سنن دار القطنی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي مَا رُوِيَ فِيمَنْ نَامَ قَاعِدًا وَقَائِمًا وَمُضْطَجِعًا وَمَا يَلْزَمُ مِنَ الطَّهَارَةِ فِي ذَلِكَ · حديث 596
596 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلَانَ , نا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ , نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ , نا أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ , [ص:293] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ وَهُوَ سَاجِدٌ حَتَّى غَطَّ أَوْ نَفَخَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قَدْ نِمْتَ , فَقَالَ: «إِنَّ الْوُضُوءَ لَا يَجِبُ إِلَّا عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا , فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ». تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو خَالِدٍ عَنْ قَتَادَةَ وَلَا يَصِحُّ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کوسجدے کی حالت میں نیند آگئی ، یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے ،یا منہ سے پھونک نکلنے لگی ، پھر آپ اٹھے اور ( باقی ) نماز پڑھی۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ تو سو گئے تھے ۔ تو آپﷺ نے فرمایا: بلا شبہ وضوء صرف اس شخص پر واجب ہوتا ہے جو چت لیٹ کر سوئے، کیونکہ جب وہ چت لیٹ کر سوتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ اس کو قتادہ رحمہ اللہ سے اکیلے ابو خالد نے روایت کیا ہے اور یہ روایت صحیح نہیں۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ [ص:293] ← قَتَادَةَ ← أبو خالد الدالاني ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلَانَ،
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › A chapter in what was narrated, who sleeps sitting, standing, and lying down, and what is required of purity in that · Hadith 596
