سنن دار القطنی · کتاب ‹ بَابُ مَنْ كَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ وَحْدَهُ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ فَلْيُصَلِّ مَعَهَا · حديث 1532
1532 - حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ , قَالَا: نا هُشَيْمٌ , ثنا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ , نا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ , فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَانْصَرَفَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ , فَقَالَ: «عَلَيَّ بِهِمَا» , فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا , فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟» , قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا , قَالَ: «لَا تَفْعَلَا , إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلَّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمْ نَافِلَةٌ». [ص:281]
سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجتہ الوداع میں شریک تھا تو میں نے آپ کے ہمراہ مسجد خیف میں صبح کی نماز پڑھی ۔ جب آپ نے نماز مکمل کی اور سلام پھیرا تو دیکھا کہ دو آدمی لوگوں کے آخر میں بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی ، تو آپﷺ نے فرمایا: ان دونوں کو میرے پاس لے کر آؤ۔ چنانچہ انہیں آپ ﷺ ک ےپاس لایا گیا تو ( آپ کے رعب کی وجہ سے ) ان کے پٹھے کانپ رہے تھے ۔ آپﷺ نے استفسار فرمایا: تمہیں کیا رکاوٹ تھی کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ تو ان دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم اپنی منزل میں ہی پڑھ آئے تھے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا مت کیا کرو، جب تم اپنی منزل (گھر ) میں نماز پڑھ لو، پھر تم مسجد میں آؤ اور جماعت ہو رہی ہو تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لو، یقیناً وہ تہمارے لیے نفل بن جائے گی۔
أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هُشَيْمٌ ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ،
Sunan Dar Al Qutni · prayer book › The door of the one who prays the morning alone and then realizes the group so that he can pray with her · Hadith 1532
