سنن دار القطنی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدِّبَاغِ · حديث 100
100 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ , نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ , وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ , وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْجَبَّارِ , قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , ثنا الزُّهْرِيُّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ , فَقَالَ: «مَا هَذِهِ؟» , فَقَالُوا: أُعْطِيتَهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ , قَالَ: «أَفَلَا أَخَذُوا إِهَابَهَا [ص:59] فَدَبَغُوهُ وَانْتَفَعُوا بِهِ؟» , فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ , فَقَالَ: «إِنَّمَا حُرِّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ أَكْلُهَا»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو استفسار فرمایا: یہ کیا ہے ؟ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتلایا کہ یہ بکری سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقہ دی گئی تھی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟ تاکہ وہ اسے دباغت کر لیتے اور ( اسے فروخت کر کے یا کسی اور کام میں لا کر ) اس سے فائدہ حاصل کر لیتے ۔ تو صحابہ نے عرض کیا : یہ تو مری ہوئی ہے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: مردہ جانور کا صرف کھانا ہی حرام قرار دیا گیا ہے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْجَبَّارِ: ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← يحيى بن محمد بن صاعد
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › The tanning door · Hadith 100
