا ہے ،موجود لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: میں نے ان کے مقتل کو دیکھا ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ آپ کو عزتوں سے نوازے اورکہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ہی اس نے آپ کے پکڑا اورچلنا شروع کردیا یہاں تک کہ چلتے ہوئے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قتل گاہ پر جا کر کھڑے ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان کے پیٹ کو چاک کیا گیاہے ان کا مثلہ کیا جا چکا،اس آدمی نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یقینی طور پر ان کا مثلہ کیا گیا ہے، اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منظر کو دیکھنا ناپسند کیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقتولوں کے درمیان بیٹھ گئے اور فرمایا کہ میں ان تمام مقتولوں کی شہادت پر گواہ ہوں، ان کو ان کے خون آلودلباس میں لپیٹ دو،جو بھی زخمی اللہ کی راہ میں شہید کیاجاتا ہے اس کو قیامت کے دن زخمی حالت میں ہی اٹھایا جائے گا اور اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا،بظاہر دیکھنے میں خون کا رنگ ہوگا لیکن اس کی خوشبو کستوری کی خوشبو ہوگی اور فرمایا کہ ان کو اجتماعی طور پر دفنا دو اوران کو قبر قبرمیں اتارتے وقت اس کو قبلہ کی جانب مقدم کرناجو ان میں قرآن کا علم زیادہ رکھنے والا ہو اور ان کے لیے لحدقبر تیار کرنا۔

أَبِيهِ ← ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الأَنْصَارِيُّ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَالْحَضْرَمِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1973

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ لِأَخِيهِ: أَطَالَ اللَّهُ عُمْرَكَ · حديث 1974

1974 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، مَوْلَى أُمِّ قَيْسِ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسِ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُ ابْنِي لَا تَغْسِلِ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ، فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا، فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ: " مَا قَالَتْ: طَالَ عُمْرُهَا؟ " قَالَ: فَلَا نَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِّرَتْ مَا عُمِّرَتْ

حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں :میرا بیٹا فوت ہوگیا ، میں نے اس کی وفات پر جزع فزع کی ، میں نے اپنے کو غسل دینے والے سے کہا،میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دینا اس سے تم میرے بیٹے کو قتل کردو گے ، حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو ام قیس کی کہی ہوئی بات کے بارے میں خبر دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سنی اور آپ متبسم ہوئے اور دعائیہ جملہ کہا :اللہ تعالیٰ اس کی عمر لمبی فرمائے ، کہتے ہیں :ہمارے علم کے مطابق عورتوں میں سے سب سے طویل عمر پانے والی یہی خاتون تھیں ۔

أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، ← أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1974

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِأَخِيهِ: أَصْلَحَكَ اللَّهُ · حديث 1975

1975 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرْقُسَانِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ حُلْمًا مُنْكَرًا، فَقَالَ: «مَا هُو أَصْلَحَكِ اللَّهُ؟» قُلْتُ: رَأَيْتُ بَعْضَ أَعْضَائِكَ فِيَّ، قَالَ: «نِعْمَ مَا رَأَيْتِ، تَلِدُ فَاطِمَةُ غُلَامًا، فَتُرْضِعِيهِ بَيْنَ قُثَمَ»

ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے ایک مکروہ اور ناپسندیدہ خواب دیکھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ تمہاری اصلاح فرمائے !تم نے کیا کیسے خواب دیکھا ہے ؟کہتے ہیں :میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ کے بعض اعضاء مجھ میں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم نے اچھا خواب دیکھا ہے ، فرمایا:فاطمہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا ، تم اس کوقثم کے ساتھ دودھ پلائو گی ۔

قُلْتُ ← أم الفضل بنت الحارث ← شَدَّادِ أَبِي عَمَّارٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقَرْقَسَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الرَّقِّيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1975

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ · حديث 1976

1976 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَيَقُلْ مَنْ عِنْدَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ "

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ الحمد للہ کہے اور اس کے پاس موجود شخص کہے :یرحمک اللہ ، اللہ تعالیٰ تجھ سے رحم کرے تب چھینک مارنے والا اس سے کہے :یَہْدِیکُمُ اللَّہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ،اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نوازے اور تمہارے معاملات کی اصلاح فرمائے ۔

النَّبِيِّ ← عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْحَجَّاجِ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← يحيى الحماني ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1976

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ · حديث 1977

1977 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " قَالَ الطَّبَرَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَغَيْرُهُمَا عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَخِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ وَخَالَفَهُمْ شُعْبَةُ فِي إِسْنَادِهِ فَقَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ الحمد للہ علی کل حال ، ہر حال میں اللہ کا شکر ہے ،کہے اور اس کے پاس موجود شخص کہے :یرحمک اللہ ، اللہ تعالیٰ تجھ سے رحم کرے تب چھینک مارنے والا اس سے کہے :یَہْدِیکُمُ اللَّہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ،اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نوازے اور تمہارے معاملات کی اصلاح فرمائے ۔

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← أَخِيهِ عِيسَى ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ کِلَاهُمَا ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1977

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ · حديث 1978

1978 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَلْيَقُلِ الَّذِي يُشَمِّتُهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَرُدَّ عَلَيْهِ يَهْدِيكَ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكَ "

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ الحمد للہ کہے اور اس کے پاس موجود شخص کہے :یرحمک اللہ ، اللہ تعالیٰ تجھ سے رحم کرے تب چھینک مارنے والا اس سے کہے :یَہْدِیکُمُ اللَّہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ،اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نوازے اور تمہارے معاملات کی اصلاح فرمائے ۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← أَبِيهِ ← أَخِيهِ ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ← علي بن الجعد أنبأ شعبة ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1978

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ · حديث 1979

1979 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَيَقُولُ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ الحمد للہ کہے اور اس کا ساتھی یا اس کا بھائی جواب میں کہے :یرحمک اللہ ، اللہ تعالیٰ تجھ سے رحم کرے تب چھینک مارنے والا اس سے کہے :یَہْدِیکُمُ اللَّہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ،اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نوازے اور تمہارے معاملات کی اصلاح فرمائے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عبد الله بن دينار ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1979

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ · حديث 1980

1980 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالُوا: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ أُمِّ كِلَابٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَيُقَالُ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَيَقُولُ: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ»

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ الحمد للہ کہے یعنی اللہ عزوجل کا شکر ادا کر ے اور اس کے پاس موجود شخص کہے :یرحمک اللہ ، اللہ تعالیٰ تجھ سے رحم کرے تب چھینک مارنے والا اس سے کہے :یَہْدِیکُمُ اللَّہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ،اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نوازے اور تمہارے معاملات کی اصلاح فرمائے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← عُبَيْدَ بْنَ أُمِّ كِلَابٍ ← أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1980

chevron_left Previous
1…164165166…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter