سنن دار القطنی · كِتَابُ الْأَحْبَاسِ ‹ بَابُ وَقْفِ الْمَسَاجِدِ وَالسَّقَايَاتِ · حديث 4456
4456 - ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ , نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ , نا شَيْبَانُ , نا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى , نا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ فُلَانٍ - نَسِيَ شَيْبَانُ اسْمَهُ - أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ شَيْءٍ هُوَ لِي فَهُوَ صَدَقَةٌ إِلَّا فَرَسِي وَسِلَاحِي , قَالَ: وَكَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَقَبَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهَا فِي الْأَوْفَاضِ أَوِ الْأَوْقَاصِ , فَجَاءَ أَبَوَاهُ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطْعِمْنَا مِنْ صَدَقَةِ ابْنِنَا فَوَاللَّهِ مَا لَنَا شَيْءٌ وَإِنَّا لَنَطُوفُ مَعَ الْأَوْفَاضِ , فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِمَا فَمَاتَا فَوَرِثَهَا ابْنُهُمَا الَّذِي كَانَ تَصَدَّقَ بِهَا , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَدَقَتِي الَّتِي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِهَا فَدَفَعْتَهَا إِلَى وَالِدِيَّ فَمَاتَا أَفَحَلَالٌ هِيَ لِي؟ , قَالَ: «نَعَمْ فَكُلْهَا هَنِيئًا مَرِيئًا». وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ. إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ضَعِيفٌ , وَلَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ , وَأَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى مَتْرُوكٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن فلاں ( شیبان کو ان کا نام بھول گیا ) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے گھوڑے اور اسلحے کے علاوہ میرا سارا مال صدقہ ہے ۔ ان کی زمین تھی ، جسے رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمایا: اور ناداروں کے لیے وقف کر دی ۔ پھر ان کے والدین آپ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہمیں ہمارے بیٹے کے صدقے سے کچھ عط کیجیے ، اللہ کی قسم ! ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اور ہم ناداروں کے ساتھ گھومتے پھرتے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے وہ زمین انہیں دے دی۔ پھر جب ان دونوں کی وفات ہوئی تو ان کا وارث وہی بیٹا بنا جس نے وہ صدقہ کیا تھا۔ چنانچہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میرا صدقہ آپ نے میرے والدین کو عطا کر دیا تھا، وہ فوت ہو گئے ہیں ، تو کیا اب وہ میرے لیے حلال ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، تم اسے کھاؤ ! تمہیں وہ مبارک ہو۔ یہ حدیث بھی مرسل ہے کیونکہ اسحاق بن یحییٰ ضعیف راوی ہے اور اس کی سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے ، نیز ابو یعلیٰ بن امیہ متروک راوی ہے ۔ واللہ اعلم
اسحاق بن يحيى ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← أبو أمية بن يعلى ← شَيْبَانَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ
Sunan Dar Al Qutni · The Habs Book › Door to the halting of mosques and waterfalls · Hadith 4456
