4103 - نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلَاءِ , قَالَا: نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى , نا عَمْرُو بْنُ حُمْرَانَ , عَنْ عَوْفٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ الْهَجَرِيِّ , قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ , وَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا النَّاسَ , وَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ [ص:144] النَّاسَ , فَإِنِّي امْرِؤٌ مَقْبُوضٌ وَإِنَّ الْعِلْمَ سَيُقْبَضُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتَّى يَخْتَلِفَ الِاثْنَانِ فِي الْفَرِيضَةِ لَا يَجِدَانِ مَنْ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا». تَابَعَهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَوْفٍ , وَرَوَاهُ الْمُثَنَّى بْنُ بَكْرٍ , عَنْ عَوْفٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ , عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا. قَالَ: وَقَالَ الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ , عَنْ عَوْفٍ , عَنْ شَهْرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: قرآن کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، وراثت کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، علم حاصل کرو اور لوگوں کو علم سکھاؤ ، کیونکہ میں تو رحلت کر جانے والا ہوں، یقیناً علم کو اٹھا لیا جائے گا اور فتنوں کا ظہور ہو گا، یہاں تک کہ دو آدمیوں کا وراثت کے معاملے میں اختلاف ہو گا تو انہیں ایسا کوئی آدمی نہیں ملے گا جو ان کا فیصلہ کر دے۔ ایک جماعت نے عوف سے روایت کرتے ہوئے اس کی موافقت کی ہے ، اور اسے مثنی بن بکر نے عوف سے روایت کیا ہے ، انہوں نے سلیمان بن جابر سے ، انہوں نے ابو الاحوص سے ، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے ، جبکہ فضل بن دلہم نے عوف اور شھر کے واسطے سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے ۔
سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ الْهَجَرِيِّ، ← عَوْفٌ، ← عَمْرُو بْنُ حُمْرَانَ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلَاءِ