4391 - نا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْآدَمَيُّ , نا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ , نا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ,
قَالَ: كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ أُسِرَ فَأُخِذَتِ الْعَضْبَاءُ مَعَهُ , فَأَتَى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ عَلَامَ تَأْخُذُونِي وَتَأْخُذُونَ الْعَضْبَاءَ وَأَنَا [ص:324] مُسْلِمٌ؟ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ» , قَالَ: وَمَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَإِنِّي ظَمْآنٌ فَاسْقِنِي , فَقَالَ: «هَذِهِ حَاجَتُكَ» , قَالَ: فَفُودِيَ بِرَجُلَيْنِ وَحَبَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءَ لَرَحْلِهِ، وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ، قَالَ: فَأَغَارَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ , قَالَ: وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرِيحُونَ إِبِلَهُمْ بِأَفْنِيَتِهِمْ , فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ نُوِّمُوا وَعَمَدَتْ إِلَى الْإِبِلِ فَمَا كَانَتْ تَأْتِي عَلَى نَاقَةٍ مِنْهَا إِلَّا رَغَتْ حَتَّى أَتَتْ عَلَى الْعَضْبَاءِ , فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ فَرَكِبَتْهَا حَتَّى أَتَتِ الْمَدِينَةَ , وَنَذَرَتْ إِنِ اللَّهُ تَعَالَى نَجَّاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَلَمَّا أَتَتِ الْمَدِينَةَ عَرَفَ النَّاسُ النَّاقَةَ , وَقَالُوا: الْعَضْبَاءُ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: وَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُخْبِرَ بِنَذْرِهَا , فَقَالَ: «بِئْسَمَا جَزَيْتِهَا أَوْ جَزَيْتِيهَا , لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ»
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عضباء اونٹنی ( پہلے ) بنو عقیل کے ایک شخص کے پاس تھی ، تو وہ عضباء سمیت گرفتار کرلیا گیا، نبی ﷺ گدھے پر سوار ہو کر اس کے پاس تشریف لائے ، آپ ﷺ چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ اس نے کہا: اے محمد! آپ مجھے اور عضباء کو کس جرم میں پکڑتے ہو؟ حالانکہ میں تو مسلمان ہوں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے جواب دیا: اگر تم یہی بات اس وقت کہتے جب تو اپنے اختیار میں تھا (ین گرفتار نہ ہوا تھا ) تو بلاشبہ تم نے پوری کامیابی حاصل کر لی ہوتی۔ پھر آپ ﷺ آگے بڑھ گئے ، تو اس شخص نے پکارا :اے محمد ! میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلایئے ، میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلایئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہی تیرا مقصد تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر دو آدمیوں کے بدلے میں ( جو بنی ثقیف کی قید میں تھے ) آپ ﷺ نے عضباء اونٹنی اپنی سواری کے لیے رکھ لی ۔ عضباء حاجیوں پر سبقت لے جایا کرتی تھی۔ پھر مشرکین نے مدینے کے جانوروں پر ڈاکہ ڈالا اور جاتے جاتے ایک مسلمان عورت کو بھی اٹھا لے گئے۔ جب رات ہوئی اور سب گہری نیند سو گئے تو عورت اٹھی تاکہ کسی اونٹ پر سوار ہو کر بھاگ نکلے، وہ جس اونٹ پر بھی ہاتھ رکھتی وہ آواز نکالنے لگ جاتا، یہاں تک کہ وہ عضباء کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ نہایت شریف اونٹنی ہے، وہ اس پر سوار ہو کر مدینہ پہنچ گئی۔ اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ اس اونٹنی کو قربان کرے گی۔ جب وہ مدینہ پہنچی تو لوگوں نے پہچان لیا کہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی عضباء ہے۔ اس عورت کو آپ ﷺ کے پاس لایا گیا اور اس کی نذر سے بھی آپ کو مطلع کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: تو نے اسے بہت میرا بدلہ دیا ہے، اس نذر کو پورا کرنا جائز نہیں جس میں اللہ کی نافرمانی ہو یا ایسی نذر ہو جو آدمی کے اختیار میں نہ ہو۔
عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْآدَمَيُّ