4798 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ , وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هَارُونَ الْعَسْكَرِيُّ , وَالْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْمَاطِيُّ , قَالُوا: أنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ , نا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ , عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: أَرْمِي بِسَهْمِي فَأُصِيبُ فَلَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلَّا بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ , فَقَالَ: «إِذَا قَدَرْتَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ فِيهِ أَثَرٌ وَلَا خَدْشٌ إِلَّا رَمْيَتُكَ فَكُلْ , وَإِنْ وَجَدْتَ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِ رَمْيَتِكَ فَلَا تَأْكُلْهُ» , أَوْ قَالَ: «لَا تَطْعَمْهُ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَنْتَ فَعَلْتَهُ أَوْ غَيْرُكَ وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَأَخَذَ فَأَدْرَكْتَهُ فَذَكِّهِ وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَخَذَ وَلَمْ يَأْكُلْ شَيْئًا مِنْهُ فَكُلْهُ , وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا» , أَوْ قَالَ: «لَا تَأْكُلْهُ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ» , قَالَ عَدِيُّ: فَإِنِّي أَرْسَلُ كِلَابِي وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ فَتَخْتَلِطُ بِكِلَابِ غَيْرِي [ص:532] فَيَأْخُذْنَ الصَّيْدَ فَيَقْتُلْنَهُ , قَالَ: «لَا تَأْكُلْهُ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَكِلَابُكَ قَتَلَتْهُ أَوْ كِلَابُ غَيْرِكَ»
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھا: میں ایک تیر پھینکتا ہوں اور وہ شکار کو جا لگتا ہے، لیکن لیکن وہ شکار (گم ہو جاتا ہے اور ) مجھے ایک یا دو دن بعد بھی مل پاتا ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اس میں اپنے تیر کے زخم اور نشان کے سوا کوئی نشان نہ دیکھو تو کھالوں لیکن اگر کوئی اور نشان بھی دیکھو تو مت کھا وہ یا فرمایا کہ اسے مت کھاؤ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس کا تم نے شکار کیا ہے یا کسی اور نے۔ اور جب تم اپنا کتا چھوڑو اور وہ شکار کو پکڑ لائے تو اسے ذبح کرلو، اگر تم دیکھو کہ اس نے شکار پکڑا ہے اور اس سے کھایا نہیں تو کھا لیکن اگر اس نے اسے ماردیا اور خودبھی اس میں سے کھا لیا تو پھر تم مت کھاد۔ یا فرمایا کہ اسے مت کھاؤ، کیونکہ اس نے اپنے لیے شکار کیا ہے۔ عدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بسم اللہ پڑھ کر کتے چھوڑوں، پھر دوسرے کے بھی شکار میں شامل ہو جائیں اور شکار کو قتل کردیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے مت کھاو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اسے تمہارے کتوں نے شکار کیا ہے یا دوسرے کتوں نے۔
عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْمَاطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هَارُونَ الْعَسْكَرِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ