Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ تَدْلِيَةِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 1213

1213 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِذَا أَدْخَلْتَ الْمَيِّتَ قَبْرَهُ فَقُلْ: «بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان فرتے ہیں کہ جب میت کو قبرمیں اتارا جائے تواس وقت یہ دعا پڑھی جائے :بِسْمِ اللَّہِ وَعَلَی سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اللہ کے نام کے ساتھ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ۔

عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← عبد الله بن محمد بن العباس الأصبهاني

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1213

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ قَبْرِ الْمَيِّتِ بَعْدَمَا يُدْفَنُ · حديث 1214

1214 - حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ الزُّبَيْدِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي [ص:365] كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي النَّزْعِ، قَالَ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَاصْنَعُوا بِي كَمَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصْنَعَ بِمَوْتَانَا، أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْ إِخْوَانِكُمْ فَسَوَّيْتُمُ التُّرَابَ عَلَى قَبْرِهِ فَلْيَقُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى رَأْسِ قَبْرِهِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَسْمَعُهُ وَلَا يُجِيبُ، ثُمَّ يَقُولُ يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَسْتَوِي قَاعِدًا، ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَقُولُ: أَرْشِدْ رَحِمَكَ اللَّهُ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ، فَلْيَقُلِ: اذْكُرْ مَا خَرَجْتَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّكَ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا، فَإِنَّ مُنْكَرًا وَنَكِيرًا يَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ وَيَقُولُ: انْطَلِقْ مَا نَقْعُدُ عِنْدَ مَنْ قَدْ لُقِّنَ حُجَّتَهُ، فَيَكُونُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَجِيجَهُ دُونَهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ يَعْرِفْ أُمَّهُ قَالَ: «يَنْسُبُهُ إِلَى حَوَّاءَ عَلَيْهَا السَّلَامُ، يَا فُلَانُ ابْنَ حَوَّاءَ»

سعید بن عبد اللہ اودی کہتے ہیں :میں ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا: تب ان پر نزع کی کیفیت طاری تھی، انہوں نے کہا: جب میں مر جاؤں تو میرے ساتھ تم اسی طرح کرنا جس طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیاہے کہ ہم اپنے مردوں کے ساتھ کیا کریں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی ایک فوت ہو جائے تو اس کو قبر میں اتارنے کے بعد اس کی قبر پر مٹی کو برابر کر دو،اس کے بعد اس کے سر کی جانب کھڑے ہو کر تم میں سے کسی ایک شخص کو چاہیے کہ وہ یہ الفاظ کہے :اے فلاں شخص ،فلاں عورت کے بیٹے ہیں!تب وہ ان الفاظ کو سن رہا ہوتا ہے ،لیکن تمہاری بات کی کا جواب نہیں دیتا ،پھر وہ کہے:اے فلاں شخص ،فلاں عورت کے بیٹے !بتب وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جاتا ہے ،پھر وہ کہے:اے فلاں شخص اور فلاں عورت کے بیٹے! تب وہ کہتا ہے :درست بات کہو، اللہ تعالی تیرے اوپر اپنی رحمت کو نازل لیکن تمہیں اس بات کا شعور نہیں ہوتا ۔اس کے بعد تم میں سے اس شخص کو یہ کہنا چاہیے :تو اس وقت اور اس حالت کو یاد کر کہ جس حالت میں تودنیا سے روانہ ہوا تھا اللہ کی توحید کی گواہی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی ۔اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ،وہ اکیلا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور بے شک تو نے کہا تھا : میں اللہ کو رب مان کر راضی ہوں ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کرراضی ہو ںاور اسلام کو دین مان کر راضی ہوں ،قرآن کو پیشوا مان کر راضی ہوں۔ بے شک منکر اورنکیر میں سے ہر ایک اس کو اپنے ہاتھ سے پکڑتے ہیں اور اسے کہتے ہیں :اس کی طرف چلو کہ جس کی توحید کی تمہیں تلقین کی گئی تھی ، تو اللہ عزوجل اس کا گواہی ہوتا ہے ، ان دونوں کے علاوہ ۔اس وقت مجلس میں موجود ایک آدمی نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اگر دعا کرنے والے کو اس میت کی ماں کے نام کا علم نہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تب تم اس کی نسبت اماں ہوا کی طرف کر دو: اے فلاں ،اے اماں ہواعلیہا السلام کے بیٹے! ۔

«إِذَا ← شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ وَهُوَ فِي النَّزْعِ، ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عبد الله بن محمد القرشي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ الزُّبَيْدِيُّ، ← أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1214

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ قَبْرِ الْمَيِّتِ بَعْدَمَا يُدْفَنُ · حديث 1215

1215 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا سَوَّى عَلَيْهِ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَسْلَمَهُ إِلَيْكَ الْأَهْلُ وَالْمَالُ وَالْعَشِيرَةُ، وَذَنْبُهُ عَظِيمٌ فَاغْفِرْ لَهُ»

کثیر بن مدرک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ میت کی قبر پر مٹی کو برابر کرنے کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے :اللَّہُمَّ اَسْلَمَہُ إِلَیْکَ الْاَہْلُ وَالْمَالُ وَالْعَشِیرَۃُ، وَذَنْبُہُ عَظِیمٌ فَاغْفِرْ لَہُ،اے اللہ !اس کے مال ، اہل و عیال اور رشتہ داروں نے تیرے سپرد کردیا ہے ، اس کے گناہ بہت بڑے ہیں ، تو اس کو بخش دے ۔

«اللَّهُمَّ أَسْلَمَهُ إِلَيْكَ الْأَهْلُ وَالْمَالُ وَالْعَشِيرَةُ، وَذَنْبُهُ عَظِيمٌ فَاغْفِرْ لَهُ» ← كَانَ عُمَرُ إِذَا سَوَّى عَلَيْهِ ← کَثِيرِ بْنِ مُدْرِکٍ الْأَشْجَعِيِّ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1215

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَعْزِيَةِ الْمُصَابِ · حديث 1216

1216 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، ثنا مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو الْأَسَدِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَزِّيهِ بِابْنِهِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، سَلَامٌ عَلَيْكَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعْظَمَ اللَّهُ لَكَ الْأَجْرَ، وَأَلْهَمَكَ الصَّبْرَ، وَرَزَقَنَا وَإِيَّاكَ الشُّكْرَ، فَإِنَّ أَنْفُسَنَا وَأَمْوَالَنَا وَأَهْلِينَا وَأَوْلَادَنَا مِنْ مَوَاهِبِ اللَّهِ الْهَنِيَّةِ وَعَوَارِيهِ الْمُسْتَوْدَعَةِ، مَتَّعَكَ بِهِ فِي غِبْطَةٍ وَسُرُورٍ، وَقَبَضَهُ مِنْكَ بِأَجْرٍ كَبِيرٍ، الصَّلَاةُ وَالرَّحْمَةُ [ص:366] وَالْهُدَى إِنِ احْتَسَبْتَهُ فَاصْبِرْ، وَلَا يُحْبِطْ جَزَعُكَ أَجْرَكَ فَتَنْدَمَ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْجَزَعَ لَا يَرُدُّ مَيِّتًا وَلَا يَدْفَعُ حُزْنًا، وَمَا هُوَ نَازِلٌ فَكَأَنْ قَدْ وَالسَّلَامُ»

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کے بیٹے کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعزیت کرنے کے لئے ان کو خط لکھا ،خط کے الفاظ :اللہ کے نام کے ساتھ جوبڑا مہربان ،نہایت رحم کرنے والا ہے ۔یہ خط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے لئے ہے، تمہارے اوپر سلامتی ہو، میں تمہارے سامنے اس اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اس کی تعریف بیان کرتا ہوں کہ جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، حمد و ثناء کے بعد! اللہ تعالیٰ تمہیں عظیم اجر سے نوازے، تمہیں صبر کی توفیق دے، ہمیں اور تمہیں شکر کی نعمت سے مالا مال کرے ،بلاشبہ ہماری جانیں ،ہمارے مال، ہمارے اہل و عیال اور ہماری اولادیں اللہ تعالی کے عطیات میں سے ہیں اور اللہ تعالی نے یہ سب کچھ ہمیں عاریتاًعطاء کیا ہے ،اللہ تعالی نے تمہیں تمہارے بیٹے کے ذریعے سے رشک اور سرور کے انداز میں فائدہ پہنچایا کیا اوراس نے اجر کبیر کے ساتھتمہارے بیٹے کو تم سے واپس بلالیا ۔ تمہارے لیے تمہارا بیٹا بخشش کا،رحمت کااور ہدایت کا باعث ہوگا اگر تم اس پرثواب کی امید رکھو گے ،اس لئے صبرسے کام لو ، جزع وفزع کرکے اپنے اجر کو ضائع نہ کرو،اس پرتمہیں ندامت کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ بات یاد رکھو! بلاشبہ جزع وفزع کرنا، رونا پیٹنا فوت شدہ کو واپس نہیں لوٹا سکتا اورنہ اس غم ہلکا ہوسکتا ہے ۔جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل ہونے والا تھا وہ ہو چکا ۔و السلام۔

إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ يُعَزِّيهِ بِابْنِهِ، ← مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ، ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو الأَسَدِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1216

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَعْزِيَةِ الْمُصَابِ · حديث 1217

1217 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَعَدَ أَصْحَابُهُ يَبْكُونَ حَوْلَهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ طَوِيلٌ صَبِيحٌ فَصِيحٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ أَشْعَرُ الْمَنْكِبَيْنِ وَالصَّدْرِ فَتَخَطَّى أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ فَبَكَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: إِنَّ فِي اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَعِوَضًا مِنْ كُلِّ مَا فَاتَ، فَإِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنِيبُوا وَإِلَيْهِ فَارْغَبُوا، فَإِنَّ الْمُصَابَ مِنْ حُرِمَ الثَّوَابَ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیںکہجب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے آس پاس بیٹھ کرآپ پر رونے لگے ۔اسی دوران ایک آدمی طویل قد وقامت والا، بہترین لباس والا، اچھی چال ڈھا والا آیا ، جس کے سینے اور کندھوں پرپر بال نمایاں تھے۔ اس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گردنوں کو پھلانگا، آگے بڑھا ا،س نے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑا اور وہاں کھڑے ہو کے رسول اللہ صلی اللہ وسلم پر رونے لگا کچھ وقت تک وہ روتا رہا ۔پھر اس نے کہا :بے شک اللہ تعالیٰ ہر مصیبت پر تعزیت کا حکم دیا ہے ، ہر جانے والے کا بہترین جانشین ہوا کرتا ہے اور جو کچھ کھو جاتا ہے اللہ تعالی اس کاعوض عطا فرماتا ہے۔ اس لئے تم سب اللہ عزوجل کی طرف رجوع کرو ،اسی کی طرف رغبت رکھو ۔حقیقی مضیبت زدہ وہ ہے جو اجر ثواب سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو مَعْمَرٍ، ← کَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ الْجَحْدَرِیُّ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1217

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَعْزِيَةِ الْمُصَابِ · حديث 1218

1218 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ الْجَدِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، عَنِ الْأَشْعَثَ بْنِ طَلِيقٍ، أَنَّهُ سَمِعَ الْحَسَنَ الْعُرَنِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «نَعَى إِلَيْنَا نَبِيُّنَا وَحَبِيبُنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی اور ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہمیں (اپنی )موت کی اطلاع دی ۔

«نَعَى إِلَيْنَا نَبِيُّنَا وَحَبِيبُنَا نَفْسَهُ» ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ← الْأَشْعَثَ بْنِ طَلِيقٍ، أَنَّهُ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ الْجُدِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1218

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَعْزِيَةِ الْمُصَابِ · حديث 1219

1219 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا خَلَّادٌ الصَّفَّارُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ طَلِيقٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَعَى إِلَيْنَا نَبِيُّنَا وَحَبِيبُنَا بِأَبِي هُوَ نَفْسَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ، فَلَمَّا دَنَا الْفِرَاقُ جَمَعَنَا فِي بَيْتِ أَمِّنَا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ وَتَشَدَّدَ فَقَالَ: " مَرْحَبًا بِكُمْ حَيَّاكُمُ اللَّهُ، رَحِمَكُمُ اللَّهُ، آوَاكُمُ اللَّهُ، نَصَرَكُمُ اللَّهُ، رَفْعَكُمُ اللَّهُ، نَفَعَكُمُ اللَّهُ، هَدَاكُمُ اللَّهُ، رَزَقَكُمُ اللَّهُ، وَفَّقَكُمُ اللَّهُ، سَلَّمَكُمُ اللَّهُ، قَبِلَكُمُ اللَّهُ، أُوصِيكُمْ [ص:367] بِتَقْوَى اللَّهِ، وَأُوصِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِكُمْ، وَأَسْتَخْلِفْهُ عَلَيْكُمْ، إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ، لَا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي عِبَادِهِ وَبِلَادِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لِي وَلَكُمْ {تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ} [القصص: 83] ، وَقَالَ {أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْمُتَكَبِّرِينَ} [الزمر: 60] " ثُمَّ قَالَ: «قَدْ دَنَا الْأَجَلُ وَالْمُنْقَلَبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَإِلَى جَنَّةِ الْمَأْوَى، وَإِلَى الرَّفِيقِ الْأَعْلَى، وَالْكَأْسِ الْأَوْفَى، وَالْحَظِّ وَالْعَيْشِ الْمُهَنَّى» قُلْنَا: فَمَنْ يُغَسِّلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِي، الْأَدْنَى فَالْأَدْنَى» قُلْنَا: وَكَيْفَ نُكَفِّنُكَ؟ قَالَ: «فِي ثِيَابِي هَذِهِ إِنْ شِئْتُمْ أَوْ فِي حُلَّةٍ يَمَانِيَةٍ أَوْ فِي بَيَاضٍ مِصْرَ» قُلْنَا: فَمَنْ يُصَلِّي عَلَيْكَ مِنَّا؟ فَبَكَيْنَا وَبَكَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ثُمَّ قَالَ: «مَهْلًا غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ وَجَزَاكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ خَيْرًا إِذَا غَسَّلْتُمُونِي وَكَفَّنْتُمُونِي فَضَعُونِي عَلَى سَرِيرِي فِي بَيْتِي هَذَا عَلَى شَفِيرِ قَبْرِي، ثُمَّ اخْرُجُوا عَنِّي سَاعَةً فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيَّ جَلِيسَيْ وَخَلِيلِي جِبْرِيلُ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ، ثُمَّ مَلَكُ الْمَوْتِ مَعَ جُنُودِهِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، ثُمَّ ادْخُلُوا عَلَيَّ فَوْجًا فَوْجًا، فَصَلُّوا عَلَيَّ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا، وَلَا تُؤْذُونِي بِتَزْكِيَةٍ وَلَا ضَجَّةٍ وَلَا رَنَّةٍ، وَلْيَبْدَأْ بِالصَّلَاةِ عَلَيَّ رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِي وَنِسَاؤُهُمْ، ثُمَّ أَنْتُمْ، ثُمَّ اقْرَأُوا عَنِّي السَّلَامَ كَثِيرًا مَنْ غَابَ مِنْ أَصْحَابِي فَإِنِّي قَدْ سَلَّمْتُ عَلَى مَنْ تَابَعَنِي عَلَى دِينِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» قُلْنَا: فَمَنْ يُدْخِلُكَ فِي قَبْرِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَهْلِي مَعَ مَلَائِكَةٍ كَثِيرٍ يَرَوْنَكُمْ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ» وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْبَلْخِيِّ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نبی، ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر ہماری جان فدا ہو آپ نے خود ہمیں اپنی موت سے پہلے ایک ماہ پہلے اپنی موت کے بارے میں آگاہی دی تھی ،جب آپ کا قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہماری اماں جان عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اکھٹا کیا ،پھر آپ صلی اللہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا آپ کی آنکھیں آنسوئوں سے پڑیں، پھر آپ نے اپنے آنسوؤں کو روک لیا اورہمیں مخاطب کرتے ہوئیفرمایا: تمہارے لیے خوش آمدید ہے تم سب کو اللہ تعالیٰ زندہ و سلامت رکھے، اللہ تعالیٰ تم سب پر رحم فرمائے ،اللہ تعالیٰ تمہیں جگہ عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے ،اللہ تعالیٰ تمہیں بلندی عطا فرمائے ،اللہ تعالیٰ تمہیں نفع عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ تمہیں رزق عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانیاں پیدا فرمائے ،اللہ تعالیٰ تمہیں سلامتی کے ساتھ رکھے، اللہ تعالیٰ تمہارے نیک اعمال کو قبول فرمائے ،میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور میں تمہیں اللہ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں اور میں تمہیں ہیں اس کا جانشین مقرر کرتا ہوں۔ بیشک میں تمہارے لئے واضح طور پے ڈرانے والا ہوں۔ تم اللہ کے حوالے سے کبھی سرکشی سے کام نہ لینا ،اللہ کے بندوں پر اللہ کے شہروں میں ظلم میں زیادتی نہ کرنا ، اس لئے کہ اللہ عزوجل نے میرے اور تمہارے لئے یہ بات فرمائی ہے:{تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِینَ لَا یُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِینَ} یہ دنیا کا گھر ہے ،ہم اس کو بناتے ہیں ان لوگوں کے لئے یے جو دنیا میں سرکشی کو پسند نہیں کرتے اور نہ ہی وہ فساد کو پسند کرتے ہیں، یقینی طور پر اچھا انجام پرہیزگار لوگوں کے لئے اور متقی لوگوں کے لئے ہے ۔}(القصص :80)اور اسی طرح اللہ تعالی کا یہ فرمان:{(اَلَیْسَ فِی جَہَنَّمَ مَثْوًی لِلْمُتَکَبِّرِینَ}کیا تکبر کرنے والوں کے لیے جہنم کاٹھکانہ نہیں ہے(الزمر:60) اس کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :یقینا میری موت کا وقت قریب آچکا ہے اللہ کی طرف پلٹ جانے کا وقت قریب آچکا ہے، سدرۃ المنتہیٰ پر جانے کا وقت قریب آچکا ہے ،جنت الماویٰ کی طرف کوچ کر جانے کا وقت قریب آچکا ہے،رفیق اعلیٰ کے پاس جانے کا وقت قریب آچکا ہے،جام مکمل بھر نے کا وقت آچکا ہے ،اپنا حصا وصول کرنے کا وقت آچکا ہے اور بابرکت زندگی کا وقت قریب آچکا ہے ۔ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو غسل کون دے گا ؟آپ نے فرمایا :میرے اہل بیت میں سے میرے سب سے قریبی مرد حضرات ۔ہم نے کہا: ہم آپ کو کفن کیسے دیں گے؟آپ نے فرمایا:میرے انہی کپڑوںمیں اور اگر تم چاہو تویمنی حلے میں یا سفید مصری چادروں میں،ہم نے کہا: ہم میں سے کون آپ کی نماز جنازہ بڑھائے گا ؟اس بات پرہم رو پڑے اور اللہ کے نبی صلی وسلم کی آنکھیں بھی آنسو بہانے لگیں، پھر آپ نے فرمایا:ٹھہر جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے ،اللہ تعالی تمہیں تمہارے نبی کی طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے، جب تم لوگ مجھے غسل دے کر فارغ ہوجائو اور مجھے کفن پہنا کے فارغ ہو جاؤ تو مجھے اور میری چارپائی کو چھوڑ کر کچھ وقت کے لیے تم میرے پاس سے باہر چلے جانا،اس لئے کہ کہ مجھ پر سب سے پہلے نماز جنازہ پڑھنے والے میرے ساتھی میرے خلیل جبریل علیہ السلام ہیں، پھر میکائیل ہیں، پھر اسرفیل ہیں، پھر ملک الموت ہیں علیہم السلام جواپنے لشکروں کے ساتھآئیں گے ۔اس کے بعد تم لوگ گروہ در گروہ میرے پاس آنا، میرے پاس کھڑے ہو کر درود پڑھنا ،سلام پڑھنا اور تم میرے پاس کھڑے ہو کر آہ و بکا اور رونے کے ساتھ مجھے اذیت نہ دینا، مجھ پر دردو پڑھنے کے معاملے میں سب سے پہلے میرے اہل بیت میں سے مرد حضرات اور عورتیں آئیں پھر تم لوگ آئو اور درود و پر سلام پڑھنا ۔میر ی اتباع کرنے والوں میں سے جومیرے صحابہ میں یہاں پر موجود نہیں ہیں،قیامت تک میری اتباع کرنے والوں کو میری طرف سے سلام ۔ ہم نے کہا: آپ کوآپ کی قبر میں کون اتارے گا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:میرے اہل و عیال اللہ کے فرشتوں کے ساتھ جو تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ← أَشْعَثَ بْنِ طَلِيقٍ، ← خَلَّادٌ الصَّفَّارُ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ← عمرو بن محمد العنقزي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1219

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَعْزِيَةِ الْمُصَابِ · حديث 1220

1220 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْخُزَاعِيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقِدَاحُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، وَدَخَلَ، عَلَيْهِ رَجُلَانِ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ قَبْلَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ هَبَطَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: يَا أَحْمَدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِكْرَامًا وَتَفْضِيلًا لَكَ وَخَاصَّةً لَكَ أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ، يَقُولُ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا» فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ هَبَطَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهَبَطَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهَبَطَ مَعَهُمَا مَلَكٌ فِي الْهَوَاءِ يُقَالُ لَهُ إِسْمَاعِيلُ عَلَى سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ لَيْسَ فِيهِمْ مَلَكٌ إِلَّا عَلَى سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُشَيِّعُهُمْ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: يَا أَحْمَدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِكْرَامًا لَكَ وَتَفْضِيلًا لَكَ وَخَاصَّةً لَكَ أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ يَقُولُ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا» قَالَ: وَاسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا أَحْمَدُ هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ مَا اسْتَأْذَنَ عَلَى آدَمِيٍّ قَبْلَكَ وَلَا يَسْتَأْذِنُ عَلَى آدَمَيٍّ بَعْدَكَ، فَقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ» فَأَذِنَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: يَا أَحْمَدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ وَأَمَرَنِي أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ، إِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْبِضَ نَفْسَكَ قَبَضْتُهَا، وَإِنْ كَرِهْتَ تَرَكْتُهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَفْعَلُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ؟» قَالَ: نَعَمْ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا أَحْمَدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اشْتَاقَ إِلَى لِقَائِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ» فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: هَذَا آخِرُ وَطْأَتِي بِالْأَرْضِ إِنَّمَا كُنْتَ حَاجَتِي مِنَ الدُّنْيَا، قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ جَاءَ آتٍ يَسْمَعُونَ حِسَّهُ وَلَا يَرَوْنَ شَخْصَهُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ إِنَّ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَدَرْكًا مِنْ كُلِّ مَا فَاتَ، بِاللَّهِ فَثِقُوا وَإِيَّاهُ فَارْجُوا فَإِنَّ الْمُصَابَ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ

حضرت علی بن حسین رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس دو قریشی آدمی داخل ہوئے،حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ان کو کہا:کیا میں تمہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتائوں؟ان دونوں نے کہا: کیوں نہیں !انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد گرامی رحمہ اللہ سے سنا، آپ نے فرمایا:جب میری وفات سے قبل تیسرا دن تھا تو جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے، انہوں نے کہا:اے احمد !بے شک اللہ عزوجل نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے ،آپ آپ کی عزت، تکریم اور تفضیل کے لیے اور خاص طور پرآپ سے سوال کرنے کے لیے ، جس کے بارے میںآپ مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں ، آپ اپنے کو کیساپا رہے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جبرئیل !میں اپنے آپ کو غمزدہ حالت میں بارہا ہوں ،اے جبریل !میں اپنے آپ کو کرب کی حالت میں پارہا ہوں۔ جب تیسرا دن تھا یعنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا آخری دن تھا تو جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے ،ان کے ساتھ ملک الموت تھا اور ایک اور فرشتہ جو کہ فضا میں معلق تھا، جس کو اسماعیل کہا جاتا ہے ہے وہ ستر ہزار فرشتوں کا نگہبان ہے، ان میں سے ہر ایک فرشتہ ستر ہزار فرشتوں کا نگران ہے اورجبریل علیہ السلام ان تمام فرشتوںکی قیادت کرتے ہوئے آئے ،اور نہوں نے کہا: اے احمد!بے شک اللہ عزوجل نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے ،آپ آپ کی عزت، تکریم اور تفضیل کے لیے اور خاص طور پرآپ سے سوال کرنے کے لیے ، جس کے بارے میں آپ مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں ، آپ اپنے کو کیساپا رہے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جبرئیل !میں اپنے آپ کو غمزدہ حالت میں بارہا ہوں ،اے جبریل !میں اپنے آپ کو کرب کی حالت میں پارہا ہوں۔ملک الموت نے آپ کے دروازے پر آکر آپ سے اجازت طلب کی ،جبریل کہتے ہیں:اے احمد !یہ ملک الموت ہیں، آپ سے اجازت مانگ رہے ہیں، انہوں نے آپ سے پہلے کبھی کسی آدمی سے اجازت نہیں مانگی اور نہیں آپ کے بعد کسی سے اجازت طلب کریں گے ، آپ نے کہا: اے جبرئیل !اس کو اجازت دے دو، جبریل لے ان کو اجازت دے دی، ملک الموت آگے آئے اور آپ کے سامنے آکھڑے ہوئے ، انہوں نے کہا :اے احمد! بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے اور اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کے حکم کی تابعداری کروں، اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اگر آپ مجھے حکم دیں گے تو میں آپ کی روح کو قبض کر لوں گا اگر آپ اس بات کو ناپسند کریں گے تو میں چھوڑ دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اس سے کہا :کیا تو ایسا ہی کرے گا؟ اس نے کہا : ہاں !میں ایسا ہی کرنے والا ہوں۔ اس لئے کہ مجھے آپ کی تابعدار ی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔جبریل علیہ السلام نے آپ سے کہا : اللہ عزوجل آپ کی ملاقا ت کا اشتیاق رکھتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک الموت سے فرمایا :تم وہی کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔جبریل نے کہا:یہ میرا زمین پر آخری چکر ہے اس کے بعد مجھے زمین پر آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے اور آپ کی تعریت کرنے والے آئے تو تب جبریل بھی آپ کی تعزیت کرنے کے لیے آئے ۔لوگوں نے آپ کو حسی طور پردیکھا نہیں لیکن آپ کی آمد کے یعنی جبرئیل کی آمد کے اثرات اور نشانات کو دیکھا ۔جبریل نے آپ کے پاس آکر کہا: السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ، تمہارے پر سلامتی ہو ،اللہ کی رحمتیں ہوںاور اللہ کی برکتیں ہوں۔ہر جان موت کاذائقہ چکھنے والی ہے بے شک اللہ کی رضا میں ہر مصیبت پرہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر جانے والے کا اچھا جانشین مقرر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہرتباہ ہوجانے والے کا برا نائب مقرر کیا ہے ۔ اللہ پر توکل کرو اور اسی سے اچھائی کی امید رکھو ۔بیشک حقیقی مصیبت زدہ وہ ہے جس کو اجر و ثواب سے محروم کردیا گیا ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، وَدَخَلَ، عَلَيْهِ رَجُلَانِ مِنْ قُرَيْشٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقدَّاحُ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْخُزَاعِيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1220

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَعْزِيَةِ الْمُصَابِ · حديث 1221

1221 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ شُعَيْبِ بْنَ الْحَبْحَابِ، قَالَ: كَتَبَ شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ إِلَى أَبِي صَادِقٍ يُعَزِّيهِ عَلَى ابْنٍ لَهُ، فَقَالَ لَهُ فِيمَا يَقُولُ: اعْلَمْ أَنَّهُ مَنْ لَمْ يَقُلْ فِي الْمُصِيبَةِ مَا قَالَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ كَانَ الَّذِي رُزِيَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَكْثَرَ مِمَّا رُزِيَ مِنْ مُصِيبَتِهِ، فَاعْلَمْ ذَاكَ أَجْزَاكَ اللَّهُ وَأَعْقَبَكَ عُقْبَى تَنْفَعُكَ وَالسَّلَامُ

ابو بکر بن شعیب بن حبحاب کہتے ہیں :شعیب بن حبحاب نے ابو صادق سے ان کے بیٹے کی تعزیت کرنے کے لیے ان کومکتوب لکھا ، ان سے کہا :میں جانتا ہوں کہ جس شخص نے مصیبت کے لمحات میں وہ کلما ت نہ کہے جو اللہ عزوجل نے سکھلائے ہیں ،یعنی اس نے جزع وفزع نہ کی ، تو اس کی اللہ عزوجل کی طرف سے اس کی اس مصیبت کی وجہ سے اجر وثواب سے نوزاز جاتا ہے ۔یہ بات یاد رکھو :اللہ تعالیٰ ہی اجر دینے والا ہے اور اس کا نعم البدل دینے والا ہے ۔والسلام ۔

اعْلَمْ أَنَّهُ مَنْ لَمْ يَقُلْ فِي الْمُصِيبَةِ مَا ← لَهُ فِيمَا ← شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ إِلَى أَبِي صَادِقٍ يُعَزِّيهِ عَلَى ابْنٍ لَهُ، ← أَبُو بَکْرِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1221

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَعْزِيَةِ الْمُصَابِ · حديث 1222

1222 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قُلْنَا لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ: كَيْفَ يُعَزَّى؟ قَالَ: بَلَغَنِي عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ مَرَّ بِأَهْلِ بَيْتٍ فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «عَظَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَجْرَكُمْ وَغَفَرَ لِصَاحِبِكُمْ» ثُمَّ مَضَى وَلَمْ يَقْعُدْ فَقِيلَ لَهُ: وَمَنْ يُعَزَّى؟ قَالَ: يُعَزَّى كُلُّ حَزِينٍ، فَقَدْ يَكُونُ الرَّجُلُ يَحْزَنُ عَلَى صَاحِبِهِ وَأَخِيهِ أَشَدَّ مِنْ جَزْعِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ

اسحاق بن ابراہیم کہتے ہیں :ہم نے عبد الرزاق سے کہا:تعزیت کیسے کی جاتی ہے ؟انہوں نے کہا:حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ان کا گزر یک گھر کے پاس سے ہوا ، وہ وہاں پر ٹھہر ے اورا ن سے کہا:اللہ عزوجل تمہیں اس پر عظیم اجر سے نوازے اورتمہارے ساتھی کو معاف کردے ۔ یہ کہہ کر وہاں سے چل دئیے ، وہاں بیٹھے نہیں ۔ان سے پوچھاگیا :تعزیت کس سے کی جائے گی ؟انہوں نے فرمایا:ہر غمزدہ شخص سے ، بعض اوقات انسان اپنے دوست اور اپنی بھائی کی وفات پر اپنے اہل و عیال کے مقابلے میں زیادہ غمزدہ ہوا کرتا ہے ۔

الْحَسَنِ أَنَّهُ مَرَّ بِأَهْلِ بَيْتٍ فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ ← بلغني ← قُلْنَا لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ: كَيْفَ يُعَزَّى؟ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1222

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ثَوَابِ مَنْ عَزَّى مُصَابًا · حديث 1223

1223 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی ، اس کی ڈھارس بندھائی اس کے لیے صبر کرنے والے کے برابر اجر ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1223

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ثَوَابِ مَنْ عَزَّى مُصَابًا · حديث 1224

1224 - حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الصُّدَائِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی ، اس کی ڈھارس بندھائی اس کے لیے صبر کرنے والے کے برابر اجر ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الصُّدَائِيُّ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1224

chevron_left Previous
1…101102103…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter