سنن دار القطنی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ أَحَادِيثِ الْقَهْقَهَةِ فِي الصَّلَاةِ وَعِلَلِهَا · حديث 603
603 - حَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ , نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الدَّانَاجُ , وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ , نا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو الْأَحْوَصِ الْأَبْرَمُ , وَحَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ , نا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّرَسُوسِيُّ قَالُوا: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ , نا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ , وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ أَعْمَى تَرَدَّى فِي بِئْرٍ , فَضَحِكَ [ص:299] نَاسٌ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ ضَحِكَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ». وَقَالَ أَبُو أُمَيَّةَ , عَنْ أَنَسٍ , وَأَبِي الْعَالِيَةِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَدَخَلَ أَعْمَى الْمَسْجِدَ فَتَرَدَّى فِي بِئْرٍ فَضَحِكَ النَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ مُخَلَّدٍ , عَنْ أَنَسٍ , وَأَبِي الْعَالِيَةِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَبِئْرٌ وَسَطَ الْمَسْجِدِ , فَجَاءَ أَعْمَى فَوَقَعَ فِيهَا , فَضَحِكَ نَاسٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ ضَحِكَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ». قَالَ أَبُو أُمَيَّةَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ. قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَلَّامٍ غَيْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ يَضَعُ الْحَدِيثَ. وَرَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ يَضَعُ الْحَدِيثَ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خُوطٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ
ابو العالیہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص کنویں میں گر گیا تو لوگ نبیﷺ کے پیچھے ( نماز پڑھتے ہوئے ) ہنس پڑے، تو رسول اللہﷺ نے ان لوگوں کو حکم فرمایا: جو ہنسے تھے کہ وہ ضوء بھی دوبارہ کریں اور نماز بھی دوبارہ پڑھیں۔ ابو امیہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور ابو العالیہ سے یوں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک نابینا شخص مسجد میں داخل ہوا اور کنویں میں گر گیا ، تو لوگ رسول اللہﷺ کے پیچھے کھڑے ( نماز میں ہی) ہنس پڑے۔ ابن مخلد نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور ابو العالیہ سے یوں نقل کیا ہے کہ رسول اللہﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور مسجد کے درمیان میں ایک کنواں تھا، ایک نابینا شخص آیا اور اس میں گر پڑا۔ کچھ لوگوں کو ہنسی آگئی تو رسول اللہﷺ نے ان لوگوں کو ، جو ہنسے تھے ، یہ حکم فرمایا کہ وہ وضوء بھی دوبارہ کریں اور نماز بھی دوبارہ پڑھیں۔ ابو امیہ کہتے ہیں ؛ یہ حدیث منکر ہے ۔ شیخ ابو الحسن (یعنی امام دار قطعی رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں : اس حدیث کو عبدالرحمان بن عمر وبن جبلہ کے علاوہ کسی نے سلام سے روایت نہیں کیا اور وہ متروک راوی ہے اور اپنی طرف سے ہی حدیث گھڑ لیا کرتا تھا۔ اور داؤد بن محبر نے بھی اسے روایت کیا ہے اور یہ بھی متروک ہے اور حدیث گھڑا کرتا تھا، اس نے ایوب بن خوط سے روایت کیا ہے اور یہ بھی ضعیف ہے ، اس سے آگے قتادہ اور انس رضی اللہ عنہ کا واسطہ ہے ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← قَتَادَةَ ← سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، ← أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّرَسُوسِيُّ ← أَبُو هُرَيْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو الْأَحْوَصِ الْأَبْرَمُ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ ← أحمد بن عبد الله بن زياد الداناج ← بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › The door of the conversations of laughter in prayer and its reasoning · Hadith 603
