سنن دار القطنی · كِتَابُ الْوَصَايَا ‹ باب · حديث 4301
4301 - نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , نا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ , نا عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ , نا ثَابِتٌ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ مَعَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ يَنْتَظِرُونَ طُعَيِّمًا , قَالَ: فَسَبَقَتْهَا - قَالَ عِمْرَانُ: أَكْبَرُ ظَنِّي [ص:270] أَنَّهُ قَالَ: - حَفْصَةُ بِصَحْفَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ , قَالَ: فَوَضَعَتْهَا فَخَرَجَتْ عَائِشَةُ فَأَخَذَتِ الصَّحْفَةَ , قَالَ: وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُحْجَبْنَ , قَالَ: فَضَرَبَتْ بِهَا فَانْكَسَرَتْ فَأَخَذَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ , قَالَ: فَضَمَّهَا , وَقَالَ: بِكَفِّهِ يَصِفُ ذَلِكَ عِمْرَانُ , وَقَالَ: «غَارَتْ أُمُّكُمْ» , فَلَمَّا فَرَغَ أَرْسَلُ بِالصَّحْفَةِ إِلَى حَفْصَةَ وَأَرْسَلَ بِالْمَكْسُورَةِ إِلَى عَائِشَةَ فَصَارَتْ قَضِيَّةُ مَنْ كَسَرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ وَعَلَيْهِ مِثْلُهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تشریف فرما تھے ، آپ کے ساتھ آپ کی بعض ازواج بھی تھیں، سب کھانے کا انتظار کر رہے تھے کہ ایک زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ پر سبقت لے گئیں۔ عمران کہتے ہیں : میرا غالب گمان ہے کہ راوی نے کہا: وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ تھیں، وہ ایک پیالہ لائیں جس میں ثرید تھا، انہوں نے وہ لا کر رکھ دیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ آئیں تو انہوں نے وہ پیالہ اٹھا لیا۔ راوی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ حجاب ( کا حکم نازل ہونے ) سے پہلے کا ہے ۔ انہوں نے پیالہ پھینک کر توڑ دیا، تو نبی ﷺ نے اسے اٹھا لیا اور اسے جوڑنے لگے ۔ عمران رحمہ اللہ نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا ( کہ اس طرح جوڑنے لگے ) ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں تمہیں گم پائے ۔ جب فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے ایک پیالہ منگوا کر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ٹوٹا ہوا پیالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا ۔ یوں کسی کی چیز توڑنے کا حکم یہ ٹھہر ا کہ وہ چیز توڑنے والا رکھے اور اسی جیسی چیز اس کو ادا کرے ( جس کی چیز توڑی ہو)۔
بِكَفِّهِ يَصِفُ ذَلِكَ عِمْرَانُ ← فَضَمَّهَا ← فَضَرَبَتْ بِهَا فَانْكَسَرَتْ فَأَخَذَهَا نَبِيُّ اللَّهِ بِيَدِهِ ← وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُحْجَبْنَ ← فَوَضَعَتْهَا فَخَرَجَتْ عَائِشَةُ فَأَخَذَتِ الصَّحْفَةَ ← حَفْصَةُ بِصَحْفَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ ← عِمْرَانُ: أَكْبَرُ ظَنِّي [ص:270] أَنَّهُ ← فَسَبَقَتْهَا ← كَانَ النَّبِيُّ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ مَعَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ يَنْتَظِرُونَ طُعَيِّمًا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ← عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Sunan Dar Al Qutni · The Wills Book › Door · Hadith 4301
