Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دار القطنی

Sunan Dar Al Qutni

by Dar Al Qutni

4,847 Hadith298 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دار القطنی · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ زَكَاةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ · حديث 1983

1983 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ قَوْهِيٍّ بِالْمِفْتَحِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الدُّولَابِيُّ , ثنا الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى , عَنِ ابْنِ أَرْقَمَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: وَجَدْنَا فِي كِتَابِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ سَائِمَةٍ شَاةٌ , وَفِي عَشْرٍ [ص:11] شَاتَانِ , وَفِي خَمْسَةَ عَشَرَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ , وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ , وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ خَمْسُ شِيَاهٍ , فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ , فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ , فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ , فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ إِلَى سِتِّينَ , فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ , فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ , فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ جَذَعَةٌ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ». كَذَا رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ

سیدنا ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا عمر ؓ کی کتاب میں یہ لکھا ہوا دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چرنے والے اونٹوں میں ایک بکری ( زکاۃ واجب ہوتی) ہے،دس اونٹوں میں چار بکریں اور پچیس اونٹوں میں پانچ بکریاں ( بہ طور زکاۃ ادا کرنا واجب ہوتی ) ہیں۔پھر بھی اگر ایک زیادہ ہو جائے تو پینتیس اونٹوں تک( کی زکاۃ) میں ایک سال کی مادہ اونٹنی ہے ، لیکن اگر یہ نہ ملے تو پھر دو سال کا ایک نر اونٹ ( زکاۃ میں ) دے دیا جائے۔ پھر اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو پنتالیس اونٹوں تک ( کی زکاۃ) میں دو سال کی مادہ اونٹنی ہے جو جفتی کے قابل ہو۔ پھر اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو پچھتر اونٹوں تک ( کی زکاۃ) میں چار سالہ اونٹنی ہے۔ لیکن اگر ایک بھی بڑھ جائے تو نوے اونٹوں تک کی زکاۃ میں دو سال کی دو مادہ اونٹنیاں ہے جو جفتی کے قابل ہو۔ پھر اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ایک سو بیس اونٹوں تک (کی زکاۃ) میں تین تین سال کی دو اونٹیاں ہیں ۔ اور اگر سے ایک بھی بڑھ جائے تو ہر چالیس میں سے ایک چار سالہ اونٹنی اور ہر پچاس میں سے ایک تین سال کی ایک مادہ اونٹنی ہے جوجفتی کے قابل ہو۔

وَجَدْنَا فِي كِتَابِ عُمَرَ ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَرْقَمَ ← القاسم بن يحيى ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الدُّولَابِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ قَوْهِيٍّ بِالْمِفْتَحِ

Sunan Dar Al Qutni · Zakat Book › Chapter of Zakat on camels and sheep · Hadith 1983

سنن دار القطنی · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ زَكَاةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ · حديث 1984

1984 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ , ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ فِي آخَرِينَ , [ص:12] وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى , وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ , قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا اسْتُخْلِفَ وَجَّهَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ إِلَى الْبَحْرَيْنِ فَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ: " هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ , فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِهِ: فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ فَفِيهَا فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ , فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى , فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ أُنْثَى , فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ , فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ , فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ , فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ , فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَإِنْ تَبَايَنَ أَسْنَانُ الْإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ , فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ تَيَسَّرْنَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا , وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا [ص:13] تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ , وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَيُعْطِي مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا , وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ , وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَيُعْطِي مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ , وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ , فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يَقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ , وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا , فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ فَفِيهَا شَاةٌ , وَصَدَقَةُ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا شَاةٌ , فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ , فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ , فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ وَلَا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ , وَلَا يَجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ [ص:14] الصَّدَقَةِ , وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ , وَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةٌ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا , وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشُورِ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَالُهُ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهِ صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ". وَقَالَ يُوسُفُ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقِ كَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ , هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ , وَقَالَ الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا اسْتُخْلِفَ وَجَّهَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ إِلَى الْبَحْرَيْنِ وَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ وَخَتَمَهُ بِخَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ نَقْشُ خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدٌ سَطْرٌ , وَرَسُولٌ سَطْرٌ , وَاللَّهُ سَطْرٌ , هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ , الَّتِي أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو منصب خلافت پر فائز کیا گیا تو انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کو بحرین کی جانب بھیجا اور انہیں یہ خط لکھا: یہ رسول اللہ ﷺنام کے فرض کردہ زکاة کے وہ مقررہ اصول ہیں جن کا اللہ تعالی نے اپنے رسول کو حکم فرمایا تھا۔ ان اصولوں کے مطابق جب مسلمانوں سے زکاۃ وصول کی جائے تو انہیں زکاة ادا کردینی چاہیے اور جس سے اس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے وہ زیادہ نہ دے۔ (ان اصولوں کی تفصیل یہ ہے کہ ) چوبیس اور اس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکری ( زکاة ادا کرنا) واجب ہوگی۔ پھر جب اونٹوں کی تعداد پچیس ہو جائے تو پنتیس تک ایک سال کی ایک مادہ اونٹنی ہے۔ جب ان کی تعداد چھتیس سے لے کر پینتالیس تک پہنچ جائے تو ان میں دوسالہ ایک مادہ اوٹنی ہے۔ جب وہ چھیالیس سے لے کر ساٹھ انٹوں تک پہنچ جائیں تو ان میں تین سال کی مادہ اونٹنی ہے جو جفتی کے قابل ہو۔ جب وہ اکسٹھ سے لے کر پچھتر تک پہنچ جائیں تو ان میں چار سالہ ایک اونٹنی ہے۔ جب وہ چھہتر سے کے کر نوے تک پہنچ جائیں تو ان میںدو دو سال کی دو مادہ اونٹنیاں ہیں اور جب ان کی تعداد اکیانوے سے لے کر ایک سو بیس تک پہنچ جائے تو ان میں تین تین سال کی دو اونٹنیاں ہیں۔جو جفتی کے قابل ہوں۔ پر اگر ایک سو بیس پرایک بھی زیاد ہ ہو جائے تو پر چالیس اونٹوں میں دو سال کی ایک ماده اونٹنی اور ہر پچاس میں تین سال کی ایک اونٹنی (زکاۃ ادا کرنا) ہوگی ۔ اور اگر زکاۃ کے اونٹوں کی عمریں مختلف ہو جائیں تو جس شخص پر زکاۃ میں چار سالہ اونٹنی واجب ہو لیکن اس کے پاس چار سال کی اونٹنی موجود نہ ہو بلکہ اس کے پاس تین سال کی اونٹنی ہو تو اس سے تین سالہ اونٹنی ہی قبول کر لی جائے اور اس کے ساتھ وہ دو بکریاں شامل کرلے، اگر میسر ہوں تو، یا پھر میں درہم وصول کر لیے جائیں ۔ اور جس شخص پر زکات میں تین سال کی اونٹنی واجب ہوتی ہو لیکن اس کے پاس وہ نہ ہو بلکہ چار سال کی اونٹنی ہو تو اس سے وہی قبول کر جائے اور زکاة وصول کرنے والا بیس درہم یا دوبکریا ں دے ۔ جس پرز کاۃ میں تین سال کی اونٹنی واجب ہوتی ہو لیکن اس کے پاس صرف دو سال کی ایک مادہ اونٹنی ہو تو اس سے وہی قبول کرلی جائے اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس در ہم ادا کرے۔( اسی طرح ) جس پر دو سال کی ایک ما دہ اونٹنی زکاۃ میں واجب ہوتی ہو لیکن اس کے پاس وہ نہ ہو بلکہ تین سال کی اونٹنی ہو تو اس سے تین سالہ اونٹنی ہی قبول کر لی جائے اور زکا ۃوصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے دے ۔ اور جس شخص پر دوسالہ ایک مادہ اونٹنی زکاۃ میں واجب ہوتی ہو جبکہ اس کے پاس ایک سالہ اونٹنی ہوتو اس سے ایک سال کی اونٹنی ہی قبول کر لی جائے اور وہ اس کے ساتھ میں درہم یادو بکریاں ادا کرے۔ جس پر زکاة میں ایک سالہ اونٹنی واجب ہوتی ہولیکن اس کے پاس وہ موجود نہ ہو بلکہ اس کے پاس دوسالہ ایک ماده اونٹنی ہو تو یقینا اس سے دو سال کی ایک مادہ اونٹنی ہی قبول کر کی جائے اور زکا ۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے دے ۔ اگر( کسی شخص کی زکاۃ ایک سالہ اونٹنی تک پہنچ جائے )لیکن اس کے پاس ایک سالہ اونٹنی نہ ہو بلکہ دو سال کا نر اونٹ ہوتو وہ اس سے وہی قبول کرے اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہ لے ۔ اور اگر کسی شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں زکاة واجب نہیں ہوگی، البتہ اگر ان کا مالک ( کچھ دینا چاہے تو وہ اس کی مرضی ہے) لیکن جب اونٹوں کی تعداد پانچ ہوجائے تو اس میں ایک بکری ( بطور زکاة ) واجب ہوتی ہے۔ خود چر کر پیٹ بھرنے والی بکریوں کی زکاۃ ( کا نصاب ) یہ ہے کہ جب ان کی تعداد چالیس سے لے کر ایک سو بیس تک ہو جائے تو اس میں ایک بکری (بطور زکاة) واجب ہوتی ہے ۔لیکن اگر ایک سے بڑھ کر دوسوتک تعداد ہو ہے۔ توان میں دوبکریاں زکوۃ واجب ہوتی ہے۔ پھر جب دو سو سے بڑھ کر تین سو تک تعداد پہنچ جائے تو ان میں تین بکریاں زکاۃ ہو گی ۔ اور جب تین سو سے تعداد بڑھ جائے تو ہر سو بکریوں میں ایک بکری زکات واجب ہوگی۔ یاد رہے کہ زکاة میں انتہائی بوڑھا، اورعیب دار جانور نہ دیا جائے، ہاں اگر زکاۃ وصول کرنے والے کی مرضی شامل ہوتو دیا جا سکتا ہے۔ زکاة کے ڈر سے الگ الگ مال کو اکٹھا نہ کیا جائے اور اکٹھے مال کو الگ الگ نہ کیا جائے۔ اگر دوقسم کے جانور ہوں (مثلا اونٹ بھی اور بکریاں بھی) تو ان دونوں کے درمیان برابری سے زکوۃ تقسیم ہو جائے گی، نیز یہ کہ اگر کسی شخص کی خود چر پیٹ بھرنے والی بکریوں کی تعداد چالیس سے کم ہو تو اس میں زکاة واجب نہیں ہوتی ، سوائے اس کے کہ ان کا مالک اپنی مرضی سے دینا چا ہے۔ نیز چاندی کے ڈھلے ہوئے سکوں میں ایک عشر کا چوتھائی واجب ہوتا ہے اگر کسی شخص کے پاس صرف ایک سونوے درہم ہوں تو اس میں زکاة واجب نہیں ہوتی ، سوائے اس کے کہ اس کا مالک اپنی مرضی سے دینا ہے۔ یوسف رحمہ اللہ اپنی (روایت کردہ) حدیث میں( یہ الفاظ ) بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے جب انہیں بحرین کی جانب بھیجاتو ان کے لیےیہ تحیر لکھی: : بسم الله الرحمان الرحیم، یہ زکاة کے مقررہ اصول ہیں فضل بن سہل رحمہ اللہ نے یوں بیان کیا کہ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ منتخب کیا گیا تو انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کو بحرین بھیجا ، پھر ان کے لیے یہ تحر یرلکھی اور اس پر نبیﷺ کی مہر ثبت کی ، اور نبی ﷺکا مہر کانقش (یوں تھا کہ) ایک سطر میں ’’محمدﷺ‘‘ ، دوسری سطر میں ”رسول“ اور تیسری سطر میں اللہ لکھا ہوا تھا۔ (آگے یہ رقم تھا کہ) یہ زکاة کے وہ مقررہ اصول ہیں جنہیں اللہ تعالی نے مسلمانوں پرقرض کیا اور انہی کا رسول الله ﷺ نے حکم فرمایا۔

أَنَسٍ، ← ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ فِي آخَرِينَ ← أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ،

Sunan Dar Al Qutni · Zakat Book › Chapter of Zakat on camels and sheep · Hadith 1984

سنن دار القطنی · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ زَكَاةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ · حديث 1985

1985 - حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ , ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ , حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ , أَنْبَأَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ: أَخَذْنَا هَذَا الْكِتَابَ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ يُحَدِّثُهُ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هَذِهِ فَرَائِضُ صَدَقَةِ الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَمَنْ يُسْأَلُهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَلْيُعْطِهَا عَلَى وَجْهِهَا , وَمَنْ سُئِلَهَا عَلَى غَيْرِ وَجْهِهَا فَلَا يُعْطِهَا «فِي كُلِّ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسَةٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ , فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ , فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ , فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ , فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسَةٍ وَسَبْعِينَ , فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ , فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ , فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ , فَإِنْ تَبَايَنَ أَسْنَانُ الْإِبِلِ فَبَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ جَذَعَةً وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِي مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا , فَإِذَا بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ حِقَّةً وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا , فَإِذَا بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ حِقَّةً وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِي مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا , وَمَنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عِنْدَهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِي الْمُصَّدِّقَ مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا , فَإِنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِي مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا , وَمَنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِي الْمُصَّدِّقَ شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا , وَمَنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونِ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُؤْخَذُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ , وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا , فَإِذَا بَلَغَتِ الْإِبِلُ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ , وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ شَاةٌ وَاحِدَةٌ , فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ , فَإِذَا زَادَتَ وَاحِدَةً إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ , وَلَا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ , وَلَا يَجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ , وَمَا كَانَ مِنَ الْخَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ فَإِذَا نَقَصَتْ سَائِمَةُ الْغَنَمِ مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ وَاحِدَةٌ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا , وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشُورِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَالٌ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا». إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ

سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یہ مسلمانوں پر فرض ہونے والی زکاة کے وہ احکام ہیں جن کا اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ کو حکم فرمایا، ان اصولوں کے مطابق جب مسلمانوں سے زکاۃ وصول کی جاتے تو انہیں ز کوۃ ادا کر دینی چاہے اور جس سے ان کے علاوہ (کسی اور اصولوں کے مطابق) زکاۃ وصول کی جائے تو وہ نہ دے۔ چوبیس اور اس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکری ( زکاة ادا کرتا) واجب ہوگی ۔ پھر جب اونٹوں کی تعداد پچیس ہو جائے تو پینتیس تک ایک سال کی ایک مادہ اونٹنی ہے لیکن اگر ایک سالہ مادہ اونٹنی نہ ہو تو دوسال کانر اونٹ ( زکاة میں واجب )ہو گا۔ پھر جب ان کی تعداد چھتیس تک جائے تو ان میں پینتالیس تک دوسالہ ایک مادہ اونٹنی ہے۔ جب وہ چھیالیس تک پہنچ جائیں تو ان میں ساٹھ تک تین سال کی ایک ماده اونٹنی ہے اور جب ان کی تعداد اکسٹھ تک پہنچ جائے تو پچھتر تک ان میں چار سالہ ایک اونٹنی (زکاة واجب ہوتی) ہے۔ پھر جب وہ چھہتر تک پہنچ جائیں تو ان میں نوے تک دودوسال کی دو ماده اونٹنیاں ہیں ۔ اور جب ان کی تعدادا کیانوے سے لے کر ایک سو بیس تک پہنچ جائے تو ان میں تین تین سال کی دو اونٹنیاں ہیں۔ (اسی طرح) جب وہ ایک سو اکیس کی تعداد کوپہنچ جائیں تو ہر چالیس میں دوسالہ ایک ماده اونٹنی اور ہر پچاس میں تین سا لہ اونٹنی (بطور زکاۃ ادا کرنا واجب )ہوتی ہے۔ اگر زکاة کے اونٹوں کی عمریں مختلف ہو جائیں تو جس شخص کی زکاة چار سالہ اونٹنی تک پہنچ گئی ہو لیکن اس کے پاس چارسال کی اونٹنی موجود نہ ہو بلکہ اس کے پاس تین سال کی اونٹنی ہوتواس سے تین سالہ اونٹنی ہی قبول کر لی جائے اور اس کے ساتھ وہ دو بکریاں دے، اگر میسر ہوں تو، یا پھر بیس درہم وصول کر لیے جائیں۔ اور جس کی زکاة تین سال کی اونٹنی تک پہنچ گئی ہولیکن اس کے پاس وہ نہ ہو بلکہ چار سال کی اونٹنی ہو تو اس سے وہی قبول کر لی جائے اور زکا ۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یادو بکریاں دے دے ۔ جس کی زکاۃ تین سال کی اونٹنی تک پہنچ گئی ہو لیکن اس کے پاس صرف دو سال کی ایک مادہ اونٹنی ہوتو اس سے وہی قبول کر لی جائے اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کرے۔ (اسی طرح) جس کی زکاة دوسال کی ایک مادہ اونٹنی تک پہنچ گئی ہو لیکن اس کے پاس دو سالہ ماده اونٹنی نہ ہو بلکہ اس کے پاس تین سال کی اونٹنی ہو تو اس ے وہی قبول کر لی جائے اور زکاۃ وصول کرنے والا اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم دے دے۔ اور جس شخص کی زکاة دوسالہ ایک ب دو سالہ مادہ اونٹنی تک پہنچ گئی ہو جبکہ اس کے پاس ایک سالہ اونٹنی ہوتو اس سے ایک سال کی اونٹنی ہی قبول کر لی جائے اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کرے۔ جس کی زکاۃ ایک سالہ اونٹنی تک پہنچی ہو لیکن اس کے پاس صرف دوسالہ ایک مادہ اونٹنی موجود ہو تو اس سے وہی قبول کر لی جائے اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے دو بکریاں یا بیس درہم دے دے ۔ جس شخص کی زکا ایک سالہ اونٹنی تک پہنچ جائے لیکن اس کے پاس وہ نہ ہو بلکہ دو سال کا نر اونٹ ہوتو وہ اس سے وہی وصول کرلیا جائے اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہ لی جائے۔ اور جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں زکاة واجب نہیں ہوگی، البتہ اگر ان کا مالک ( کچھ دینا) چاہے (تو وہ اس کی مرضی ہے ) لیکن جب اونٹوں کی تعداد پانچ تک پہنچ جائے تو اس میں ایک بکری (بطور زکاة) واجب ہوتی ہے۔ خود چرکر پیٹ بھرنے والی بکریوں کی زکاۃ ( كا نصاب) یہ ہے کہ جب ان کی تعداد چالیس سے لے کر ایک سو بیس تک ہو جائے تو ایک بکری زکاۃ پڑتی ہے۔ لیکن اگر ایک سو بیس سے لے کر دوسو تک پہنچ جائے تو ان میں دو بکریاں زکاة واجب ہوتی ہے۔ پھر جب ایک بھی بڑھ جائے تو تین سوتک (تین بکریاں زکا ۃہوگی۔ اور) ہر سو بکر یوں میں ایک بکری زکاة ہوگی۔ یادرہے کہ زکاة میں انتہائی بوڑھا، کانا اور عیب دار جانور نہ دیا جائے ، ہاں اگر زکاة وصول کرنے والا چاہے (تو جائز ہے)۔ زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ مال کو اکٹھا نہ کیا جائے اور اکٹھے مال کو الگ الگ نہ کیا جائے۔ اگر دوقسم کے جانور ہوں تو ان دونوں کے درمیان برابری سے زکات تقسیم ہو جائے گی، نیز یہ کہ اگر کسی شخص کی خود چکر پیٹ بھرنے والی بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک بھی بکری کم ہو جائے تواس میں زکاة واجب نہیں ہوتی ، سوائے اس کے کہ ان کا مالک اپنی مرضی سے دینا چاہے۔ نیز چاندی کے ڈھلے ہوئے سکوں میں ایک عشرکا چوتھائی واجب ہوتا ہے، سو اگر کسی شخص کے پاس صرف ایک سونوے درہم ہوں تواس میں زکاة واجب نہیں ہوتی، سوائے اس کے کہ اس کامالک اپنی مرضی سے دیناچاہے۔ اس روایت کی اسنادی ہے اور تمام رواۃ ثقہ ہیں۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إسحاق بن راهويه أنبا النضر بن شميل ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ

Sunan Dar Al Qutni · Zakat Book › Chapter of Zakat on camels and sheep · Hadith 1985

سنن دار القطنی · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ زَكَاةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ · حديث 1986

1986 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ , ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى , ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ , ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يُونُسَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَتَبَ فِي الصَّدَقَةِ وَهُوَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَقْرَأَنِيهَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَوَعَيْتُهَا عَلَى وَجْهِهَا وَهِيَ الَّتِي انْتَسَخَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ أُمِّرَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَأَمَرَ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا وَكَتَبَ بِهَا إِلَى الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَأَمَرَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا ثُمَّ لَمْ يَزَلِ الْخُلَفَاءُ يَأْمُرُونَ بِذَلِكَ بَعْدَهُ , ثُمَّ أَمَرَ بِهَا هِشَامُ بْنُ هَانِئٍ فَنَسَخَهَا إِلَى كُلِّ عَامِلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَهُمْ بِالْعَمَلِ بِهَا وَلَا يَتَعَدُّونَهَا وَهَذَا كِتَابُ تَفْسِيرِهَا: لَا يُؤْخَذُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْإِبِلِ الصَّدَقَةُ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ , فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا [ص:18] شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عَشْرًا , فَإِذَا بَلَغَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ عَشْرَةَ , فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلَاثَ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ , فَإِذَا بَلَغَتْ عِشْرِينَ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ , فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ أُفْرِضَتْ فَكَانَ فِيهَا فَرِيضَةُ بِنْتِ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ , فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا كَانَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ سِتِّينَ , فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ , فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعِينَ , فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً , فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً , فَإِذَا كَانَتْ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَلَاثِينَ وَمِائَةً , فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةً , فَإِذَا كَانَتْ خَمْسِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَخَمْسِينَ وَمِائَةً , فَإِذَا بَلَغَتْ سِتِّينَ وَمِائَةً فَفِيهَا أَرْبَعُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسِتِّينَ وَمِائَةً , فَإِذَا كَانَتْ سَبْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ وَثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسَبْعِينَ وَمِائَةً , فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَمَانِينَ وَمِائَةً , فَإِذَا كَانَتْ تِسْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا [ص:19] ثَلَاثُ حِقَاقٍ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ وَمِائَةً , فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا أَرْبَعُ حِقَاقٍ أَوْ خَمْسُ بَنَاتِ لَبُونٍ أَيُّ السِّنِينَ وُجِدَتْ فِيهَا أُخِذَتْ عَلَى عِدَّةِ مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ ثُمَّ كُلُّ شَيْءٍ فِي الْإِبِلِ يُؤْخَذُ عَلَى نَحْوِ مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ , وَلَا يُؤْخَذُ مِنَ الْغَنَمِ صَدَقَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ شَاةً فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً , فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَإِذَا كَانَتْ شَاةً وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةِ شَاةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الثَّلَاثِمِائَةِ بِشَاةٍ فَلَيْسَ فِيهَا إِلَّا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ , فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ , فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا خَمْسُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ , فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سِتُّ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ سَبْعَمِائَةِ شَاةٍ , فَإِذَا بَلَغَتْ سَبْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سَبْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَمَانَمِائَةِ شَاةٍ , فَإِذَا بَلَغَتْ ثَمَانَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا ثَمَانُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ , فَإِذَا بَلَغَتْ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا تِسْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَلْفَ شَاةٍ , فَإِذَا بَلَغَتْ أَلْفَ شَاةٍ فَفِيهَا عَشْرُ شِيَاهٍ ثُمَّ فِي كُلِّ مَا زَادَتْ مِائَةُ شَاةٍ شَاةٌ "

امام ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ اس تحریر کا نسخہ ہے جو رسول اللہﷺ نے زکاة کے بارے میں تحریرفرمائی، یہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے خاندان کے پاس تھا۔ ابن شہاب فرماتے ہیں کہ مجھے تحریر سالم بن عبد الله بن عمر نے پڑھائی تو میں نے ہو بہو یاد کر لی ۔ اسی تحر یرکوعمر بن عبد العزيز رحمه الله نے عبداللہ بن عبداللہ بن عبدالله بن عمر اور سالم بن عبداللہ سے اس وقت لیا تھا جب وہ مدینہ کے گورنر مقرر ہوئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے عاملین کو اس کے مطابق عمل کرنے کا حکم دیا اور ولید کو لکھ بھیجی، چنانچه ولید نے بھی اپنے عا ملین کو اس کے مطابق عمل کرنے کا حکم دیا۔ پھر اس کے بعد والے خلفاء بھی اس کا حکم دیتے رہے، پھر ہشام نے حکم دیا اور مسلمانوں کے ہر عامل کو اس کا ایک نسخہ بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ اس کے مطابق عمل کریں اور اس سے تجاوز نہ کریں۔ اس تحریر کی تفصیل یہ ہے کہ اونٹوں کی زکات میں اس وقت تک کوئی چیز نہیں لی جائے گی جب تک وہ پانچ نہ ہوں ۔ جب اونٹ پانچ ہوں تو ان میں ایک بکری ہے، یہاں تک کہ وہ دس ہو جائیں۔ جب وہ دس کی تعداد تک جائیں تو ان میں دو بکریاں (واجب ہوتی ہیں)، یہاں تک کہ وہ پندرہ ہو جائیں۔ جب وہ پندرہ کی تعداد تک پہنچ جائیں تو ان میں تین بکریاں ہیں۔ یہاں تک کہ وہ بیس ہو جائیں۔ جب وہ بیس کی تعداد کوپہنچ جائیں تو ان میں چار بکریاں (بطور زکاة واجب ہوتی) ہیں، یہاں تک کہ وہ پچیس ہو جائیں۔ جب وہ پچیس کی تعداد تک پہنچ جائیں تو ان میں اونٹوں سے زکاۃ فرض ہو جائے گی اور وہ ایک سالہ اونٹنی ہے۔ اگر ایک سالہ اونٹنی نہ ہوتو دو سالہ اونٹ لے لیا جائے گا، یہاں تک کہ پینتیس ہوں جائیں۔ چھتیں سے پینتالیس تک دوسالہ اونٹنی ہے۔ چھیالیس سے ساٹھ تک ایک ب جفتی کے قابل تین سالہ اونٹنی ہے۔ اکسٹھ سے پچھہتر تک ایک چار سالہ اونٹنی ہے۔ چھہتر سے نوے تک دو سالہ دو اونٹنیاں ہیں۔ اکیانوے سے ایک سو بیس تک جفتی کے قابل تین سالہ دو اونٹنیاں ہیں۔ ایک سواکیس سے ایک سو انتیس تک دو سالہ تین اونٹنیاں ہیں۔ ایک سو تیس سے ایک سو انتالیس تک ایک دوسالہ اونٹنی اور ایک تین سالہ اونٹنی ہے۔ ایک سوچالیس سے ایک سوانچا س تک دو عدد تین سالہ اور دوعدد دو سالہ اونٹنیاں (بطور زکات واجب ہوتی ) ہیں ۔ ایک سو پچاس سے ایک سو انسٹھ تک تین عدد تین سالہ اونٹنیاں ہیں ۔ ایک سو ساٹھ سے ایک سو انہتر تک چار دو ساله اونٹنیاں ہیں۔ ایک سو ستر سے ایک سو اسی تک تین دوسالہ اونٹنیاں ہیں۔ ایک سواسی سے ایک سو نواسی تک دو عدد تین سالہ اونٹیاں اور دوعدد دوساله اونٹنیاں ہیں ۔ ایک سونوے سے ایک سونناوے تک تین عدد تین سالہ مادہ اونٹنیاں اور ایک دو ساله اونٹنی ہے۔ پھر جب ان کی تعداد دو سو تک پہنچ جائے تو ان میں چار تین سالہ اونٹنیاں یا پا نچ، دو سالہ اونٹیاں (به طور زکاة واجب ہوتی ) ہیں۔ جو بھی تمہیں میسر آئیں، اس کو ہماری اس تحریر کے مطابق وصول کرو پھر اونٹوں کی تمام تر زکاۃ اسی اصول کے مطابق کی جائے جو ہم نے اس خط میں لکھ دیا ہے۔ بکریوں کی زکاۃ تب تک وصول نہیں کی جائے گی جب تک کہ وہ چالیس کی تعداد کو پہنچ جائیں۔ سو جب ان کی تعداد چالیس ہو جائے تو ان میں ایک بکری ( زکاة میں ادا کرنا واجب ہوگی، یہاں تک کہ وہ ایک سو بیس تک پہنچ جائیں۔ جب وہ ایک سو اکیس ہو جائیں تو ان میں دو بکریاں ہیں ، یہاں تک کہ ان کی تعداد دوسوتک پہنچ جائے۔ جب وہ دوسو ہو جائیں تو ان میں تین بکریاں زکوۃ پڑے گی، یہاں تک کہ وہ تین سو کی تعداد کو پہنچ جائیں۔ پھر جب وہ چارسو ہو جائیں گی تو ان میں چار بکریاں ہوں گی ، یہاں تک کہ وہ پانچ سو تک پہنچ جائیں۔ جب وہ پانچ سو ہو جائیں گی تو ان میں پانچ بکریاں (بطور زکاة واجب) ہوں گی، یہاں تک کہ وہ چھے سو کی تعداد کو پہنچ جائیں۔ پھر جب ان کی تعداد سات سو تک پہنچ جائے تو ان میں سات بکریاں ہیں، یہاں تک کہ وہ آٹھ سو کو پہنچ جائیں ۔ (اسی طرح جب وہ آٹھ سو ہوجائیں تو ان میں آٹھ بکریاں ہوں گی، یہاں تک کہ ان کی تعدادنوسو تک پہنچ جائے۔ جب وہ نو سو ہو جائیں تو ان میں نوبکریاں زکاۃ پڑے گی، یہاں تک کہ وہ ایک ہزار کی تعداد کو پہنچ جائیں۔ اور جب ان کی تعداد ایک ہزار ہو جائے تو پھر ان میں دس بکریاں (زکاۃ میں ادا کرنا) ہوتی ہیں ۔ پھر جتنے سینکڑ ے بڑھتے جائیں گے اسی حساب سے زکاۃ میں ایک ایک بکری کا اضافہ ہوتا جائے گا۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ

Sunan Dar Al Qutni · Zakat Book › Chapter of Zakat on camels and sheep · Hadith 1986

سنن دار القطنی · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ زَكَاةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ · حديث 1987

1987 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ , ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ , أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حِينَ اسْتُخْلِفَ أَرْسَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَلْتَمِسُ عَهْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَاتِ , فَوَجَدَهُ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الصَّدَقَاتِ , وَوَجَدَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ كِتَابَ عُمَرَ إِلَى عُمَّالِهِ فِي الصَّدَقَاتِ بِمِثْلِ كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عُمَّالَهُ عَلَى الصَّدَقَاتِ أَنْ يَأْخُذُوا بِمَا فِي ذَيْنِكَ الْكِتَابَيْنِ فَكَانَ فِيهِمَا: «فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى التِّسْعِينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ , فَإِذَا كَانَتِ الْإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلَيْسَ فِيمَا لَا يَبْلُغُ الْعُشْرَ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْعُشْرَ»

محمد بن عبدالرحمان انصاری بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کوجس وقت خلیف منتخب کیا گیا تو انہوں نے مدینہ میں یہ پیغام بھیجا کہ وہ زکاۃ کے احکام کے بارے میں عہد رسالت کا کوئی حکم نامہ تلاش کریں تو انہیں وہ عمرو بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ کے خاندان کے ہاں مل گیا ۔ وہ زکاۃ کے احکام کے بارے میں نبی ﷺ کی سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ کے نام لکھی جانے والی تحریر تھی۔ اور پھر انہیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے خاندان کے پاس عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی و ہ تحریر بھی مل گئی جوانہوں نے زکاۃ کے بارے میں اپنےعمال کوکھی تھی کہ وہ اور نبیﷺ کی اس تحریر کے مثل تھی جو آپ نے عمرو بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ کے نام لکھی تھی۔ چنانچہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے زکاۃ وصول کرنے والے اپنے عمال کو یہ حکم فرمایا کہ وہ ان ہی احکام کے مطابق زکاة وصول کریں جو ان دوتحریروں میں درج ہیں۔ ان میں اونٹوں کی زکاة کے بارے میں لکھا ہوا تھا کہ اگر ان کی تعداد نوے سے ایک بھی بڑھ جائے تو ان میں( اکیانوے سے لے کر) ایک سو بیس تک تین تین سال کی دو اونٹنیاں زکاة (واجب) ہو گی ۔ پھر اگر ایک سو میں سے ایک بھی بڑھ جائے تو اس میں دودوسال کی تین ماده اونٹنیاں ہوں گی، یہاں تک کہ وہ ایک سو انتیس تک پہنچ جائیں۔ پھر جب اونٹوں کی تعداد اس سے بڑھ جائے تو جب تک وہ ( مزید )وں کی تعداد نہیں پہنچ جاتے تو ان میں کوئی چیز واجب نہیں ہے، یہاں تک کہ وہ دس (مزید) ہوجائیں۔

عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيَّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ

Sunan Dar Al Qutni · Zakat Book › Chapter of Zakat on camels and sheep · Hadith 1987

All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Chapter on the rule of water when it is unclean2. Changing water door3. The door of ablution in the water of the people of the book4. The door of the well, when an animal falls into it5. A door in the sea water6. The door to every food in which there is a beast that has no blood7. Heated water door8. The door of water pours bread in it9. The door to interpretation, when you go to prayer10. The door of ablution, thanks to the thieves11. Gold and silver vessels' door12. The tanning door13. The door to washing hands for those who wake up from their sleep14. The door of intent15. The door to washing in permanent water16. The door of using a man thanks to the ablution of a woman17. The door to lust18. The Gate of the Weavers19. The door to receive the kiss in the open20. A door to solicitation21. The door of the feet22. The door to dog penetration23. The Door to the Catwalk24. The door to nomenclature in light25. The door of ablution by the wine26. Chapter of Induction of Nomination Begin Purity27. Chapter of the light of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him28. Chapter of what was narrated in urging ritual ablution and inhalation and starting with them is the first ablution
29. Part of what is narrated in the permissibility of ritual washing of the left hand
30. Chapter on the Characteristics of the Light of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
31. The Water Renewal Survey Door
32. The Triangulation Survey Door
33. The door of what is desirable is for the ablution and the ablution to use it from the water.
34. The door to the teeth that are in the head and the body
35. Chapter on the obligation to wash the feet and the feet
36. Chapter on what was narrated from the Prophet’s peace and blessings be upon him: “The ears are from the head.”
37. Chapter on what is narrated in the virtue of ablution and the absorption of all old feet in ablution with water
38. The door of dryness from the water of ablution
39. A door for splashing water after the lightness after light
40. Chapter on the obligation to do ghusl after meeting the circumcision, even if it is not revealed
41. Chapter on what was narrated in the ritual ablution and inhalation in the washing of janaabah
42. The door to the prohibition of washing, thanks to the washing of a woman
43. A chapter in the end for the sideways and menstruating women from reading the Qur’an
44. A door at the end of the hadith from touching the Qur’an
45. Chapter on what is stated in the purification and wisdom of the semen, wet and dry
46. The door of the sidewalks, if he wants to sleep, eats or drinks how to make
47. Chapter on the transcription of his saying: Water is water
48. The door to the uncleanness of urine and the order to take a picnic from him and rule in the urine of what is eaten of his flesh
49. The door to judgment in the urine of the boy and the boy, unless they eat food
50. The door of what is narrated in sleep sitting, does not invalidate ablution
51. A door in the purity of the earth from urine
52. Chapter on the description of what invalidates ablution and what is narrated in palpability and kissing
53. The chapter on what was narrated in the sense of acceptance, thought, remembrance and wisdom in that
54. Chapter of the narratives touching the armpits
55. A door in ablution from the outside of the body, such as nourishment, vomiting, cupping, and the like.
56. A chapter in what was narrated, who sleeps sitting, standing, and lying down, and what is required of purity in that
57. The door of the conversations of laughter in prayer and its reasoning
58. The door of tayammum
59. The door to tayammum and that it is performed for every prayer
60. A door in the hatred of the imamate of those who perform ablution
61. A chapter in the statement of the place in which it is permissible to do tayammum and the amount of it from the country and the request of water
62. A door in the permissibility of tayammum, for those who have not found water for many years
63. The door of permissibility of tayammum to the surgeon, with the use of water and wound hardening.
64. A door in which it is permissible to wipe some head
65. The door to the anointing over the two socks
66. The door to the license in the survey over the two slaves, and what is in it and the different narrations
67. The door to ablution and ablution from the utterance of the participants
68. The door of what is in the wiping over the hidden ones without time
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    69. Door70. The door to what women are required to pray when they are purified from menstruation71. The door to the permissible prayer with the exit of blood from the body72. A door in the statement of 'awrah and the thigh of it73. The door to permissible surveying of sins74. Chapter statement of the place in which it is permissible to pray and what is permissible in the prosecution
3. prayer book
    75. Door76. Chapter of the obligatory prayers, and they are five77. The door to the matter of teaching the prayers and hitting them is the limit of the 'awrah that must be covered78. The door to the prohibition of their blood and their money when they testify with two testimonies and establish prayers and pay zakat79. A door in remembrance of my father's ears being forbidden and the differing narratives in him80. Remembrance of Saad Al-Qurus81. The chapter on mentioning residence and the different narratives in it82. The door to forbidding prayer after the dawn prayer and after the afternoon prayer83. The chapter on mentioning the timing of time and the different narratives in that84. The door of the Imamate of Gabriel85. The door to urge to kneel between the ears in every prayer and the two rak'ahs before Maghrib and the difference in it86. Chapter on what is narrated in the description of morning and pity, and what is required by prayer87. A door in the morning and morning attribute88. Chapter in the last attribute of the evening prayer
3. prayer book
    89. The door of ijtihad in the qiblah90. A door in remembrance of the command of the ears and the imamate and deserves them91. The door to transfer to the Kaaba and it is permissible to receive the qiblah in some prayers92. The door of remembrance of the supplicant prayer behind the spoiled93. The door of remembrance of prayer in camels and camels.94. The door to repeat prayers in congregation95. Chapter on the mention of the group and its people as the imam96. Chapter on who is entitled to the imamate97. The door of the two is a group98. The door of the one who is fit to succeed behind the imam99. Chapter of prayers in one garment100. The chapter urges the leveling of rows101. A door to the left taking the right to the right in prayer102. Chapter mention of arrogance and raising the hands when opening and bowing and raising from it and the amount of that and the different narrations103. The door to the supplication after opening up104. The door to the duty to read in the name of God, the Compassionate, the Merciful in prayer and the public in it and the differing narratives in that105. Chapter on what is rewarded for supplication when you are unable to read Fatih Al-Ketab106. The chapter on mentioning the difference of narration in the open by {In the Name of God, the Most Gracious, the Most Merciful} [Al-Fatihah: 1]107. The door to the obligation to read the mother of the Book in prayer and behind the imam108. The chapter on the mention of his saying, may God’s prayers and peace be upon him: “He who has an imam, the imam reciter has a reading and disagreement of narrations.”109. The door to insurance in prayer after the opening of the book and the public speaking with it110. The door of the Imam's placement of the Imam's recitation111. The door of fate reading in the afternoon, afternoon and morning.112. Section mentioning the copies of the application and the order to take113. Chapter on the description of what the worshiper says when he is bowing and prostrating114. The door to mention kneeling and prostrating, and what is permissible in them115. The door of the one who realized the imam before establishing his crucifixion, he realized the prayer116. Chapter on the need to build steel in bowing and prostrating117. Chapter on the obligation to put the forehead and nose118. The door to the attribute of sitting to witness and between the two prostrations119. The chapter on the description, the duty, and the differing narratives in it120. The chapter on mentioning the obligation of prayers upon the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, in witnessing and diverging narratives in that regard121. The chapter on mentioning what comes out of prayers and how it is delivered122. The Opening of the Prayers Opening Door123. The door of the imam’s prayer, which is a pleurisy or a hadith124. The chapter on the description of forgetfulness in prayer and its rulings and the different narratives in that, and it is not interrupted by prayer something that passes between me125. The door to turning evil through listening to the call to prayer and prostrating in front of peace before peace126. The door of construction is most likely127. The door to prostration of forgetfulness after peace128. Chapter: The Muqtada is not an oversight and an imam is an oversight129. Chapter on Building on Investigation and Prostrating after Delivery and Witnessing Before and After130. The door to going back to the bases before continuing the resurrection131. Chapter: Analysis of prayer-delivery132. Chapter: Whoever spoke before delivery at the end of his prayer or who spoke before the imam was delivered, his prayer has been completed.133. The door of the patient's prayer is not able to do the obligatory prayer on the journey134. Chapter of urging and ordering the prayer of the group135. The door to making up prayers after her time, and whoever enters into prayer, he goes out of her time before completing it136. The door of the amount of distance that is shortened by prayer and the length of time137. The door to joining prayers during travel138. Chapter on the description of prayers on travel and the combination of two prayers without an excuse and the description of prayers on the ship.139. Chapter on the attribute of voluntary prayer on travel and receiving the kiss when praying on the tank140. The door of the sick prayer sits with the imams141. The door to prayer in the bow and the horn and the slippers and the throwing of something in the prayer when it is impure142. Chapter on teaching the congregation to lead the imam when he stood in his recitation143. The door of the amount of uncleanness that invalidates prayer144. The door of the imam precedes the congregation before some of the prayers, so he enters with them from the time he realizes it and it is the first of his prayers145. The chapter on the mention of the imam’s representation from the reading of the imams146. The door of women's prayer in congregation and the position of their imam147. Statement of the funeral prayer prayers148. The prostration of the Qur’an149. Chapter of the Sunnah in the prostration of gratitude150. The door of the one who prays the morning alone and then realizes the group so that he can pray with her151. The door to repeat prayers152. Chapter: He does not pray twice a day153. The door to the night prayer during the day and night154. Chapter: There is no prayer after dawn, except for two prostrations155. The door to urge the neighbor of the mosque to pray in it, except for an excuse156. The door of the man reminds him of prayer while he is in another157. The chapter on the virtue of the prayer of the one who rests on the prayers of al-Qa`idah and of how the righteous prayer lasts behind the seated158. The door of the forgotten prayer time159. The door to the passport of a person at home in all times
4. Friday Book
    160. The door to which the Friday is answered161. Mention the number in the Friday162. The door of the group to the one who heard the call163. The door of the Friday to the people of the village164. Chapter: Who can perceive a rak'ah from the group or not realize it165. Chapter: In the two rak'ahs, when the man comes and the imam is preaching166. The door of Friday prayers before half day
5. The Witr Book
    167. The chapter on the string of tendon and that it is not an imposition, and that he, may God’s prayers and peace be upon him, used to string on the camel168. Whoever sleeps at his tendon or forgets him169. The string is five, three, one, or more than five170. Do not liken the tendon to the prayer of the Maghrib171. Chord one-third one-third of the west172. The virtue of tendon173. What is recited in bowing tendons and qunoot in it174. In the two rak'ahs after the string175. Chapter on the description of Al-Qunoot and the description of its location.176. The door of prayers for the sick and whoever is relaxed in his prayers, how will he succeed
6. The Book of the Two Feasts
    177. Door178. Chapter of the Prayer of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, in the Kaaba and the differing narrations in it179. The door to stressing leaving prayers and disbelieving those who left it and forbidding the killing of those who committed it180. Chapter on the description of whom it is permissible to pray with him and prayers upon him181. Chapter on the Description of the Prayer of Fear and its Divisions182. Chapter on the Description of the Eclipse Prayers and Eclipses and their Arrangements
7. The Ascension Book
    183. Door
8. The Funeral Book
    184. The door of walking in front of the funeral185. The door of a Muslim is not unclean186. The door of the place of the grave of Adam, may God’s prayers and peace be upon him, and his arrogance four187. The door to the funeral procession is one and the big is four and five and the reciting Al-Fatiha188. The door to placing the right-hand left and raising the hands when enlarging189. Door to Promote Dirt for the Dead190. The door of prayer on the graves191. Chapter of the prayer of the victims in congregation192. The door to permissibility of work is limited in prayer and what is required of the unconscious from the judiciary and the time of the prayer of volunteerism193. The door of the man is unconscious, and the time for prayer has come. Should he make it or not?194. The door of gestures in prayer with an excuse195. The door to the sign in prayer196. Whoever catches a prostration of the morning before the sun rises, he catches it197. The door of frequent mosques198. The door to return for a person who prays for a man who looks at his future199. The reading easing door for a need200. The door to the end of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, for the Imam to rise above something and the people behind him
9. Zakat Book
    201. Door202. The door to the obligation of zakat by year203. Chapter on the Obligation of Zakat on Gold, Paper, Livestock, Fruits and Cereals204. Chapter: Nothing is broken205. Chapter on what zakat is due from love206. Chapter: There is no charity in vegetables207. Chapter: There is no charity in the factors208. Chapter on the interpretation of the two mixtures, and what was mentioned in the zakat on the two mixtures209. The door of what I pay zakat is not a treasure trove210. Chapter on Zakat Al-Hili211. Chapter: Zakat office does not have any zakat money until it is released
9. Zakat Book
    212. Chapter on the obligation of zakat on the wealth of the boy and the orphan213. The door to borrowing a guardian from the money of an orphan214. Chapter of Zakat on camels and sheep215. Chapter: It is not permissible for charity to be rich, or for only once.216. The chapter on the statement of who is allowed to take charity217. The door to the rich who forbids the question218. The door to expediting charity before the year219. Chapter on Zakat on the wealth of commerce and its fall from horses and slaves220. A door in the amount of charity, as you take out the earth and shed the fruits221. Chapter urging the release of charity and the statement of its portion
10. Zakat al-Fitr Book
    222. Door223. A door in the orders of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him224. A door in the tribute of the Magi and what is narrated in their rulings