4570 - نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ , نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , نا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , [ص:423] عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: كَيْفَ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ؟ , قَالَ: «هِيَ وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلَّا مَا أَوَاهُ الْمُرَاحُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ , وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَتُهُ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ» , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ , قَالَ: «هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلَّا مَا أَوَاهُ الْجَرِينُ فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ , وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَتُهُ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ» , قَالَ: فَكَيْفَ تَرَى فِيمَا يُوجَدُ فِي الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ وَفِي الْقَرْيَةِ الْمَسْكُونَةِ؟ , قَالَ: «عَرِّفْهُ سَنَةً فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهِ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهِ فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ وَمَا كَانَ فِي الطَّرِيقِ غَيْرِ الْمِيتَاءِ وَالْقَرْيَةِ غَيْرِ الْمَسْكُونَةِ، فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ» , قَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ , قَالَ: «طَعَامٌ مَأْكُولٌ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ احْبِسْ عَلَى أَخِيكَ ضَالَّتَهُ» , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْإِبِلِ؟ , قَالَ: «مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا , وَلَا يُخَافُ عَلَيْهَا الذِّئْبَ , تَأْكُلُ الْكَلَأَ وَتَرِدُ الْمَاءَ دَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَ طَالِبُهَا»
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مزینہ قبیلے کا ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! پہاڑ پر چرنے والے جانوروں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں : آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جانور اور اس جیسا ایک جانور دے اور سزا الگ پائے ، جانور کے چور کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا لیکن جو باڑے کے اندر ہو اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر وہ ڈھال کی مالیت سے کم ہو تو وہ جانور اسی طرح سے دے اور سزا کے کوڑے کھائے ۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! درخت پر لگے پھلوں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسی مقدار میں پھل اور ادا کرے اور وہ بھی واپس کرے اور اس کی سزا برداشت کرے ، پھل چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لیکن جو کھلیان میں رکھا گیا ہو، اگر اس قدر چوری کرے کہ اس کی قیمت ڈاھل کے برابر ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر کم چوری کرے تو تاوان دے اور سزا کے کوڑے کھائے ۔ اس نے عرض کیا: عام راستے اور آبادی سے ملنے والی چیز کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایک سال اس کا اعلان کراؤ، اگر طالب آ جائے تو اسے دے دو، ورنہ تم اس کو اپنے استعمال میں لے آؤ، البتہ اگر کبھی اس کا طالب آ جائے تو اسے واپس کرنا ہوگا۔ غیر آباد راستے ا ور ویران علاقے سے ملنے والی چیز اور ( جاہلیت کے ) دفینے ( یعنی زیر امین مدفون خزانے ) میں پانچویں حصے کی ادائیگی ہے ۔ اس نے عرض کیا : گمشدہ بکری کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو کھائی جانے والی چیز ہے ، جسے تم یا تمہارا بھائی یا بھیڑیا کھا جائے گا، اسے اپنے بھائی کے لیے پکڑ رکھ۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! گمشدہ اونٹ کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟ اپ ﷺ نے فرمایا: تجھے اس سے کیا غرض ؟ اس کا مشکیزہ اور جوتا اس کے ساتھ ہوتا ہے، بھیڑیے ک اسے کوئی خطرہ نہیں ، وہ پتے کھا لیتا ہے اور پانی پی لیتا ہے ، اسے چھوڑ دے ، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے ڈھونڈ لے ۔
جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ،
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Omar, may God be pleased with him, to the father of Musa al-Ash'ari › In a woman she is killed if she refuses · Hadith 4570