سنن دار القطنی · كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ‹ فِي الْمَرْأَةِ تُقْتَلُ إِذَا ارْتَدَّتْ · حديث 4576
4576 - نا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ , نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خَالِدٍ , نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّهُ اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُدْعَى: هَانِئٌ عَلَى الْحِمَى , فَقَالَ لَهُ: " يَا هَانِئٌ اضْمُمْ جَنَاحَكَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ , وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا مُجَابَةٌ , وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغَنِيمَةِ وَإِيَّايَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ , وَابْنِ عَوْفٍ فَإِنَّهُمَا إِنْ تُهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَانِ إِلَى زَرْعٍ وَنَخْلٍ , وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغَنِيمَةِ إِنْ تُهْلِكْ مَاشِيَتُهُ يَأْتِينِي بِبَنِيهِ , فَيَقُولُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَتَارِكُهُمَا أَنَا لَا أَبَا لَكَ فَالْمَاءُ وَالْكَلَأُ أَهْوَنُ عَلَيَّ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ , وَأَيْمُ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنْ قَدْ ظَلَمْنَاهُمْ إِنَّهَا لَبِلَادُهُمْ قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الْإِسْلَامِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا حَمَيْتُ عَلَى النَّاسِ مِنْ بِلَادِهِمْ شِبْرًا ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ , عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ
اسلم روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہانی نام کے ایک غلام کو چراگاہ پر مقرر کیا اور اس سے فرمایا: اے ہانی ! مسلمانوں پر دست شفقت رکھتا اور مظلوم کی آہ سے بچنا ، کیونکہ وہ قبول ہو جاتی ہے ۔ مویشی و غنائم والوں کو داخل ہونے دو، مجھ سے ابن عفان سے اور ابن عوف سے پرہیز کرو، کیونکہ اگر ان کے جانور ہلاک ہو گئے تو وہ کھیتی اور کھجوروں سے پورا کر لیں گے لیکن جانوروں اور غنائم والوں کے جانور ہلاک ہوئے تو وہ اپنے بچو ں کو میرے پاس لا کر کہیں گے : اے امیر المومنین ! کیا انہیں چھوڑ دین ؟ تیرا باپ نہ رہے ، درہم و دینار کی بہ جائے مجھے پانی اور گھاس دے دینا آسان ہے۔ اللہ کی قسم ! وہ سمجھیں گے کہ ہم نے ان پر ظلم کیا، یہ سر زمین ان کی ہے، زمانہ جہالت میں انہوں نے اس کے لیے لڑائی کی اور اسلام قبول کیا تو یہ ان کے پاس تھی ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر راہ خدا میں کام آنے والے مال کی فکر نہ ہو تی تو میں لوگوں کی سر زمین میں ایک بالشت برابر بھی جگہ اپنی تحویل میں لیتا۔
عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← محمد بن بكر بن خالد ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ،
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Omar, may God be pleased with him, to the father of Musa al-Ash'ari › In a woman she is killed if she refuses · Hadith 4576
