سنن دار القطنی · كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِ ‹ باب · حديث 4008
4008 - قَالَ هِشَامٌ: وَكَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى , عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا» وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ حَرَّمَ جَارِيَتَهُ» فَقَالَ اللَّهُ {لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} [التحريم: 1] إِلَى قَوْلِهِ {قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ} [التحريم: 2] , «فَكَفَّرَ عَنْ يَمِينِهِ وَصَيَّرَ الْحَرَامَ يَمِينًا»
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی چیز کو حرام کر لینا قسم کی مانند ہے اور اس کا کفارہ ادا کیا جائے گا۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : ( لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ) " یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے ۔ " ( اور فرمایا: نبی ﷺ نے اپنی لونڈی کو حرام قرار دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ( لم تحرم ما احل اللہ لک ) " سے لے کر یہاں تک : ( قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم ) " آپ اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کی ہے ؟ کیا اس لیے کہ آپ اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہیں ؟ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کر دیا ہے ۔ " چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور ( کسی چیز کو ) حرام ٹھہرنے کو قسم قرار دیا۔
فِي الْحَرَامِ: يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا. ← ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← إِلَيَّ يَحْيَی ← هِشَامٍ
Sunan Dar Al Qutni · The book of divorce, divorce, indulgence, and others › Door · Hadith 4008
