319 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى , نا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , وَالْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ , وَاللَّفْظُ لِأَبِي الْوَلِيدِ , قَالَا: نا [ص:167] هَمَّامٌ , نا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ , قَالَ: كَانَ رِفَاعَةُ وَمَالِكُ بْنُ رَافِعٍ أَخَوَيْنِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ , قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ , إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» , فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُصَلِّي وَنَحْنُ نَرْمُقُ صَلَاتَهُ لَا نَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا , فَلَمَّا صَلَّى جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» - قَالَ هَمَّامٌ: فَلَا أَدْرِي أَمَرَهُ بِذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا - فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَلَوْتُ فَلَا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ مِنْ صَلَاتِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ , فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ , وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ , ثُمَّ يُكَبِّرُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ , ثُمَّ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَمَا أَذِنَ لَهُ فِيهِ وَتَيَسَّرَ , ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ وَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ , وَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهَ لِمَنْ حَمِدَهُ , وَيَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يُقِيمَ صُلْبَهُ وَيَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ , ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ وَجْهَهُ " , قَالَ هَمَّامٌ: وَرُبَّمَا قَالَ: «جَبْهَتَهُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ , ثُمَّ يُكَبِّرُ [ص:168] فَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ» , فَوَصَفَ الصَّلَاةَ هَكَذَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ قَالَ: «لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ»
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، یا کہا کہ آپ ﷺ تشریف فرما تھے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ نماز پڑھ چکا تو اس نے رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو سلام کیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: وعلیک السلام، واپس جاؤ اور نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ۔ تو وہ پھر نماز پڑھنے لگا اور ہم اس کی نماز کو بغور دیکھ رہے تھے۔ ہمیں معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ نماز میں کیا غلطی کر رہا ہے۔ پھر جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو (مسنم میں ) آیا، نبی ﷺ کو سلام عرض کیا اور لوگوں کو بھی سلام کہا ، تو نبی ﷺ نے اس سے پھر فرمایا وعلیک السلام، واپس جاؤ اور نماز پڑھ کر آؤ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ ہما م رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ آپ ﷺ نے اسے دو مرتبہ یہ حکم دیا یا تین مرتبہ۔ چنانچہ اس آدمی نے کہا: میں نے کوئی کمی نہیں کی اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ آپ میری نماز میں کیا غلطی دیکھ رہے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بلاشبہ تم میں سے کسی کی بھی نماز اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اسں طرح کامل وضوء نہ کر لے جس طرح اللہ تعالی نے اسے حکم فرمایا ہے، وہ اپنے چہرے کو دھوئے اور کہنیوں تک بازو دھوئے ، اپنے سر کا مسح کرے اور ٹخنوں تک پاؤں دھوئے، پھر ( نماز پڑھنے کے لیے) اللہ اکبر کہے، ثناء پڑھے، پھر سورة فاتحہ پڑھے اور اس کے بعد اسے (قرآن کی جو بھی سورت ) آسان لگے یا جس کا اسے حکم ہو وہ پڑھے، پھر اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں چلا جائے اور اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھے، یہاں تک کہ اس کے جوڑ اطمینان کی حالت میں ہو جائیں اور کشادہ ہو جائیں، پھر وہ (سمع الله لمن حمده )کہے اور سیدھا کھڑا ہو جائے ، یہاں تک کہ اس کی کمر بھی بالکل سیدھی ہو جائے اور ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جائے، پھر وہ اللہ اکبر کہہ کر سجدے میں چلا جائے اور اپنے چہرے کو۔ ہمام نے ان الفاظ کی بجائے کہا ہے کہ اپنی پیشانی کو زمین پر رکھے یہاں تک کہ اس کے جوڑ آرام و سکون کی حالت میں ہو جائیں اور کشادہ ہو جائیں، پھر وہ اللہ اکبر کہہ کر اپنی پیٹھ پر سیدھا ہو کر بیٹھ جائے اور اپنی کمر کو بھی سیدھا کر لے۔ پھر آپ ﷺ نے چاروں رکعات کا یہی طریقہ بیان کیا، یہاں تک کہ مکمل بیان کر دیا ، پھر فرمایا: تم میں سے کسی بھی شخص کی نماز تب تک پوری نہیں ہوتی جب تک وہ اس طرح نہ پڑھے۔
كَانَ رِفَاعَةُ وَمَالِكُ بْنُ رَافِعٍ أَخَوَيْنِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ← عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ: ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامٌ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ وَاللَّفْظُ لِأَبِي الْوَلِيدِ ← هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › Chapter on the obligation to wash the feet and the feet · Hadith 319