سنن دار القطنی · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ باب · حديث 3557
3557 - نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ , نا الرَّمَادِيُّ , نا أَبُو ظُفُرٍ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ , عَنْ كَهْمَسٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , [ص:336] عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَلْقَهُ فَجَلَسَتْ تَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ إِلَيْكَ حَاجَةً , قَالَ لَهَا: «وَمَا حَاجَتُكِ؟» , قَالَتْ: إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخٍ لَهُ لِيَرْفَعَ خَسِيسَتَهُ بِي وَلَمْ يَسْتَأْمِرْنِي فَهَلْ لِي فِي نَفْسِي أَمْرٌ؟ , قَالَ: «نَعَمْ» , قَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأَرُدَّ عَلَى أَبِي شَيْئًا صَنَعَهُ وَلَكِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَلَهُنَّ فِي أَنْفُسِهِنَّ أَمْرٌ أَمْ لَا؟ هَذِهِ كُلُّهَا مَرَاسِيلُ ابْنُ بُرَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ شَيْئًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ سے ملنا چاہتی تھی ، اپ سے ملاقات نہ ہو سکی تو وہ انتظار کرنے لگی۔ آپ ﷺ تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: اےے اللہ کے رسول ! اس عورت کو آپ سے کوئی کام ہے ۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا : کیا کام ہے ؟ اس نے کہا: میرے والد نے میری شادی اپنے بھتیجے کے ساتھ کر دی ہے ، تاکہ میری وجہ سے وہ اپنی بدحالی سے نکل آئے ، لیکن مجھ سے پوچھا تک نہیں ، کیا مجھے اپنے بارے میں کوئی اختیار ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ۔ اس نے کہا: میں اپنے والد کے اقدام کو مسترد نہیں کرتی، میں تو یہ جاننا چاہتی تھی کہ آیا عورتوں کا کوئی حق ہے یا نہیں ؟ یہ تمام احادیث ابن بریدہ کی مراسیل ہیں ، اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا ۔
جَاءَتِ امْرَأَةٌ تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ تَلْقَهُ فَجَلَسَتْ تَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ فَقُلْتُ: ← عَائِشَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، [ص:37] ← كَهْمَسٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو ظُفُرٍ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، ← الرمادي، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ
Sunan Dar Al Qutni · The Marriage Book › Door · Hadith 3557
