سنن دار القطنی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 65
65 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ , نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ , نا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , " أَنَّ زِنْجِيًّا وَقَعَ فِي زَمْزَمَ يَعْنِي فَمَاتَ , فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَأُخْرِجَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُنْزَحَ , قَالَ: فَغَلَبَتْهُمْ عَيْنٌ جَاءتْهُمْ مِنَ الرُّكْنِ , فَأَمَرَ بِهَا فَدُسِمَتْ بِالْقُبَاطِيِّ وَالْمَطَارِفِ حَتَّى نَزَحُوهَا فَلَمَّا نَزَحُوهَا انْفَجَرَتْ عَلَيْهِمْ "
محمد بن سیرین روایت کرتے ہیں کہ ایک زنجی شخص زم زم کے کنویں میں گر کر مر گیا۔ ("زنچ" سوڈان کے لوگوں کی ایک نسل ہے جس کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور اس شخص کا تعلق اسی نسل سے تھا ) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں یہ حکم فرمایا کہ اسے کنویں سے باہر نکالا جائے اور کنویں کا پانی نکالا جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ چشمے کا پانی ان کے قابو سے باہر ہو گیا اور وہ حجر اسود کی طرف سے آگیا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حکم فرمایا کہ سوتی کپڑوں اور ریشمی دھاری دار چادروں کے ساتھ اس پر ڈاٹ لگا دی جائے، جب تک کہ لوگ اس سے پانی نہ نکال لیں ۔ چنانچہ جب لوگوں نے اس سے پانی نکال لیا تو اس کا بند پھر ٹوٹ پڑا۔
هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ،
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › The door of the well, when an animal falls into it · Hadith 65
