سنن دار القطنی · كِتَابُ الْأَحْبَاسِ ‹ بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ الْحَبْسُ؟ · حديث 4421
4421 - نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ , نا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ , نا حُمَيْدٌ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: 92] , أَوْ {مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا} [البقرة: 245] , قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَائِطِي فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ تَعَالَى وَلَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ , قَالَ: «اجْعَلْهُ فِي فُقَرَاءِ أَهْلِ بَيْتِكَ وَأَقَارِبِكَ».
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : ( لن تنالوا البر تنفقوا مما تحبون ) " تم تب تک نیکی کو ہر گز نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں ( راہ خدا میں ) خرچ نہ کرو جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ " یا یہ آیت نازل ہوئی : ( من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا ) " تم میں کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے ۔ " سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرا فلاں جگہ والا باغ رضائے الہی کے لیے صدقہ ہے ، میں چاہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے میں اسے پوشیدہ ہی رکھوں ، اس کا اعلان نہ کروں ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے اہل خانہ اور اپنے قریبی رشتے داروں میں سے غریب لوگوں میں صدقہ کر دو۔
أَبُو طَلْحَةَ ← لَمَّا نَزَلَتْ أَوْ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← اَبُوْ یَحْیَی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ
Sunan Dar Al Qutni · The Habs Book › How is imprisonment written? · Hadith 4421
