Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1729

1729 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ مِنْ نَفْسٍ مِنْ بَنِي آدَمَ إِلَّا عَلَيْهَا صَدَقَةٌ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ» قِيلَ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: " إِنَّ أَبْوَابَ الْخَيْرِ لَكَثِيرٌ: التَّسْبِيحُ، وَالتَّكْبِيرُ، وَالتَّحْمِيدُ، وَالتَّهْلِيلُ "

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اولاد آدم میں سے ہر ایک شخص پر ہر طلوع ہونے والے دن میں اس کے تمام اعضاء پر اللہ کی طرف سے صدقہ ہے ،آپ سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے نبی !یہ صدقہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:خیر کے بہت سارے دروازے ہیں ، سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر اورلا الہ الا اللہ یہ تمام کے تمام ابواب خیر ہیں۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1729

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1730

1730 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي كَعْبٍ سَالِمٍ مَوْلَى عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ إِلَّا خَرَقَتِ السَّمَوَاتِ حَتَّى تَخْرِقَ أَعْلَى سَقْفٍ مِنَ السَّمَاءِ فَلَا يَلْتَئِمُ خَرْقُهَا حَتَّى يَنْظُرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى قَائِلِهَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَحَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا نَظَرَ إِلَى عَبْدٍ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُ "

حضرت علی بن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص یہ کلمات کہتا ہے :’’لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ،اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، وہ اکیلا ہے ، سا کا کوئی شریک نہیں ہے ،وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دینے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادرہے ۔’’تو اس کے لیے تمام آسمانوں پھٹ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ سب سے اوپر والی آسمان کی چھت بھی کھل جاتی ہے ،یہ کھلی چھت اس وقت تک بند نہیں ہوتی جب کہ اللہ عزوجل ان کلمات کے کہنے والے کو خود نظر رحمت سے دیکھ نہیں لیتا ۔اللہ عزوجل جس شخص کو رحمت کی نگا سے دیکھ لیتا ہے اس پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو عذاب نہ دے ۔

أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي كَعْبٍ سَالِمٍ مَوْلَى عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ الْبَغْدَادِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1730

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1731

1731 - حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَلْمَى أُمِّ بَنِي أَبِي رَافِعٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِكَلِمَاتٍ وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ، قَالَ: " قُولِي اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ عَشْرَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَذَا لِي، وَقُولِي: سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَشْرَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَذَا لِي، وَقُولِي: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي عَشْرَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ فَعَلْتُ "

حضرت سلمی ابورافع کے بچوں کی والدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا :ا ے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے کچھ کلمات سکھلادیں لیکن مختصر کلمات ہوں ،زیادہ طویل نہ ہوں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا:اللہ اکبر ،اللہ اکبر، دس بار کہا کرو ، اللہ عزوجل فرماتے ہیں :یہ میرے لیے ہیں ،سُبْحَانَ اللَّہِ سُبْحَانَ اللَّہِ، دس مرتبہ کہو اللہ عزوجل فرماتا ہے یہ میرے لیے ہے ۔ اس کے بعد تم یہ کلمات کہو ،اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی ، اے اللہ !مجھے بخش دے ، اے اللہ !مجھے بخش دے ،دس مرتبہ یہ کہو ، اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :یقینا میں نے یہ کردیا ۔

سَلْمَى أُمِّ بَنِي أَبِي رَافِعٍ، أَنَّهَا ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بُکَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1731

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1732

1732 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: آيَةُ الْعِزِّ {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيُّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا} [الإسراء: 111]

سہل بن معاذ بن انس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ یہ کلمات کہا کرتے تھے :عزت و جلالت والی آیت :{الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیُّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیرًا}تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ او?د رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک وساجھی رکھتا ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ اسے کسی حمایتی کی ضرورت ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتا رہ۔(بنی اسرائیل :111)

أَبِيهِ؛ أَنَّهُ كَانَ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1732

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1733

1733 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءُ الْمِيزَانِ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ا للہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کلمہ،الحمد للہ ،تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں ،یہ میزا ن کو بھر دینے والا کلمہ ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عَلْقَمَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1733

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1734

1734 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ فَإِمَّا عَقَدَهُنَّ بِيَدِهِ وَإِمَّا عَقَدَهُنَّ بِيَدِ السُّلَمِيِّ قَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالْوُضُوءُ نِصْفُ الْإِيمَانِ، وَالصِّيَامُ نِصْفُ الصَّبْرِ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ شُعْبَةَ وَالْآخَرُونُ نَحْوَهُ

بنو سلیم کے ایک بزرگ صحابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا ، یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھاما یا پھر اس صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک کو مضبوطی سے پکڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سبحان اللہ ، نصف ترازوں کو بھرنے والا ہے ،الحمد للہ ،مکمل ترزاو کو بھرنے والا ہے ،اللہ اکبر ،آسمان و زمین کے تمام خلاء کو بھرنے والا ہے ، وضو نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے ۔

شَيْخٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إِسْرَائِيلَ کُلُّهُمْ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1734

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1735

1735 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ هَاشِمِ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ فَقَدْ ذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ فَقَدْ شَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَدْ عَظَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَدْ وَحَّدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَقَدْ أَسْلَمَ وَاسْتَسْلَمَ وَكَانَ لَهُ بِهَا كَنْزٌ فِي الْجَنَّةِ "

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس شخص نے ’’بسم اللہ ‘‘ کے کلمات کہے اس نے اللہ عزوجل کا ذکر کیا ، جس شخص نے’’ الحمد للہ‘ کے کلمات کہے اس نے اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا ، جس شخص نے ،اللہ اکبر ، کہا اس نے اللہ عزوجل کی عظمت کو بیان کیا ، جس شخص نے ،لا الہ الا اللہ ،کہا اس نے یقینا اللہ عزوجل کی وحدانیت کو بیان کیا اور جس شخص نے ،لا حول ولا قوۃ الا باللہ ،اس نے یقینا اپنے آپ کو تابع اور مطیع بنالیا اور اس شخص کے لیے اس کے بدلے میں جنت میں خزانہ ہوگا ۔

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَدْ وَحَّدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ ← اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَدْ عَظَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ ← الْحَمْدُ لِلَّهِ فَقَدْ شَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ ← اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ ← بِسْمِ اللَّهِ فَقَدْ ← مَنْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الضَّحَّاكُ، ← جُوَيْبِرٍ ← سليمان بن أبي كريمة ← عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1735

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1736

1736 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي شِدْقَمٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَصْحَبُ أَبَا أُمَامَةَ يَعْنِي الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَزَا مَعَنَا فَكَانَ يُسْمِعُنَا الشِّعْرَ ثُمَّ يَقُولُ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَقُولُ هَذَا يَحْطِمُ هَذَا»

عباس بن ولید باہلی اپنے چچا ابوشدقم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے چچا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کرتا تھا ، ایک غزوے میں بھی ہمارے ساتھ شریک تھا ، وہ ہمیں اشعار سنایا کرتا تھا ، اشعار کے بعد یہ کلمات کہا کرتا :سُبْحَانَ اللَّہِ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ، وَلَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ، وَاللَّہُ اَکْبَرُ ،پھر آخر میں کہتا کہ یہ کلمات پہلے کلمات یعنی اشعار کے گناہ کو مٹادیتے ہیں ۔

عَمِّهِ أَبِي شِدْقَمٍ، ← الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَاهِلِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1736

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1737

1737 - حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا بَشِيرُ بْنُ زَاذَانَ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ: يَا بُنَيَّ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْبَقَاءَ وَلَا بَقَاءَ فَاجْعَلْ خَشْيَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ غِطَاكَ فَوْقَ رَأْسِكَ وَوِطَاكَ فَلَعَلَّكَ أَنْ تَنْجُوَ وَمَا أَرَاكَ بِنَاجٍ، يَا بُنَيَّ إِنَّ الدُّنْيَا بَحْرٌ عَمِيقٌ قَدْ غَرِقَ فِيهِ نَاسٌ كَثِيرٌ فَلْيَكُنْ سَفِينَتُكَ فِيهَا تَقْوَى اللَّهِ وَحَشْوُهَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَشِرَاعُهَا التَّوَكُّلُ عَلَى اللَّهِ وَمَجَاذِيفُهَا التَّسْبِيحُ وَالتَّهْلِيلُ، وَلَعَلَّكَ أَنْ تَنْجُوَ وَمَا أَرَاكَ بِنَاجٍ يَا بُنَيَّ إِنْ كُنْتَ لَا تُوقِنُ بِالْبَعْثِ فَإِذَا نِمْتَ فَلَا تَسْتَيْقِظْ فَإِنَّكَ كَمَا تَسْتَيْقِظُ فَكَذَلِكَ تُبْعَثُ، يَا بُنَيَّ اذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ هَمِّكَ إِذَا هَمَمْتَ وَعِنْدَ يَدِكَ إِذَا أَقْسَمْتَ وَعِنْدَ لِسَانِكَ إِذَا حَكَمْتَ "

جناب حسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لقمان حکیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:اے میرے پیارے بیٹے !اگر تو دنیا میں بقا اور دوام چاہتا ہے جبکہ اور ہمیشگی اوردوام کسی کو ملنے والا نہیں ہے پھر تم اپنے لباس میں، اپنے سر کے اوپر، اپنی چال ڈھال میں اور اپنے قدموں کے نیچے تک اللہ عزوجل کی خشیت کو ہمیشہ طاری رکھو۔اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں نجات حاصل ہوجائے لیکن مریا نہیں خیال کہ تم نجات حاصل کرنے والے ہو، اے میرے پیارے بیٹے !بلاشبہ یہ دنیا گہرا سمندر ہے، اس میں بہت سارے لوگ غرق ہو چکے ہیں، اس لئے اس سمندر سے گزرنے کے لیے تمہاری کشتی میں اللہ کا تقوی موجود ہونا چاہیے اور تمہاری کشتی ایمان سے بھرپور ہونی چاہیے، ایمان کے ارکان سے بھری ہوئی ہو ،اللہ پر تمہارا توکل مضبوط ہو اور تمہاری کشتی کوچلانے والے چپو تسبیح اور تکبیرکے کلمات چاہییں،اے میرے بیٹے ! شاید کہ تم نجات پاجاؤ لیکن میرا خیال نہیں ہے کہ تم نجات پا نے والے ہو ،اے میرے پیارے بیٹے! اگر تمہیں اس بات پر یقین نہیں ہے کہ موت کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گاتو پھر جب تم سو جاؤ تو اپنی نیند سے بیدار ہی نہ ہوسکو ۔اس لیے جس طرح تم اپنی نیند کے بعد بیدار ہوجاتے ہو اسی طرح مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اے میرے پیارے بیٹے! ہمیشہ اللہ کا ذکر کرو ،خاص طور پر جب تمہیں کوئی غم اور ہم لاحق ہو ،جب تم قسم اٹھائو تو قسم کو پورا کرنے کے لئے اللہ کا ذکر کرو اور جب بات کرو تو حکمت سے بھرپور بات کرو اور اللہ کا ذکر کرتے رہو۔

الْحَسَنِ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← رشدين بن سعد ← بَشِيرِ بْنِ زَاذَانَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1737

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجَوَامِعِ مِنَ التَّسْبِيحِ · حديث 1738

1738 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ خُزَيْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهَا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى أَوْ حَصًى تُسَبِّحُ بِهِ فَقَالَ: «أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا وَأَفْضَلُ، سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ»

حضرت عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہ اپنے والدرضی اللہ عنہ سے بیان کرتی ہیں کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس تشریف فرما ہوئے، اس عورت کے سامنے کچھ کنکریاں موجود تھی یا کھجور کی گٹھلیاں ،وہ عورت ان پر تسبیحات پڑھی تھی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں آگاہی اور خبر دیتا ہوں جو تمہارے لئے اس سے زیادہ کہیں آسان اور زیادہ افضل ہے، سُبْحَانَ اللَّہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِی السَّمَاء ِ، وَسُبْحَانَ اللَّہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِی الْاَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّہِ عَدَدَ مَا بَیْنَ ذَلِکَ، وَسُبْحَانَ اللَّہِ عَدَدَ مَا ہُوَ خَالِقٌ، وَاللَّہُ اَکْبَرُ مِثْلُ ذَلِکَ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ مِثْلُ ذَلِکَ، وَلَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ مِثْلُ ذَلِکَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللَّہِ مِثْلُ ذَلِکَ، اللہ کے لیے تسبیحات ہیں آسمان کی مخلوقات کی تعداد کے برابر، اللہ تعالیٰ کے لیے تسبیحات ہیں پوری زمین کی مخلوقات کی تعداد کے برابر، اللہ تعالیٰ کے لیے تسبیحات ہیں آسمان و زمین کے درمیان موجود ہر چیز کی تعداد کے برار ، اللہ کے لئے تسبیحات ہیں ہر اس چیز کی تعداد کے برابر جس کواللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کبریائی ہے اسی طرح ،اللہ تعالیٰ کے لیے تعریفات ہیں اسی طرح ، اللہ تعالیٰ کے لیے وحدانیت اور تہلیلات ہیں اسی طرح اور لاحول ولاقوۃ الاباللہ بھی اسی طرح۔

عائشة بنت سعد ← خزیمۃ۔ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1738

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجَوَامِعِ مِنَ التَّسْبِيحِ · حديث 1739

1739 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ثنا هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ كِنَانَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيَّ أَرْبَعَةُ أَلْفِ نَوَاةٍ أُسَبِّحُ بِهِنَّ فَقَالَ: «يَا بِنْتَ حُيَيٍّ مَا هَذَا؟» فَقُلْتُ أُسَبِّحُ بِهِنَّ، فَقَالَ: «قَدْ سَبَّحْتُ مُنْذُ قُمْتُ عَلَى رَأْسِكِ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا» قُلْتُ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «قُولِي سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ مِنْ شَيْءٍ»

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف فرما ہوئے، تب میرے سامنے چار ہزار گٹھلیاں موجود تھیں، میں ان کے اوپر تسبیحات پڑھ رہی تھی۔ آپ نے فرمایا:یا اے بنت حیی!یہ کیا ہے؟ میں نے کہا:اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!میں ان کے اوپر تسبیحات پڑھ رہی ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہاں پر تمہارے سر کے قریب کھڑے ہو کر اس سے بھی زیادہ مرتبہ اللہ کی تسبیح کو بیان کیا ہے۔ کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے بھی سکھلا دیں۔ آپ نے فرمایا: تم یہ کہا کرو: ’’ سُبْحَانَ اللَّہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ مِنْ شَیْء ٍ‘‘۔اللہ تعالیٰ کے لئے اس قدر تسبیحات ہیں جس قدر اللہ تعالی نے مخلوقات کو پیدا کیا ہے ۔

«يَا بِنْتَ حُيَيٍّ مَا هَذَا؟» فَقُلْتُ أُسَبِّحُ بِهِنَّ، ← دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ وَبَيْنَ يَدَيَّ أَرْبَعَةُ أَلْفِ نَوَاةٍ أُسَبِّحُ بِهِنَّ ← صَفِيَّةَ ← كنانة ← هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ ← شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1739

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجَوَامِعِ مِنَ التَّسْبِيحِ · حديث 1740

1740 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبِي قَالَ: وَحَدَّثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ، ثنا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ مُعَتِّبٍ، مَوْلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهَا وَبَيْنَ يَدَيْهَا كَوْمٌ مِنْ نَوًى فَسَأَلَهَا: «مَا هَذَا؟» فَقَالَتْ: أُسَبِّحُ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ سَبَّحْتُ مُنْذُ قُمْتُ عَلَيْكِ أَكْثَرَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، سَبَّحْتُ فَقُلْتُ» كَيْفَ قُلْتَ: قَالَ: «قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ»

حضرت صفیہ بنت حُیی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تب میرے سامنے گٹھلیوں کا ایک ڈھیر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں پوچھا یہ کیا ہے ؟انہوں نے عرض کیا: میں ان کے اوپر تسبیحات پڑھرہی ہوں ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میں نے تمہارے پاس یہاں کھڑے ہو کر اس سے زیادہ اللہ کی تسبیح کو بیان کیا ہے میں نے عرض کیا:اے اللہ کے نبی !وہ کس طرح ؟آپ نے فرمایا: میں نے یہ کلمات کہے ہیں: سبحان اللہ عدد ماخلق۔اللہ کے لیے اللہ کی مخلوقات کے برابر تسبیحات ہیں ۔

صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ مُعَتِّبٍ، مَوْلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ← وَحَدَّثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1740

chevron_left Previous
1…144145146…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter