4140 - نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ , نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ , نا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ , وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ , أَنَّ سَعِيدَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَأَذِنَ لَهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِ جَارِيَةٍ لَهُ تَرَجُّلُهُ فَنَزَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: دَعْهَا تُرَجِّلُكَ , فَقَالَ: «يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ جِئْتُكَ» , فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّمَا الْحَاجَةُ لِي إِنِّي جِئْتُكَ لَنَنْظُرَ فِي أَمْرِ الْجَدِّ , فَقَالَ زَيْدٌ: «لَا وَاللَّهِ مَا تَقُولُ فِيهِ؟» , فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هُوَ بِوَحْي حَتَّى نَزِيدَ فِيهِ وَنُنْقِصَ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ تَرَاهُ فَإِنْ رَأَيْتَهُ وَافَقْتَنِي تَبِعْتُهُ وَإِلَّا لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ فِيهِ شَيْءٌ , فَأَبَى زَيْدٌ فَخَرَجَ مُغْضَبًا , وَقَالَ: قَدْ جِئْتُكَ وَأَنَا أَظُنُّكَ سَتَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِي , ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فِي السَّاعَةِ الَّتِي أَتَاهُ الْمَرَّةَ الْأُولَى فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى قَالَ: «فَسَأَكْتُبُ لَكَ فِيهِ» , فَكَتَبَهُ فِي قِطْعَةِ قَتَبٍ وَضَرَبَ لَهُ [ص:165] مَثَلًا: «إِنَّمَا مَثَلُهُ مِثْلُ شَجَرَةٍ تُنْبِتُ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ فَخَرَجَ فِيهَا غُصْنٌ ثُمَّ خَرَجَ فِي غُصْنٌ غُصْنٌ آخَرُ , فَالسَّاقُ يَسْقِي الْغُصْنَ فَإِنْ قَطَعْتَ الْغُصْنَ الْأَوَّلَ رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الْغُصْنِ , وَإِنْ قَطَعْتَ الثَّانِي رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الْأَوَّلِ» , فَأُتِيَ بِهِ فَخَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ ثُمَّ قَرَأَ قِطْعَةَ الْقَتَبِ عَلَيْهِمْ , ثُمَّ قَالَ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَالَ فِي الْجَدِّ قَوْلًا وَقَدْ أَمْضَيْتُهُ , قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ أَوَّلَ جَدٍّ كَانَ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ الْمَالَ كُلَّهُ مَالَ ابْنِ ابْنِهِ دُونَ إِخْوَتِهِ فَقَسَمَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت لی ، تو انہوں نے اجازت دے دی۔ اس وقت سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا سر ایک لونڈی کے ہاتھوں میں تھا جو اس میں کنگھی کر رہی تھی، آپ نے اپنا سر ہٹا لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے کنگھی کرتے رہنے دیجیے ۔ زید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: | اے امیر المومنین! آپ پیغام دیتے ، میں خود حاضر خدمت ہو جاتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چونکہ کام مجھے تھا ۔ اس لیے میں خود آپ کے پاس چلا آیا ہوں ( میرے آنے کا مقصد یہ ہے کہ) ہم (وراثت میں ) دادے کے حصے پر غور کریں۔ تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ وحی تو نہیں ہے کہ ہم افراط وتفریط کا شکار نہ ہوں، بلکہ یہ صرف آپ کی ایک رائے ہے، اگر تمہاری رائے میرے موافق ہوئی تو میں تسلیم کر لوں گا ور نہ تم پر کوئی حرج نہیں ۔ ہے۔ لیکن زید رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ میں تمہارے پاس آیا ، میں سمجھتا تھا کہ تم میرا کام کر دو گے ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دوسری مرتبہ زید رضی اللہ عنہ کے پاس اسی وقت تشریف لائے جس وقت پہلے آئے تھے اور ان کے پاس ہی بیٹھے رہے، یہاں تک کہ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بارے میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں ۔ پھر آپ نے ایک پالان پر نہیں لکھ کر دیا اور ایک مثال بیان کیا کہ اس کی مثال ایک درخت کی سی ہے، جو ایک تنے پر مشتمل ہے، جس میں ایک شاخ نکلتی ہے، پھر اس شاخ سے آگے ایک شاخ ہے، اس تنے سے شاخ کو پانی ملتا ہے، اگر آپ پہلی شاخ کاٹ دیں تو پانی دوسری شاخ کو منتقل ہوجاتا ہے اور اگر دوسری شاخ کاٹ دیں تو پانی پہلی شاخ کو ملتا ہے۔ پھر وہ تحریر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دی گئی ، تو آپ نے لوگوں سے خطاب کیا اور نہیں تحریر پڑھ کر سنائی، پھر فرمایا: زید رضی اللہ عنہ نے دادے (کی وراثت) کے بارے میں جو بات کہی ہے وہ ہم نے جاری کردی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دادا تھے، آپ پوتے کا مال اس کے بھائیوں کو دینے کی بہ جائے خود لینا چاہتے تھے، چنانچہ آپ نے اسے تقسیم کر دیا۔
عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ،