سنن دار القطنی · کتاب ‹ بَابُ إِمَامَةِ جَبْرَائِيلَ · حديث 1009
1009 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ إِمْلَاءً , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ , ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ , أنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ , ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ , قَالَ: جَاءَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ , فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ [ص:482] فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ , ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ , فَجَاءَهُ الْعَصْرَ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ , فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَاءً , ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا , ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ بِالصُّبْحِ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ , ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ , فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ , ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ , فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ , ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزَلْ عَنْهُ قَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ , ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعِشَاءِ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَصَلَّى , ثُمَّ جَاءَهُ لِلصُّبْحِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا , فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ , ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ هَذَيْنِ كُلُّهُ وَقْتٌ . [ص:483]
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبیﷺ کے پاس اس وقت تشریف لائے جس وقت سورج ڈھل چکا تھا ، اور کہا: اے محمد ! اٹھو اور ظہر کے نماز پڑھو۔ چنانچہ آپ اٹھے اور ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جس وقت سورج ڈھل چکا تھا۔ پھر وہ ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت یہ ہو گیا کہ جب آدمی کا سایہ ایک مثل ہو جائے ، چنانچہ انہوں نے کہا: اے محمد ! اٹھو اور عصر کی نماز پڑھو۔ چنانچہ آپ اٹھے اور عصر کی نماز پڑھی ۔ پھر وہ ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، چنانچہ انہوں نے کہا: اٹھو اور مغرب کی نماز پڑھو۔ چنانچہ آپﷺ اٹھے اور انہوں نے مغرب کی نماز اس وقت پڑھی جس وقت سورج بالکل غروب ہو چکا تھا ۔ پھر وہ ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ شفق ختم ہو گئی ۔ پھر وہ آپ ﷺ کےپاس آئے اور کہا: اٹھو اور عشاء کی نماز پڑھو چنانچہ آپ اٹھے اور عشاء کی نماز پڑھی ، پھر وہ آپ کے پاس صبح کو اس وقت آئے جس وقت فجر پھوٹ پڑی تھی اور کہا: اے محمد ! اٹھو اور نماز پڑھو، چنانچہ آپ اٹھے اور صبح کی نماز پڑھی۔ پھر جبرائیل علیہ السلام اگلے روز آپ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کے مثل ہو چکا تھا ، اور کہا: اے محمد ! اٹھو اور ظہر کی نماز پڑھو ، چنانچہ آپ اٹھے اور ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر وہ آپ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جس وقت آدمی کا سایہ دو مثل ہو گیا تھا اور کہا : اے محمد ! اٹھو اور عصر کی نماز پڑھو ۔ چنانچہ آپ ﷺ اٹھے اور عصر کی نماز پڑھی۔ پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جس وقت سورج غروب ہو گیا تھا، یہ ایک ہی وقت رکھا اس کو تبدیل نہیں کیا۔ پھر کہا : اٹھو اور مغرب کی نماز پڑھو۔ چنانچہ آپﷺ اٹھے اور مغرب کی نماز پڑھی ۔ پھر وہ آپ ﷺ کے پاس عشاء کے وقت تب ائے جب رات کا پہلا ایک تہائی حصہ گزر چکا تھا اور کہا: اٹھو اور عشاء کی نماز پڑھو۔ چنانچہ آپﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر وہ صبح کے وقت آپ ﷺ کے پاس تب آئے جب خوب روشنی ہو گئی تھی اور کہا: اٹھو اور صبح کی نماز پڑھو، پھر کہا : ان دو وقتوں کے درمیان سارا وقت ان نمازوں کا وقت ہے ۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی النَّيْسَابُورِيُّ ← يحيى بن محمد بن صاعد
Sunan Dar Al Qutni · prayer book › The door of the Imamate of Gabriel · Hadith 1009
