سنن دار القطنی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 63
63 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ , نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , قَالَ: حَدَّثُونَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: لَمَّا كُنَّا بِالشَّامِ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ َضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَقَالَ: «مِنْ أَيْنَ جِئْتَ بِهَذَا الْمَاءِ؟ مَا رَأَيْتُ مَاءً عَذْبًا وَلَا مَاءَ سَمَاءٍ أَطْيَبَ مِنْهُ» , قَالَ: قُلْتُ: جِئْتُ بِهِ مِنْ بَيْتِ هَذِهِ الْعَجُوزِ النَّصْرَانِيَّةِ , فَلَمَّا تَوَضَّأَ أَتَاهَا , فَقَالَ: «أَيَّتُهَا الْعَجُوزُ أَسْلِمِي تَسْلَمِي بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ» , قَالَ: فَكَشَفَتْ رَأْسَهَا فَإِذَا مِثْلُ الثَّغَامَةِ فَقَالَتْ: عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ وَإِنَّمَا أَمُوتُ الْآنَ , فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ»
اسلم بیان کرتے ہیں کہ جب ہم شام میں تھے تو میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پانی لے کر آیا، آپ نے اس سے وضوء کیا ، پھر پوچھا تم یہ پانی کہاں سے لے کر آئے ہو؟ میں نے اس سے زیادہ میٹھا پانی نہیں دیکھا ، بلکہ میرے خیال میں آسمان (یعنی بارش ) کا پانی بھی اس سے زیادہ صاف نہیں ہوتا۔ تو میں نے کہا : میں یہ پانی اس عیسائی بڑھیا کے گھر سے لے کر آیا ہوں۔ جب آپ نے وضوء کر لیا تو آپ اس بڑھیا کے پاس آئے اور اس سے فرمایا: اے بڑھیا ! اسلام لے آؤ ، سلامتی پاؤ گی ، اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق دے کر مبعوث فرمایاہے۔ تو اس بڑھیا نے اپنے سر سے کپڑا اتارا تو وہ ثغامہ پھول کے مانند تھا ( یعنی اس کے سر کے بال سفید تھے ) پھر اس نے کہا: میں تو اب بوڑھی ہو چکی ہوں، اب تو بس میں مرنے ہی والی ہوں۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ ! گواہ رہنا ( کہ میں نے اسے اسلام کی دعوت پہنچا دی ہے )۔
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أحمد بن إبراهيم البُوشَنجي، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › The door of ablution in the water of the people of the book · Hadith 63
