سنن دار القطنی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ مَعَ خُرُوجِ الدَّمِ السَّائِلِ مِنَ الْبَدَنِ · حديث 869
869 - وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ , ثنا أَبُو كُرَيْبٍ , وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْكُوفِيُّ , [ص:416] قَالَا: ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ , عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ فَأَصَابَ رَجُلٌ امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا أَتَى زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا فَلَمَّا أُخْبِرَ الْخَبَرَ حَلَفَ أَنَّهُ لَا يَنْتَهِي حَتَّى يُهْرِيقَ دَمًا فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَرَجَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا - وَقَالَ الْقَاضِي: فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا - قَالَ: «مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ؟» , قَالَ: فَيَبْتَدِرُ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ , فَقَالَ: «كُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ» , فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَدْ نَزَلُوا الشِّعْبَ مِنَ الْوَادِي , فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِّ الشِّعْبِ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ: أَيُّ اللَّيْلِ تُحِبُّ أَنْ أَكْفِيَكَ: أَوَّلُهُ أَوْ آخِرُهُ؟ , قَالَ: بَلِ اكْفِنِي أَوَّلَهُ , قَالَ: فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ فَنَامَ وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي , وَأَتَى الرَّجُلُ فَلَمَّا رَأَى شَخَصَ الرَّجُلِ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ , فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَانْتَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا , ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ [ص:417] فَوَضَعَهُ فِيهِ فَانْتَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا , ثُمَّ عَادَ لَهُ بِالثَّالِثِ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ أَهَّبَ صَاحِبَهُ , فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَقَدْ أَثْبَتَ فَوَثَبَ , فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنْ قَدْ نَذَرُوا بِهِ فَهَرَبَ , فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ , قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَفَلَا أَهْبَبْتَنِي , - وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: أَفَلَا أَنْبَهْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ؟ - قَالَ: كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَأُهَا فَلَمْ أُحِبُّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِذَهَا , فَلَمَّا تَابَعَ عَلَيَّ الرَّمْيَ رَكَعْتُ فَأَذَنْتُكَ , وَأَيْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أُضِيعُ ثَغْرًا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا أَوْ أُنْفِذَهَا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے مشرکین کی ایک عورت کوقتل کر دیا، پھر جب رسول اللہ ﷺقافلہ کے ساتھ واپس آئے تو اس کا خاوند آیا جو اس وقت موجود نہیں تھا ، جب اس کو پتہ چلا تو اس نے قسم اٹھائی کہ وہ تب تک باز نہیں آئے گا جب تک کہ وہ رسول اللہ ﷺکے صحابہ میں سے کسی کو قتل نہ کر دے۔ چنانچہ وہ نکلا اور رسول اللہ ﷺکے قدموں کے نشانات پر چلتا ہوا پیچھا کرنے لگا۔ رسول اللہ ﷺنے راستے میں ایک مقام پر پڑا ؤ کیا، تو آپ ﷺنے فرمایا: اس رات ہمارا پہرہ کون دے گا؟ تو ایک آدمی مہاجرین میں سے اور ایک آدی انصار میں سے اس کام کے لیے آمادہ ہو گئے اور ان دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم پہرہ دیں گے ۔ تو آپ ﷺنے فرمایا: تم دونوں اس گھاٹی کے دہانے پر کھٹر ے رہا ۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺاور ان کے صحابہ وادی سے گھاٹی کی طرف اتر گئے، پھر جب وہ دونوں آدمی گھاٹی کے منہ کی طرف نکل گئے تو انصاری صحابی نے مہاجر صحابی سے کہا: آپ رات کے کس حصے کی ذمہ داری مجھ کو سونپنا چاہیں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ تم پہلے حصے کی ذمہ داری لے لو۔ چنانچہ مہاجر صحابی لیٹ (کر سو )گئے اور انصاری صحابی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ راوی کہتے ہیں کہ ادھر سے اس عورت کا خاوند بھی آ گیا ، اس نے جب آدمی کی پر چھائی سی دیکھی تو سمجھ گیا کہ یہ اس قوم کا پہرے دار ہے، چنانچہ اس نے انہیں تیر مارا جو ان کے اندر پو ست گیا۔ انصاری نے اس تیر کو کھینچا اور نیچے رکھ دیا اور خود اسی طرح نماز پڑھتے رہے۔ اس نے ایک اور تیر مارا اور وہ بھی ان کے اندر پیوست ہو گیا، صحابی نے اس تیر کو بھی باہر نکالا اور نیچے رکھ دیا، اور خود نماز پڑھتے رہے۔ اس آدمی نے ایک مرتبہ پھر تیر مارا اور یہ تیر بھی ان کے اندر پیوست ہو گیا ، انہوں نے اس کو بھی باہر کھینچ کر نیچے رکھ دیا اور خود کھڑے نماز پڑھتے رہے، پھر انہوں نے رکوع کیا، پھر انہوں نے اپنے ساتھی کو جگا دیا، تو انہوں نے کہا: بیٹھے رہو، میں ابھی آیا۔ پھر وہ اچھل کر کھڑے ہو گئے ۔ جب اس آدی نے ان دونوں صحابیوں کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ اس نے دوسرے کو بھی جگا دیا ہے، چنانچہ وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ جب مہاجر نے انصاری کو لہولہان دیکھا تو کہا: سبحان اللہ! جب اس نے آپ کو پہلا تیر مارا تو آپ نے مجھے اسی وقت کیوں نہ اٹھا دیا؟ تو انہوں نے کہا: میں نے ایک سورت کی قرآت شروع کر دی تھی تو میں نے پسند نہ کیا کہ میں اس کو ملم کیے بغیر ادھورا ہی چھوڑ دوں ، لیکن مجھ کو پے در پے تیر لگے تو میں نے رکوع کر دیا اور آپ کو آواز دی، اور اللہ کی قسم! اگر مجھے کو یہ خدشہ نہ ہوتا کہ میں اس ذمہ داری کو نبھا نہیں پا ؤں گا جس کو سرانجام دینے کا رسول اللہ ﷺنے مجھ کو حکم فرمایا ہے تو میری جان تو چلی جاتی لیکن اس سورت کو ولورا نہ چھوڑتا۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، ← صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْكُوفِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ
Sunan Dar Al Qutni · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The door to the permissible prayer with the exit of blood from the body · Hadith 869
