سنن دار القطنی · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابٌ: لَيْسَ فِي الْكَسْرِ شَيْءٌ · حديث 1903
1903 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الْإِصْطَخْرِيُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ , ثنا أَبِي , ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ , عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ الْجَرَّاحِ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ نَجِيحٍ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نَسِيٍّ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ حِينَ وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ: «أَنْ لَا تَأْخُذَ مِنَ الْكَسْرِ شَيْئًا , إِذَا كَانَتِ الْوَرِقُ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَخُذْ مِنْهَا خَمْسَةَ دَرَاهِمَ , وَلَا تَأْخُذْ مِمَّا زَادَ شَيْئًا حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا , وَإِذَا بَلَغَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَخُذْ مِنْهُ دِرْهَمًا». الْمِنْهَالُ بْنُ الْجَرَّاحِ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ , وَهُوَ أَبُو الْعَطُوفِ وَاسْمُهُ الْجَرَّاحُ بْنُ [ص:475] الْمِنْهَالِ , وَكَانَ ابْنُ إِسْحَاقَ يَقْلِبُ اسْمَهُ إِذَا رَوَى عَنْهُ , وَعُبَادَةُ بْنُ نَسِيٍّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ
سیدنا معاذ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو انھیں حکم فرمایا کہ ( سونے چاندی کے ) ٹکڑے سے کچھ بھی موصول مت کرنا، جب چاندی دو سو درہم کو پہنچ جائے تو اس میں سے پانچ درہم ( زکاۃ) وصول کرنا اور پھر جو اس سے زیادہ ہو اس میں سے تب تک کچھ وصول نہ کرنا جب تک کہ وہ چالیس درہم تک نہ پہنچ جائے اور جب وہ چالیس درہم کو پہنچ جائے تو اس میں سے ایک درہم وصول کرنا۔منہال بن جراح مترو ک الحدیث ہے، اس سے مراد ابو العطوف ہے اور اسکا نام جراح بن منہال ہے۔ ابن اسحاق جب اس سے روایت کیا کرتے تھے تو اس کا نام بدل دیا کرتے تھے اور عبادہ بن نسی نے سیدنا معاذؓ سے سماع نہیں کیا۔
مُعَاذٌ، ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← حَبِيبِ بْنِ نُجَيْحٍ، ← الْمِنْهَالِ بْنِ الْجَرَّاحِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← أَبُو سَعْدٍ الْإِصْطَخْرِيُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ
Hadith 1903
