4211 - نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ , نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ , نا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ , عَنِ ابْنِ عَوْنٍ , عَنْ عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ , قَالَ: كَانَتْ أُمُّ وَلَدٍ لِأَخِي شُرَيْحِ بْنِ الْحَارِثِ وَلَدَتْ لَهُ جَارِيَةً فَزُوِّجَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا ثُمَّ تُوُفِّيَتْ أُمُّ الْوَلَدِ , قَالَ: فَاخْتَصَمَ فِي مِيرَاثَهَا شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ وَابْنُ ابْنَتِهَا إِلَى شُرَيْحٍ , فَجَعَلَ شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ يَقُولُ لِشُرَيْحٍ: إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ مِيرَاثٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِنَّمَا هُوَ ابْنُ ابْنَتِهَا , قَالَ: فَقَضَى شُرَيْحٌ بِمِيرَاثِهَا لِابْنِ ابْنَتِهَا , وَقَالَ {وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ} [الأحزاب: 6] , فَرَكِبَ مَيْسَرَةُ بْنُ يَزِيدَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شُرَيْحٍ , فَكَتَبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى شُرَيْحٍ: إِنَّ مَيْسَرَةَ بْنَ يَزِيدَ ذَكَرَ لِي كَذَا وَكَذَا وَإِنَّكَ قُلْتَ عِنْدَ ذَلِكَ {وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ} [الأحزاب: 6] , وَإِنَّمَا كَانَتْ تِلْكَ الْآيَةُ فِي شَأْنِ الْعَصَبَةِ كَانَ الرَّجُلُ يُعَاقِدُ الرَّجُلَ , فَيَقُولُ: تَرِثُنِي وَأَرِثُكَ فَلَمَّا نَزَلَتْ تُرِكَ ذَاكَ , فَجَاءَ مَيْسَرَةُ بْنُ يَزِيدَ بِالْكِتَابِ إِلَى شُرَيْحٍ , فَلَمَّا قَرَأَهُ أَبَى أَنْ يَرُدَّ قَضَاءَهُ , وَقَالَ: «فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَعْتَقَهَا خَبَيَاتِ بَطْنِهَا»
عیسیٰ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ میرے بھائی شریح بن حارث کی ایک ام ولد نے ایک بچی کو جنم دیا، اس کا نکاح ہو گیا اور اس کے ہاں ایک بچہ ہوا۔ پھر ام ولد فوت ہو گئی تو شریح اور ام ولد کے پوتے نے اس کی میراث کا جھگڑا قاضی شریح کے سامنے پیش کیا۔ شریح بن حارث قاضی شریح سے کہنے لگے : کتاب اللہ کی روسے تو اس کا کوئی حصہ نہیں ہے ، کیونکہ یہ اس عورت کا نواسہ ہے ۔ لیکن قاضی شریح نے میراث اس کے نواسے کو دیتے ہوئے یہ آیت پڑھی ( و اولو الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ ) " کتاب اللہ کی رو سے ( عام مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت ) رشتے دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں ۔ " میسرہ بن یزید سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں قاضی شریح کے فیصلے سے آگاہ کیا، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے قاضی شریح کے نام ( خط ) لکھا کہ میسرہ بن یزید نے مجھے تمہارے فلاں فیصلے سے آگاہ کیا ہے ، اور یہ بھی بتلایا کہ تم نے یہ آیت بھی پڑھی ۔ ( و اولو الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ )جبکہ یہ آیت تو عصبہ کے متعلق ہے ، کیونکہ تب ( یہ صورت تھی کہ ) ایک آدمی دوسرے آدمی سے معاہدہ کر لیتا تھا اور کہتا تھا کہ تم میرے وارث ہو گے اور میں تمہارا وارث ہوں گا، لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ میسرہ بن یزید خط لے کی قاضی شریح کے پاس پہنچے تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنا فیصلہ تبدیل کرنے سے انکار کر دیا کہ اس نے اسے اس کے بطن میں موجود بچوں سمیت آزاد کیا ہے ۔
ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى شُرَيْحٍ: إِنَّ مَيْسَرَةَ بْنَ يَزِيدَ ← بِالَّذِي كَانَ مِنْ شُرَيْحٍ ← فَرَكِبَ مَيْسَرَةُ بْنُ يَزِيدَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ ← فَقَضَى شُرَيْحٌ بِمِيرَاثِهَا لِابْنِ ابْنَتِهَا ← لِشُرَيْحٍ: إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ مِيرَاثٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِنَّمَا هُوَ ابْنُ ابْنَتِهَا ← ابْنُ ابْنَتِهَا إِلَى شُرَيْحٍ فَجَعَلَ شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ ← فَاخْتَصَمَ فِي مِيرَاثَهَا شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ ← لَدَتْ لَهُ جَارِيَةً فَزُوِّجَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا ثُمَّ تُوُفِّيَتْ أُمُّ الْوَلَدِ ← كَانَتْ أُمُّ وَلَدٍ لِأَخِي شُرَيْحِ بْنِ الْحَارِثِ ← عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ عَوْنٍ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ