Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1189

1189 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ ابْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ»

واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں سے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے یہ دعا کی :اللَّہُمَّ إِنَّ فُلَانَ ابْنَ فُلَانٍ فِی ذِمَّتِکَ، وَحَبْلِ جِوَارِکَ، فَقِہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَاَنْتَ اَہْلُ الْوَفَاء ِ وَالْحَقِّ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَارْحَمْہُ، إِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیم،اے اللہ !فلاں بن فلاں تیرے حوالے ہے ، تیری رحمت کے سائے میں ہے ، تو اس کو قبر کے فتنے سے اور آگے کے عذاب سے بچا ۔ اے اللہ !توہی وفا اور حق والا ہے ۔ اے اللہ !اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرمادے ، بلاشبہ تو خوب معاف کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔

صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1189

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1190

1190 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عُمَرُ بْنُ زُرَارَةَ الْحَدَثِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيُّ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى قَبْرَ طَلْحَةَ بْنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَفَّ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ الْقَ طَلْحَةَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ، وَيَضْحَكُ إِلَيْكَ»

حضرت حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کی قبر پر آئے ، آپ وہاں کھڑے ہوئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بنائی ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی :اللَّہُمَّ الْقَ طَلْحَۃَ تَضْحَکُ إِلَیْہِ، وَیَضْحَکُ إِلَیْکَ،اے اللہ !طلحہ سے ہنستے ہوئے ملنا اور وہ بھی ہنستے ہوئے تیری طرف آئے ۔

حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ، ← أَبِيهِ ← عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيُّ الْمَدَنِيُّ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عُمَرُ بْنُ زُرَارَةَ الْحَدَثِيُّ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1190

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1191

1191 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ عَمَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ سَبْرَةَ أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ بِجِنَازَةٍ سَهْلِ بْنِ عَتِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صُلِّيَ عَلَيْهِ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ فَتَقَدَّمَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى وَكَبَّرَ، فَقَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَجَهَرَ بِهَا، ثُمَّ كَبَّرَ الثَّانِيَةَ وَصَلَّى عَلَى نَفْسِهِ وَعَلَى الْمُرْسَلِينَ، ثُمَّ كَبَّرَ الثَّالِثَةَ فَدَعَا لِلْمَيِّتِ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ، وَأَعْظِمْ أَجْرَهُ، وَأَتْمِمْ نُورَهُ، وَأَفْسِحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَأَلْحِقْهُ بِنَبِيِّهِ» ثُمَّ كَبَّرَ الرَّابِعَةَ فَدَعَا لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ سَلَّمَ

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سہل بن عتیک کا جنازہ لایا گیا ۔ یہ وہ شخص ہے کہ جناز گاہ میں سب سے پہلی نماز جنازہ اسی کی ادا کی گئی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔آپ نے تکبیر کہی ،بلند آواز میں سورہ فاتحہ پڑھی ، پھر دوسری تکبیر کہی، اس کے بعد آپ نے اپنے آپ کے لیے اور انبیاء کے لیے درود پڑھا ۔ پھر آپ نے تیسری تکبیر کہی،اس کے بعد میت کے لیے ان الفاظ میں دعا کی :اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَارْحَمْہُ، وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ، وَاَعْظِمْ اَجْرَہُ، وَاَتْمِمْ نُورَہُ، وَاَفْسِحْ لَہُ فِی قَبْرِہِ، وَاَلْحِقْہُ بِنَبِیِّہِ،اے اللہ !اس کو بخش دے ، اس پر رحم فرما ، اس کے درجات کو بلند فرما ، اس کے اجر کو بڑھا دے ، اس کے نور کو مکمل کردے ،اس کے لیے اس کی قبر میں کشادگی کردے اور اس کو اس کے نبی کی رفاقت عطاء کر ۔ پھر آپ نے چوتھی تکبیر کہی ، اس کے بعد آپ نے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے لیے دعا کی اور سلام پھیرا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عِيسَى بْنُ سَبْرَةَ أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ النَّوْفَلِيُّ، ← سليم بن منصور بن عمار، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1191

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1192

1192 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فَقَالَ: إِنَّا نَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُ، خَلَقْتَهُ وَرَزَقْتَهُ، أَحْيَيْتَهُ وَكَفَيْتَهُ، فَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ، وَلَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ»

ابو صدیق ناجی کہتے ہیں میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نماز جنازہ کی دعائوں کے بارے میں سوال کیا انہوں نے کہا:ہم یہ دعا پڑھتے ہیں :اللَّہُمَّ اَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّہُ، خَلَقْتَہُ وَرَزَقْتَہُ، اَحْیَیْتَہُ وَکَفَیْتَہُ، فَاغْفِرْ لَنَا وَلَہُ، وَلَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَہُ،اے اللہ !تو ہمارا رب ہے اور اس کا رب ہے ، تو نے اس کو پیدا کیا اور اس کو رزق عطاء کیا ، اس کو زندگی دی ، کی ضروریات پوری کیں ، ہمیں معاف کردے اور اس کو بخش دے ،ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کرنا اورہمیں اس کے بعد گمراہ نہ کرنا ۔

الصَّلاَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ ← سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1192

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1193

1193 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ عَلَى الْجَنَائِزِ: " اللَّهُمَّ أَصْبَحَ عَبْدَكَ، إِنْ كَانَ صَبَاحًا، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً قَالَ: اللَّهُمَّ أَمْسَى عَبْدُكَ قَدْ تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا وَتَرْكَهَا لِأَهْلِهَا، وَافْتَقَرَ إِلَيْكَ وَاسْتَغْنَيْتَ عَنْهُ، وَكَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَاغْفِرْ لَهُ وَتَجَاوَزْ عَنْهُ "

سعید بن مسیب رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے :شام کا وقت کا ہوتا تو کہتے :اے اللہ !تیرے بندے نے اس حال میں شام کی ۔۔اور اگر صبح کا وقت ہوتا تو کہتے :اللَّہُمَّ اَمْسَی عَبْدُکَ قَدْ تَخَلَّی مِنَ الدُّنْیَا وَتَرْکَہَا لِاَہْلِہَا، وَافْتَقَرَ إِلَیْکَ وَاسْتَغْنَیْتَ عَنْہُ، وَکَانَ یَشْہَدُ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، فَاغْفِرْ لَہُ وَتَجَاوَزْ عَنْہ،اے اللہ !تیرے بندے نے اس حال میں صبح کی ہے کہ وہ دنیا سے الگ ہوچکا ہے اور وہ دنیا کودنیا والوں کے لیے چھوڑ گیا ہے ، تیرا محتاج ہوچکا ہے اور اس سے بے نیاز ہے ۔یہ گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، یہ گواہی دیتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیر ے رسول ہیں ۔اس کو بخش دے اور اس سے درگزر فرما ۔

عَلَى الْجَنَائِزِ: اللَّهُمَّ أَصْبَحَ عَبْدَكَ، إِنْ كَانَ صَبَاحًا، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ ← طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1193

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1194

1194 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنِ الدُّعَاءِ، فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ، فَقَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَصْبَحَ عَبْدُكَ قَدْ تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا وَتَرْكَهَا لِأَهْلِهَا وَافْتَقَرَ إِلَيْكَ، وَاسْتَغْنَيْتَ عَنْهُ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ فَاغْفِرْ لَهُ وَتَجَاوَزْ عَنْهُ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً قَالَ: أَمْسَى عَبْدُكَ، وَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً قَالَ: أَمَتُكَ "

طارق بن عبد الرحمن بجلی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے نماز جنازہ کے بارے میں سوال کیا :سعید بن مسیب رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے :شام کا وقت کا ہوتا تو کہتے :اے اللہ !تیرے بندے نے اس حال میں شام کی ۔۔اور اگر صبح کا وقت ہوتا تو کہتے :اللَّہُمَّ اَصْبَحَ عَبْدُکَ قَدْ تَخَلَّی مِنَ الدُّنْیَا وَتَرْکَہَا لِاَہْلِہَا وَافْتَقَرَ إِلَیْکَ، وَاسْتَغْنَیْتَ عَنْہُ، کَانَ یَشْہَدُ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ فَاغْفِرْ لَہُ وَتَجَاوَزْ عَنْہُ،اے اللہ !تیرے فلاں بندے نے اس حال میں صبح کی ہے کہ وہ دنیا سے الگ ہوچکا ہے اور وہ دنیا کودنیا والوں کے لیے چھوڑ گیا ہے ، تیرا محتاج ہوچکا ہے اور اس سے بے نیاز ہے ۔یہ گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، یہ گواہی دیتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیر ے رسول ہیں ۔اس کو بخش دے اور اس سے درگزر فرما ۔اگر عورت کا جنازہ ہوتا تو کہتے :تیری فلاں بندی نے صبح کی ۔

كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← الدُّعَاءِ، فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ، ← سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ← طارق بن عبد الرحمن البجلي ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1194

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1195

1195 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنِ الصَّلَاةِ، عَلَى الْمَيِّتِ فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ كَلِمَاتٍ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُهَا؟ قُلْتُ: أَجَلْ، فَذَكَرَ: «اللَّهُمَّ أَصْبَحَ عَبْدُكَ فُلَانٌ قَدْ تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا وَتَرْكَهَا لِأَهْلِهَا، وَافْتَقَرَ إِلَيْكَ وَاسْتَغْنَيْتَ عَنْهُ، وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، وَكَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَاغْفِرْ لَهُ وَتَجَاوَزْ عَنْهُ»

طارق بن عبد الرحمن بجلی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے نماز جنازہ کے بارے میں سوال کیا :سعید بن مسیب رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ اگر تم چاہتے ہوتو میں تمہیں اس دعا کے بارے میں بتادیتا ہو ں ، میں نے کہا :ہاں آپ بتادیں ۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے :شام کا وقت کا ہوتا تو کہتے :اللَّہُمَّ اَصْبَحَ عَبْدُکَ فُلَانٌ قَدْ تَخَلَّی مِنَ الدُّنْیَا وَتَرْکَہَا لِاَہْلِہَا، وَافْتَقَرَ إِلَیْکَ وَاسْتَغْنَیْتَ عَنْہُ، وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَیْرًا، وَاَنْتَ اَعْلَمُ بِہِ، وَکَانَ یَشْہَدُ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، فَاغْفِرْ لَہُ وَتَجَاوَزْ عَنْہُ،اے اللہ !تیرے بندے نے اس حال میں شام کی ۔۔اور اگر صبح کا وقت ہوتا تو کہتے :اے اللہ !تیرے فلاں بندے نے اس حال میں صبح کی ہے کہ وہ دنیا سے الگ ہوچکا ہے اور وہ دنیا کودنیا والوں کے لیے چھوڑ گیا ہے ، تیرا محتاج ہوچکا ہے اور اس سے بے نیاز ہے ۔یہ گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، یہ گواہی دیتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیر ے رسول ہیں ۔اس کو بخش دے اور اس سے درگزر فرما ۔

إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ كَلِمَاتٍ كَانَ عُمَرُ يَقُولُهَا؟ قُلْتُ: أَجَلْ، ← الصَّلاَةِ عَلَى الْمَيِّتِ ← سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ← طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1195

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1196

1196 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ إِنْ كَانَ صَبَاحًا قَالَ: " اللَّهُمَّ أَصْبَحَ عَبْدُكَ فُلَانٌ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً قَالَ: اللَّهُمَّ أَمْسَى عَبْدُكَ فُلَانٌ "

طارق بن عبد الرحمن بجلی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے نماز جنازہ کے بارے میں سوال کیا :سعید بن مسیب رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے :شام کا وقت کا ہوتا تو کہتے :اے اللہ !تیرے بندے نے اس حال میں شام کی ۔۔اور اگر صبح کا وقت ہوتا تو کہتے :اے اللہ !تیرے فلاں بندے نے اس حال میں صبح کی ہے ۔

اللَّهُمَّ أَمْسَى عَبْدُكَ فُلَانٌ ← اللَّهُمَّ أَصْبَحَ عَبْدُكَ فُلَانٌ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً ← فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ إِنْ كَانَ صَبَاحًا ← کَانَ عُمَرُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1196

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1197

1198 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عَلَى الْمَيِّتِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَحْيَائِنَا وَأَمْوَاتِنَا، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاجْعَلْ قُلُوبَنَا عَلَى قُلُوبِ أَخْيَارِنَا، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ أَرْجِعْهُ إِلَى خَيْرٍ مِمَّا كَانَ فِيهِ، اللَّهُمَّ عَفْوَكَ، اللَّهُمَّ عَفْوَكَ»

عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ← مَنْصُورٌ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1197

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1198

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ، نَحْوَهُ

حضرت عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابزی روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے :اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِاَحْیَائِنَا وَاَمْوَاتِنَا، وَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوبِنَا، وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا، وَاجْعَلْ قُلُوبَنَا عَلَی قُلُوبِ اَخْیَارِنَا، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ، اللَّہُمَّ ارْحَمْہُ، اللَّہُمَّ اَرْجِعْہُ إِلَی خَیْرٍ مِمَّا کَانَ فِیہِ، اللَّہُمَّ عَفْوَکَ، اللَّہُمَّ عَفْوَکَ ،اے اللہ !ہمارے زندوں اور مردوں کو معاف کردے ، ہمارے دلوں میں الفت پیدا کردے ہماری آس میں صلح کروادے اور ہمارے معاملات درست کردے اور ہمارے دلوں کو سب سے بہترین دلوں میں بدل دے ۔ اے اللہ !اس کو معاف کردے ، اے اللہ !اس پررحم فرمادے ، اے اللہ !اس کو اس جگہ سے بہتر جگہ عطاء کردے جہاں یہ موجود تھا ، اے اللہ !تیری بخشش ، اے اللہ !تیری بخشش ۔ دوسری سند سے ۔۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب میت کی نماز جنازہ ادا کرتے تو یہ دعا کرتے : اے اللہ !اس کو بخش دے ۔۔باقی اسی طرح ۔

إِذَا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ، نَحْوَهُ ← أَنَّ عَلِيًّا كَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1198

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1199

1199 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ، وَاغْفِرْ لَهُ، وَأَوْرِدْهُ حَوْضَ رَسُولِكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ يَعْنِي بَارَكْ فِيهِ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ

نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز جنازہ میں یہ دعا کیا کرتے تھے :اے اللہ !اسے برکتیں عطاء کر ،اس پر رحمتیں نازل کر ، اس کو بخش دے اور اس کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض پر وارد کرنا ۔دوسری سند سے ، نافع عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔برکت کا مطلب ہے کہ اس کو جنت میں داخل فرما ۔

نَافِعًا ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1199

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1200

1200 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَيْفَ تُصَلِّي عَلَى الْجَنَائِزِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا لَعَمْرُ اللَّهِ أُخْبِرُكَ، أَتَّبِعُهَا مَعَ أَهْلِهَا، فَإِذَا وُضِعَتْ كَبَّرْتُ وَحَمِدْتُ اللَّهَ تَعَالَى، وَصَلَّيْتُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقُولُ: «اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ»

سیعد بن ابو سعید مقبری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ آپ نماز جنازہ کیسے پڑھتے ہیں ؟حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم !میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں ،نماز جنازہ میں میت کے اہل و عیال کے ساتھ چلتے ہوئے جناہ گا ہ میں جایا کرتا ، جب میت کو رجھ دیا جاتا تو اللہ اکبر کہتا ، اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتا ،اس کے بعد یہ دعا پڑھتا :اللَّہُمَّ عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ اَمَتِکَ، کَانَ یَشْہَدُ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ، وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَاَنْتَ اَعْلَمُ بِہِ، اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِی إِحْسَانِہِ، وَإِنْ کَانَ مُسِیئًا فَتَجَاوَزْ عَنْہُ، اللَّہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہُ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہُ،اے اللہ !یہ تیرا بندہ ہے ، تیرے بندے کا بیٹا ہے ، یہ گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، یہ گواہی دیتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ۔اے اللہ !تو اس کے بارے میں زیادہ جانتا ہے ، اگر نیکو کار تھا تو اس کی نیکیوں میں اضافہ فرما ، اور اگر یہ خطا کار تھا تو اس کو بخش دے ۔اے اللہ !تو ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کرنا اور اس کے جانے کے بعد ہمیں فتنے میں مبتلا نہ کرنا ۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ تُصَلِّي عَلَى الْجَنَائِزِ؟ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1200

chevron_left Previous
1…99100101…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter