سنن دار القطنی · کتاب ‹ بَابُ دُعَاءِ الِاسْتِفْتَاحِ بَعْدَ التَّكْبِيرِ · حديث 1137
1137 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ , ثنا الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنُ الْمُشْرِكِينَ {إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ [ص:56] رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ} [الأنعام: 163] اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ , لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ , وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " , وَإِذَا رَكَعَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي» , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ , قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِينَ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» , فَإِذَا سَجَدَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلْقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» , وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي , أَنْتَ الْمُقَدَّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ»
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نماز کا آغاز کرتے تھے تو تکبیر کہنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے : ٭ وجھت وجھی للذی فطرالسماوات والارض حنیفا وما انا من المشرکین، ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین لا شریک ٭”میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کر لیا جس نے یکسو ہو کر آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ یقینا میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اس اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں تابع فرمان لوگوں میں سے پہلا ہوں ۔ اے الله! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہی میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اپنے گناہ کا اعتراف کر لیا، لہذا تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے، کیونکہ یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا، میں حاضر ہوں، پھر حاضر ہوں، ہر قسم کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور برائی کو تیری طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا، میں تیرا ہوں اور میرا ٹھکانہ تیری ہی طرف ہے، تو با برکت اور بلند ہے، میں تجھ سے مغفرت کا طلبگار ہوں اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں ۔"نبی ﷺجب رکوع میں جاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: "اے اللہ! میں تیرے لیے جھک گیا ہوں ، تجھ پر ایمان لایا ہوں اور تیرا مطیع ہوں ۔ میرے کان میری آنکھیں، میری ہڈیاں ، گودا اور پٹھے سب ہی تیرے سامنے عاجزی کا مظہر ہیں ۔ "جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے: سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ملء السماوات وملء الأرضين وما بينهما ويل ما بينت من شیء بعد ٭اللہ تعالی نے اس (کی پکار) کوسن لیا جس نے اس کی تعریف کی، اسے ہمارے رب! آسمانوں اور زمینوں اور ان دونوں، اور ان کے بعد جو بھی چیز تو چاہے وہ سب کرنے کے برابر تعریفات تیرے ہی لیے ہیں۔ جب آپ سجدے میں جاتے تو یہ پڑھتےتھے:”اے اللہ! تیرے ہی لیے میں سجدہ ریز ہوا، تجھ ہی پر میں ایمان لایا اور تیرے ہی مطیع ہوا، میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کیا، اس کی صورت گری کی اور اسے اچھی صورت میں بنایا، اور اس میں کان اور آنکھیں بنائیں، اللہ تعالی برکت والا ہے اور سب سے اچھی تخلیق کرنے والا ہے۔ نبی ﷺ جب نماز پڑھنے کے بعد سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے:”اے اللہ! میرے سب گناہ اور میری تمام تقصیری معاف فرما دے، جو میں پہلے کر چکا اور جو میں نے بعد میں کیں، جو چھپے ہوئے کیں اور جو ظاہر میں کیں، جو میں حد سے بڑھا رہا اور جن کا تو مجھ سے زیادہ باخبر ہے۔ تو ہی (نیکی اور خیر میں )آگے کر نے والا اور پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود ہیں۔“
عَلِيٍّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← الماجشون بن أبي سلمة ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ
Sunan Dar Al Qutni · prayer book › The door to the supplication after opening up · Hadith 1137
