سنن دار القطنی · كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ‹ باب · حديث 4471
4471 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ النُّعْمَانِيُّ , نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ , نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي [ص:368] حُمَيْدٍ , عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ , قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْقَضَاءَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ , فَافْهَمْ إِذَا أُدْلِيَّ إِلَيْكَ بِحُجَّةٍ , وَأَنْفِذِ الْحَقَّ إِذَا وَضَحَ , فَإِنَّهُ لَا يَنْفَعُ تَكَلُّمٌ بِحَقٍّ لَا نَفَاذَ لَهُ , وَآسِ بَيْنَ النَّاسِ فِي وَجْهِكَ وَمَجْلِسِكَ وَعَدْلِكَ حَتَّى لَا يَيْأَسَ الضَّعِيفُ مِنْ عَدْلِكَ وَلَا يَطْمَعُ الشَّرِيفُ فِي حَيْفِكَ , الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ , وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا , لَا يَمْنَعُكُ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ بِالْأَمْسِ رَاجَعْتَ فِيهِ نَفْسَكَ وَهُدِيتَ فِيهِ لِرُشْدِكَ أَنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ وَمُرَاجَعَةَ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ , الْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيمَا يُخْتَلَجُ فِي صَدْرِكَ مِمَّا لَمْ يَبْلُغْكَ فِي الْكِتَابِ أَوِ السُّنَّةِ , اعْرِفِ الْأَمْثَالَ وَالْأَشْبَاهَ ثُمَّ قِسِ الْأُمُورَ عِنْدَ ذَلِكَ فَاعْمَدْ إِلَى أَحَبِّهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأَشْبَهِهَا [ص:369] بِالْحَقِّ فِيمَا تَرَى وَاجْعَلْ لِمَنِ ادَّعَى بَيِّنَةً أَمَدًا يَنْتَهِي إِلَيْهِ , فَإِنْ أَحْضَرَ بَيِّنَةً أَخَذَ بِحَقِّهِ وَإِلَّا وَجَّهْتَ الْقَضَاءَ عَلَيْهِ فَإِنَّ ذَلِكَ أَجْلَى لِلْعَمَى وَأَبْلَغُ فِي الْعُذْرِ , الْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا مَجْلُودٌ فِي حَدٍّ أَوْ مُجَرَّبٌ فِي شَهَادَةِ زُورٍ أَوْ ظَنِينٌ فِي وَلَاءٍ أَوْ قَرَابَةٍ , إِنَّ اللَّهَ تَوَلَّى مِنْكُمُ السَّرَائِرَ وَدَرَأَ عَنْكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ وَإِيَّاكَ وَالْقَلَقَ وَالضَّجَرَ وَالتَّأَذِّيَ بِالنَّاسِ وَالتَّنَكُّرَ لِلْخُصُومِ فِي مَوَاطِنَ الْحَقِّ الَّتِي يُوجِبُ اللَّهُ بِهَا الْأَجْرَ وَيُحْسِنُ بِهَا الذُّخْرَ , فَإِنَّهُ مَنْ يُصْلِحُ نِيَّتَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ وَلَوْ عَلَى نَفْسِهِ يَكْفِهِ اللَّهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ , وَمَنْ تَزَيَّنَ لِلنَّاسِ بِمَا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ غَيْرَ ذَلِكَ يَشِنْهُ اللَّهُ , فَمَا ظَنُّكَ بِثَوَابِ غَيْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي عَاجِلِ رِزْقِهِ وَخَزَائِنِ رَحْمَتِهِ , وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ»
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا: بعد، قضا محکم فریضہ اور سنت متداولہ ہے، لہذا جب تمہیں دلیل پیش کی جائے تو اسے سمجھو اور حق واضح ہو جائے تو اسے نافذ کرو، کیونکہ نفاذ حق کے بغیر (محض )حق گوئی فائدہ نہیں دیتی۔ اپنے چہرے مجلس اور عدل میں لوگوں کو امید دا و، تا کہ کمزور شخص تمہارے عدل سے مایوس ہو اور طاقتور تمہارے ظلم کی طمع نہ کرے ۔ مدعی کے ذمے گواہ دلیل پیش کرنا ہے جبکہ مدعا علیہ سے قسم لی جائے ، مسلمانوں کے مابین صلح کرانا جائز ہے، ما سوائے اس صلح کے جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام کرے۔ کوئی فیصلہ کرنے کے بعد سوچ و بچار کے نتیجے میں تمہیں صحیح راہنمائی مل جائے تو وہ فیصلہ حق کی طرف جانے سے نہ روکے ، کیونکہ تو (بہ ہر حال) اصل ہے اور حق کی طرف پلٹ آنا باطل پر مصر رہنے سے بہتر ہے۔ جو بات تمہیں کتاب وسنت سے معلوم نہ ہو اور تمہارے دل میں کھٹکا پیدا کرے اسے خوب اچھی طرح سمجھو، امثال و اشباہ کو پہچانو ، پھر معاملات کو ان پر قیاس کرو اور اپنے خیال میں اللہ تعالی کے ہاں سب سے پسندیدہ اور حق کے زیادہ مشابہ بات پر اعتمادکرو۔ مدعی کو دلیل پیش کرنے کے لیے ایک مدت دو ، سواگروہ دلیل پیش کر دے تو اپنا حق لے جائے ، ورنہ اس کے خلاف فیصلہ دے دو، کیونکہ یہ تاریکی میں روشن کرن اور بہترین عذر ہے۔ تمام مسلمان ایک دوسرے کے سلسلے میں گواہی کے لیے عادل ہیں ، سوائے اس کے جسے حد لگی ہو، یا جو جھوٹی گواہی میں معروف ہو، یاجو ولاء اور قرابت والا ہو ۔ پوشیدہ باتوں میں اللہ تعالی نے تمہاری ذمہ داری خود لے لی ہے اور تمہیں دلائل کا پابند کر کے تمہارا دفاع کیا ہے۔ اضطراب، گھٹن لوگوں کو پریشان کرنے اور حق کے مقدمات نمٹانے کو ناپسندیدگی کی نگاه سے دیکھنے سے بچو، اسی کی بہ دولت اللہ تعالی اجر سے نوازتا اور آخرت کو سنوارتا ہے۔ جو اللہ تعالی اور اپنے مابین معاملات کو صحیح کر لیتا ہے، خواہ اس کی ذات پر ضد ہی پڑتی ہو، تو اللہ تعالی اسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں کافی ہو جا تا ہے۔ جو شخص لوگوں کے سامنے وہ روپ دھارتا ہے جو اللہ کے ہاں نہیں، تو اللہ سے معیوب بنا دیتا ہے ۔ اللہ عزوجل کے فوری رزق اور رحمتوں بھرے خزانوں کے مقابلے میں غیر اللہ سے بدلے کا کیا گمان ہے۔ والسلام علیک۔
أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي [ص:368] حُمَيْدٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ النُّعْمَانِيُّ
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Omar, may God be pleased with him, to the father of Musa al-Ash'ari › Door · Hadith 4471
