1220 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ , وَأَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ , ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ , ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ , عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ , وَمَكْحُولٍ , عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ , كَذَا قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ , يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ , فَقُلْتُ: رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ فِي صَلَاتِكَ شَيْئًا , قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ , قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ , قَالَ: نَعَمْ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ , قَالَ: «مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَقْرَأُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ؟» , قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ فَلَا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ». هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ. وَرَوَاهُ يَحْيَى الْبَابَلُتِّيُّ , عَنْ صَدَقَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ , عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ. [ص:102]
نافع بن محمود بن ربیع بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو ام القرآن ( سورۃ الفاتحہ) کی قرآت کرتے سنا، جبکہ ابو نعیم ( امامت کراتے ہوئے ) جہری قرآت کر رہے تھے ۔ تو میں نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے اپنی نماز میں کچھ عمل کیا ہے ۔ انہوں نے پوچھا : کیا؟ نافع نے کہا: میں آپ کو ام القرآن کی قرآت کرتے سنا، جبکہ ابو نعیم ( امامت کراتے ہوئے ) جہری قرآت کر رہے تھے ۔ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک نماز پڑھائی جس میں آپ بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے ، جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: جب میں نے بلند آواز سے قرآت کی تو کیا تم میں سے کوئی قرآن سے کچھ پڑھ رہا تھا؟ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! جی ہاں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا بات ہے مجھ سے قرآن کیوں چھینا جا رہا ہے ؟ جب میں اونچی آواز میں قرآت کروں تم میں سے کوئی قرآن سے کچھ بھی بالکل نہ پڑھا کرے۔ یہ اسناد حسن ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔ یحییٰ البابلتی نے صدقہ سے ، انہوں نے زید بن واقد سے ، انہوں نے عثمان بن ابی سودہ سے اور انہوں نے نافع بن محمود سے اس کو روایت کیا ہے ۔
وَمَا ذَاکَ ← أَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَقُلْتُ: رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ فِي صَلَاتِكَ شَيْئًا ← عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ← أَنَّهُ ← نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ كَذَا ← حرَام بْنِ حَكِيمٍ وَمَكْحُولٍ ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ
Sunan Dar Al Qutni · prayer book › The door to the obligation to read the mother of the Book in prayer and behind the imam · Hadith 1220