سنن دار القطنی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ فِي الْخَلَاءِ · حديث 161
161 - نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ , نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , نا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ , عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ , قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ جَلَسَ يَبُولُ إِلَيْهَا , فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا , فَقَالَ: «بَلَى إِنَّمَا نُهِيَ [ص:93] عَنْ ذَلِكَ فِي الْفَضَاءِ فَإِذَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُكَ فَلَا بَأْسَ». هَذَا صَحِيحٌ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ
مروان اصفر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی سواری کے جانور کو قبلہ رخ بٹھایا، پھر خود بیٹھے اور اس کی طرف (منہ کر کے ) پیشاب کرنے لگے ۔ میں نے کہا: ابو عبدالرحمٰن ! کیا اس سے منع نہیں کیا گیا؟ تو انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں ، اس سے صرف اس صورت مین منع کیا گیا ہے جب کھلی جگہ پر پیشاب کیا جائے لیکن اگر تمہارے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو جو تمہارے لیے اوٹ کا کام دے تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ۔ یہ روایت صحیح ہے اور اس کے تمام رُواۃ ثقہ ہیں۔
مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ ← الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ،
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › The door to receive the kiss in the open · Hadith 161
