4814 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الصَّيْدَلَانِيُّ بِوَاسِطَ , نا [ص:538] جَعْفَرُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ حَمَّادٍ الْوَاسِطِيُّ , أنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ , عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْبَصْرِيِّ , عَنْ نَهْشَلٍ الْخُرَاسَانِيِّ , عَنِ الضَّحَّاكِ
بْنِ مُزَاحِمٍ أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ , وَمَكْحُولٌ الشَّامِيُّ , وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْمَكِّيُّ , وَطَاوُسٌ الْيَمَانِيُّ , فَاجْتَمَعُوا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ وَكَثُرَ لَغَطُهُمْ فِي الْقَدَرِ , فَقَالَ طَاوُسٌ وَكَانَ فِيهِمْ مَرْضِيًّا: أَنْصِتُوا حَتَّى أُخْبِرَكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا , وَحَّدَ لَكُمْ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا , وَنَهَاكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا , وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَكَلَّفُوهَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكُمْ فَاقْبَلُوهَا». نَقُولُ مَا قَالَ رَبُّنَا وَنَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأُمُورُ بِيَدِ اللَّهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مَصْدَرُهَا , وَإِلَيْهِ مَرْجِعُهَا , لَيْسَ إِلَى الْعِبَادِ فِيهَا تَفْوِيضٌ وَلَا مَشِيئَةٌ , فَقَامُوا وَهُمْ رَاضُونَ بِقَوْلِ طَاوُسٍ
ضحاک بن مزاحم روایت کرتے ہیں کہ وہ اور حسن بن ابی حسن ، مکحول شامی ، عمرو بن دینا ر مکی اور طاؤس یمانی، یہ سب لوگ مسجد خیف میں جمع تھے تو تقدیر کے معاملے میں بحث کرتے ہوئے اونچی آوازوں میں بولنے لگے اور بہت زیادہ شور و غل ہو گیا، تو ( ان اصحاب میں ) طاؤس رحمہ اللہ ( کے پسندیدہ صاحب بھی تھے ، چنانچہ انہوں ) نے کہا: وش ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں وہ حدیث بتلاؤں جو میں نے سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ سے سنی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر کچھ چیزیں فرض کی ہیں ؛ تم انہیں ضائد مت کرو، اس نے تم پر حدود متعین کر دی ؛ لہذا تم ان سے تجاوز مت کرو، اس نے تمہیں کچھ چیزوں سے منع فرمایا ہے ؛ لہذا تم ان کا ارتکاب مت کرو، اس نے کچھ چیزوں کے متعلق ارادتاً سکوت فرمایا ہے ؛ لہذا بہ تکلف ان میں بحث مت کرو، یہ تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے ، لہذا تم اسے قبول کرو۔ ہم وہی بات کرتے ہیں جو ہمارے رب اور ہمارے نبی ﷺ نے فرمائی ہے ، تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور ان کا صدور اور انجام وہیں سے ہے ، بندوں کا اس میں نہ کوئی کردار ہے اور نہ مرضی ۔ ( یہ حدیث سن کر ) سب لوگ اٹھے اور وہ طاؤس کے قول پر رضا مند تھے ۔
مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ← طَاوُسٌ وَكَانَ فِيهِمْ مَرْضِيًّا: أَنْصِتُوا حَتَّى أُخْبِرَكُمْ مَا ← طَاوُسٌ الْيَمَانِيُّ فَاجْتَمَعُوا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ وَكَثُرَ لَغَطُهُمْ فِي الْقَدَرِ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْمَكِّيُّ، ← مَكْحُولٍ الشَّامِيِّ ← الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ ← نَهْشَلٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← أَبِي عَمْرٍو الْبَصْرِيِّ، ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← جَعْفَرُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ حَمَّادٍ الْوَاسِطِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الصَّيْدَلَانِيُّ