سنن دار القطنی · كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ‹ فِي الْمَرْأَةِ تُقْتَلُ إِذَا ارْتَدَّتْ · حديث 4552
4552 - نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافُ , نا حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ , نا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ , نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي , نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ أَتَى الزُّبَيْرَ فَقَالَ: إِنِّي اشْتَرَيْتُ بَيْعَ كَذَا وَكَذَا وَإِنَّ عَلِيًّا يُرِيدُ أَنْ يَأْتِيَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَيَسْأَلَهُ أَنْ يَحْجُرَ عَلَيَّ فِيهِ , فَقَالَ الزُّبَيْرُ: فَأَنَا شَرِيكُكَ فِي الْبَيْعِ , فَأَتَى عَلِيُّ عُثْمَانَ , فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ جَعْفَرٍ اشْتَرَى بَيْعَ كَذَا وَكَذَا فَاحْجُرْ عَلَيْهِ , فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا شَرِيكُهُ فِي الْبَيْعِ , فَقَالَ عُثْمَانُ: " كَيْفَ أَحْجُرُ عَلَى رَجُلٍ فِي بَيْعٍ شَرِيكُهُ فِيهِ الزُّبَيْرُ؟. قَالَ يَعْقُوبُ: أنا آخُذُ بِالْحَجْرِ وَأُرَاهُ , وَأَحْجُرُ وَأُبْطِلُ بَيْعَ الْمَحْجُورِ عَلَيْهِ وَشِرَاءَهُ , وَإِذَا اشْتَرَى أَوْ بَاعَ قَبْلَ الْحَجْرِ فَإِنْ كَانَ صَلَاحًا أَجَزْتُهُ وَإِنْ كَانَ مَعْنًى يَسْتَحِقُّ الْحَجْرَ حَجَرْتُ عَلَيْهِ وَرَدَدْتُ عَلَيْهِ بَيْعَهُ وَإِنْ كَانَ مِمَّنْ لَا يَسْتَحِقُّ الْحَجْرَ عَلَيْهِ أَجَزْتُ بَيْعَهُ. قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: وَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ لَا يَحْجُرُ وَلَا يَأْخُذُ بِالْحَجْرِ
عروہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: میں نے فلاں فلاں سودا خریدا ہے ، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مجھ پر اس سلسلے میں پابندی عائد کرنے کامطالبہ کرنے کے لیے امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتے ہیں۔ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں سودے میں تمہارا شریک ( حصے دار ) ہوں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: ابن جعفر نے فلاں سودا کیا ہے ، اس پر پابندی عائد کیجیے ۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس سودے میں اس کا حصے دار ہوں ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس شخص کی بیع پر کیسے پابندی لگاؤں جس کے شریک سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ہیں ؟ یعقوب نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں : میں پابندی لگانے کا قائل ہوں اور اسے صحیح سمجھتا ہوں، ایسے شخص کی خرید و فروخت کو باطل قرار دیتا ہوں، اگر وہ پابندی عائد ہونے سے قبل خرید فروخت کرے اور وہ اس کے لیے مناسب ہو تو میں اسے برقرار رکھتا ہوں، اگر وہ پابندی کے لائق ہو تو میں اس پر پابندی عائد کر کے اس کی خرید و فروخت کو باطل قرار دیتا ہوں اور اگر وہ پابندی کے لائق نہیں تو اس کی بیع کو برقرار رکھتا ہوں۔ یعقوب بن ابراہیم کہتے ہیں: ابو حنیفہ نہ تو پابندی عائد کرتے ہیں اور نہ اس کے قائل ہیں۔
أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ ← محمد بن أحمد بن الحسن الصواف،
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Omar, may God be pleased with him, to the father of Musa al-Ash'ari › In a woman she is killed if she refuses · Hadith 4552
