سنن دار القطنی · كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ وَغَيْرِهَا ‹ باب · حديث 4696
4696 - نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ , نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ , نا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ الْعِجْلِيُّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَطِشَ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ فَقَطَّبَ , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , قَالَ: «لَا عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ» , فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کہ آپ کو پیاس لگ گئی ، آپ کو مشکیزے سے نبیذ پیش کیا گیا تو آپ کے ماتھے پر شکن پڑ گئے ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، میرے پاس آب زم زم کا یک ڈول لاؤ۔ پھر آپ ﷺ نے اس میں پانی ملا کر پیا اور آپ طواف کر رہے تھے ۔
أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ الْعِجْلِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ
Sunan Dar Al Qutni · The Drinking Book and others › Door · Hadith 4696
