4414 - قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , قِيلَ لَهُ: سَمِعْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ يَزِيدَ , نا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ , وَالْأَنْصَارِيُّ , قَالَا: نا ابْنُ عَوْنٍ ح وَنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ الْأَصْبَهَانِيُّ , نا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ , أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أنا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا مَا أَصَبْتُ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ [ص:336] عِنْدِي مِنْهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَحَبَسْتَ أَصْلَهَا» , قَالَ فَجَعَلَهَا عُمَرُ لَا تُبَاعُ وَلَا تُوهَبُ وَلَا تُورَثُ , وَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالْغُزَاةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفِي الرِّقَابِ وَالضَّيْفِ , لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ , وَأَوْصَى بِهَا إِلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ثُمَّ إِلَى الْأَكَابِرِ مِنْ آلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. هَذَا لَفْظُ أَبِي مَسْعُودٍ , قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: هَذَا أَجْوَدُ حَدِيثٍ رَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ , زَادَ مُعَاذٌ: وَأَوْصَى بِهَا إِلَى حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ثُمَّ إِلَى الْأَكَابِرِ مِنْ آلِ عُمَرَ. قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ سِيرِينَ , فَقَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے خیبر کی زمین ملی تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! مجھے جو زمین ملی ہے ، س سے زیادہ نفیس مال مجھے کبھی نہیں ملا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہے تو اس ( کی آمدنی ) کو صدقہ کر دو اور اس کے اصل کو پاس رکھ لو۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے یوں وقف کر دیا کہ نہ تو اس کی خرید و فروخت کی جائے گی، نہ اس کو ہبہ کیا جائے گا اور نہ ہی اس کا وارث بنایا جائے گا ( بلکہ وہ ) فقیروں ، مسکینوں ، مسافروں ، مجاہدین فی سبیل اللہ ، قیدیوں اور مہمانوں کے لیے وقف ہے ۔ اس کے متولی پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ اگر وہ اس ( کی آمدنی ) میں سے دستور کے مطابق خود کھائے اور دوست کو کھلائے ، لیکن مال کو جمع کرنے والا نہ ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کو اس کی وصیت کی ، پھر ان کے بعد آل عمر کے اکابرین کو وصیت کی۔
أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَقُلْتُ: ← ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ← وَنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ وَالْأَنْصَارِيُّ ← الْعَبَّاسَ بْنَ يَزِيدَ ← قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ قِيلَ لَهُ: