378 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ , نا أَبُو الْوَلِيدِ , وَثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ , نا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ , نا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ , [ص:192] وَحَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , نا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ , نا أَبُو الْوَلِيدِ , نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ , نا شَدَّادُ أَبُو عَمَّارٍ , وَقَدْ أَدْرَكَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ أَبُو أُمَامَةَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَدَّعِي أَنَّكَ رُبُعُ الْإِسْلَامِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ , قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عَنِ الْوُضُوءِ قَالَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يُقَرِّبُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ وَيَنْثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا فِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ , ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مَعَ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ , ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى مِرْفَقَيْهِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ , ثُمَّ يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ , ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ مَعَ الْمَاءِ , ثُمَّ يَقُومُ وَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ».
شداد ابو عمار، جنہوں نے نبی ﷺ کے بہت سے صحابہ کی زیارت او ر ملاقات کا شرف حاصل کیا ، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابومامہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کس بات کی بناء پر آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ اسلام کا چوتھائی ہیں؟ (یعنی آپ اسلام قبول کرنے والے چوتھے شخص ہیں)۔ پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی ۔ سیدنا عمر و بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! مجھے وضوء کے بارے میں بتلائیے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو بھی شخص وضوء کرنا چاہیے وہ پانی کو قریب کر لے ، پھر کلی کرے ، ناک میں پانی چڑھائے اور جھاڑے تو اس کے منہ کے اور اس کے ناک کے بانسے کے جتنے بھی گناہ ہوتے ہیں سب پانی کے ساتھ بہہ جاتے ہیں، پھر وہ اپنے چہرے کو اسی طرح دھوئے جس طرح اسے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو اس کے چہرے کے بمع اس کی داڑھی کے کناروں کے سب گناہ پانی کے ساتھ ہی بہہ جاتے ہیں،پھر جب کہنیوں تک اپنے بازو دھوئے تو اس کے ہاتھوں کے ہی نہیں بلکہاس کی انگلیوں کے پوروں کے گناہ بھی پانی کے ساتھ ہی بہہ جاتے ہیں، پھر وہ اپنے سر کا مسح کرے تو اس کے سر کے گناہ اس کے بالوں کے کناروں تک سے پانی کے ساتھ بہہ جاتے ہیں، پھر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوئے تو اس کے پاؤں کے گناہ اس کے پاؤں کی انگلیوں تک سے پانی کے ساتھ بہہ جاتے ہیں، پھر وہ ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے جس کا وہ اہل ہے، پھر وہ دو رکعت نماز پڑھے تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ: قُلْتُ: ← الحديث بطوله ← أَبُو أُمَامَةَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَدَّعِي أَنَّكَ رُبُعُ الْإِسْلَامِ ← شَدَّادُ أَبُو عَمَّارٍ وَقَدْ أَدْرَكَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ← أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ [ص:130]، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › Chapter on what is narrated in the virtue of ablution and the absorption of all old feet in ablution with water · Hadith 378