4436 - حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى , نا جَرِيرٌ , نا حُصَيْنُ بْنُ
عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ [ص:346] ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ , نا السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ح وَقُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبٍ بِالْمِفْتَحِ , وَأَنَا أَسْمَعُ قِيلَ لَهُ: سَمِعْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ يَزِيدَ , نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ , نا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ , نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ السَّعْدِيِّ ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ , نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , نا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , عَنْ حُصَيْنٍ , حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَاوَانَ الْمَازِنِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ الْأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ ح وَنا أَبُو صَالِحٍ الْأَصْبَهَانِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ , نا أَبُو مَسْعُودٍ , نا أَبُو دَاوُدَ , نا أَبُو عَوَانَةَ , أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ , عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ ح وَنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ , نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ , نا أَبِي , نا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ , نَا أَبُو عَوَانَةَ , نا حُصَيْنٌ , عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا , نا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ , نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي , [ص:347] يُحَدِّثُ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ , وَذَاكَ أَنِّي قُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ اعْتِزَالَ الْأَحْنَفِ مَا كَانَ؟ , قَالَ: سَمِعْتُ الْأَحْنَفَ , يَقُولُ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَأَنَا حَاجٌّ فَبَيْنَمَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا إِذْ أَتَانَا آتٍ , فَقَالَ: قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا النَّاسُ يَجْتَمِعُونَ وَإِذَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ نَفَرٌ قُعُودٌ , فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , وَالزُّبَيْرُ , وَطَلْحَةُ , وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ , فَلَمَّا قُمْتُ عَلَيْهِمْ , قِيلَ: هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ جَاءَ , قَالَ: فَجَاءَ وَعَلَيْهِ مُلَاءَةٌ صَفْرَاءُ فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَنْظُرَ مَا جَاءَ بِهِ , فَقَالَ عُثْمَانُ: أَهَاهُنَا عَلِيٌّ , أَهَاهُنَا الزُّبَيْرُ , أَهَاهُنَا طَلْحَةُ , أَهَاهُنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ؟ , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» , فَابْتَعْتُهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ: «فَاجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ» , فَقَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ بِئْرَ رُومَةَ , قَالَ: «فَاجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ» , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهُ إِلَّا هُوَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ يُجَهِّزُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» , فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا [ص:348] يَفْقِدُونَ عِقَالًا وَلَا خِطَامًا قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ , اللَّهُمَّ اشْهَدْ , اللَّهُمَّ اشْهَدْ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مُعْتَمِرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ حُصَيْنٍ , وَقَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ فِي حَدِيثِهِ: «مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» , فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا , وَقَالَ أَيْضًا فِي بِئْرِ رُومَةَ: فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَالَ: «اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ». وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ فِي حَدِيثِهِ فِي قِصَّةِ الْمِرْبَدِ: فَابْتَعْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ تُوَسِّعُ بِهِ فِي مَسْجِدِ الْمُسْلِمِينَ , فَقَالَ: «نَعَمْ وَقَدْ وَجَبَ أَجْرُهُ لَكَ» , وَقَالَ فِي بِئْرِ رُومَةَ: فَابْتَعْتُهَا بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ , وَبَقِيَّةُ أَلْفَاظِهِمْ مُتَقَارِبَةٌ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ. وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فِي بِئْرِ رُومَةَ: فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا
سیدنا احنف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حج کرنے آیا تو مدینہ حاضر ہوا، ہم لوگ بھی اپنے اپنے ٹھکانوں پر اپنی سواریاں تیار کر رہے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: لوگ مسجد میں جمع ہو گئے ہیں۔ میں بھی گیا تو دیکھا کہ لوگ جمع ہیں اور ان سب کے درمیان میں چھ افراد بیٹھے ہوئے ہیں، میں نے دیکھا تو وہ سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے۔ میں ان کے پاس جا کھڑا ہوا۔ اسی دوران آواز آئی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لا رہے ہیں ۔ انہوں نے ایک زرد رنگ کی چادر وڑھ رکھی تھی۔ میں نے اپنے ساتھ والے شخص سے کہا: اپنی جگہ سے نہ ہلنا ، تا کہ میں دیکھ لوں کہ وہ کیا لا رہے ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا یہاں علی موجود ہیں؟ کیا یہاں زبیر موجود ہیں؟ کیا یہاں طلحہ اور سعد بن ابی وقاص موجود ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں ۔ تو انہوں نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود ہیں ، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا تھا: کون ہے جو بنوفلاں کا مربد(یعنی اونٹ یا بکریاں باندھنے کی جگہ یا کھجوروں کے خشک کرنے کی جگہ ) خرید (کر راہ خدا میں وقف کر ) دے، تو اللہ تعالی اس کی مغفرت فرما دے گا تو میں نے وہ مربد خریدا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میں نے بنو فلاں کا مربد خرید لیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو ہماری مسجد میں شامل کر دو تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ ان اصحاب نے کہا: جی ہاں ۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: کون ہے جو بئر رومہ خرید دے اور اللہ تعالی اس کی مغفرت فرما دے گا؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میں نے بئر رومہ خرید لیا ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو مسلمانوں کے پانی پینے کے واسطے وقف کر دو تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ ان (چاروں اصحاب ) نے کہا: جی ہاں ۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: کون ہے جو( مسلمانوں کے ) لشکر کو جہاد کے لیے تیار کرے گا اللہ تعالی اس کی مغفرت فرمائے گا؟ تو میں نے انہیں اس قدر سازوسامان فراہم کیا کہ کسی کو اونٹ وغیرہ باندھنے یا اس کی لگام کے لیے رسی کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : اے اللہ ! گواہ ہو جا، اے اللہ گواہ ہو جا، اے اللہ ! گواہ ہو جا۔ یہ معتمر کی حدیث کے الفاظ ہیں جسے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا اور انہوں نے حصین سے روایت کیا ۔ ابن ادریس میں نے یوں حدیث بیان کی کہ کون ہے جو فلاں کا مر بد خرید دے، اللہ تعالی اس کی مغفرت فرما دے گا ؟ تو میں نے وہ بیس ہزار، یا پچیس ہزار میں خرید دیا۔ اسی طرح انہوں نے بئر رومہ کے متعلق فرمایا کہ میں نے اسے اتنی اتنی رقم میں خریدا ، پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے وقف کر دو تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ علی بن عاصم نے حدیث بیان کرتے ہوئے مر بدکا قصہ یوں ذکر کیا کہ میں نے اسے اتنے میں خریدا، پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں نے بنو فلاں کا مربد خرید لیا ہے، آپ اسے مسلمانوں کی مسجد کی توسیع کے لیے قبول فرما لے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، تمہارا اجر واجب ہو گیا ۔ اور انہوں نے بئر رومہ کے بارے میں فرمایا کہ میں نے اسے بیس ہزار، یا پچیس ہزار، یا اسی کے بہ قدر رقم میں خریدا۔ بقیہ تمام الفاظ قریب قریب ہی ہیں اور مفہوم سب کا ایک ہی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی روایت کردہ حدیث میں ( سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ) بئر رومہ کے بارے میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے اسے اتنی اتنی رقم کے عوض خریدا ۔
Sunan Dar Al Qutni · The Habs Book › Door to the halting of mosques and waterfalls · Hadith 4436