سنن دار القطنی · كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ وَغَيْرِهَا ‹ باب · حديث 4694
4694 - نا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ , نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى , نا جَرِيرٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ , عَنْ مَالِكِ بْنِ الْقَعْقَاعِ , قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ النَّبِيذِ الشَّدِيدِ , فَقَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ فَوَجَدَ مِنْ رَجُلٍ رِيحَ نَبِيذٍ , فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟» , قَالَ: رِيحُ نَبِيذٍ , قَالَ: «فَأَرْسَلَ فَلْيُؤْتَ مِنْهُ» , فَأَرْسَلَ فَأُتِيَ بِهِ فَوَضَعَ [ص:474] فِيهِ رَأْسَهُ فَشَمَّهُ ثُمَّ رَجَعَ فَرَدَّهُ حَتَّى إِذَا قَطَعَ الرَّجُلُ الْبَطْحَاءَ رَجَعَ , فَقَالَ: أَحَرَامٌ أَمْ حَلَالٌ؟ , قَالَ: فَوَضَعَ رَأْسَهُ فِيهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا فَصَبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثُمَّ شَرِبَ , فَقَالَ: «إِذَا اغْتَلَمَتْ أَسْقِيَتُكُمْ فَاكْسِرُوهَا بِالْمَاءِ». كَذَا قَالَ مَالِكُ بْنُ الْقَعْقَاعِ , وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعِ بْنِ أَخِي الْقَعْقَاعِ وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ ضَعِيفٌ , وَالصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ , وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُهُ
مالک بن قعقاع بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے گاڑھے نبیذ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی نے نبیذ کی بو محسوس کی ، تو آپ ﷺ نے پوچھا : یہ کیسی بو ہے ؟ اس نے عرض کیا: نبیذ کی بو ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کسی کو بھیج کر منگواؤ۔ اس نے منگوایا تو آپ نے اس میں سر جھکایا ، پھر اسے سونگھا اور اسے واپس تھما دیا۔ وہ آدمی واپس چلا گیا، جب وہ بطحاء سے آگے گزر گیا تو واپس آیا اور پوچھا: یہ حلال ہے یا حرام ؟ آپ ﷺ نے اسے قریب کیا تو دیکھا کہ وہ انتہائی گاڑھا ہے ، پھر پانی ملایا اور پی لیا ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے مشکیزوں میں نبیذ گاڑھا ہو جائے تو اس کا جوش پانی سے مار لیا کرو۔ اسی طرح مالک بن قعقاع نے اور ان کے علاوہ دیگر رُواۃ نے قعقاع کے بھتیجے عبدالملک بن نافع سے بیان کیا اور وہ مجہول آدمی اور ضعیف راوی ہے ۔ جبکہ صحیح روایت وہ ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ دے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۔ اس کا ذکر پیچھے بھی ہو چکا ہے ۔
مالك بن القعقاع ← أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ
Sunan Dar Al Qutni · The Drinking Book and others › Door · Hadith 4694
