3585 - نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ , نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ , ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ , نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَا: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , نا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ , عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ , [ص:351] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا , وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا». لَفْظُ ابْنِ سِنَانٍ وَهَذَا خِلَافُ لَفْظِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى , عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ. قَالَ الشَّيْخُ: وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ , إِنَّمَا أَرَادَ بِهِ الْبِكْرَ الْيَتِيمَةَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ , لِأَنَّا قَدْ ذَكَرْنَا فِي رِوَايَةِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ وَمَنْ تَابَعَهُ فِيمَا تَقَدَّمَ مِمَّنْ رَوَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ , وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُيَيْنَةَ , عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ: وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا , فَإِنَّا لَا نَعْلَمُ أَحَدًا وَافَقَ ابْنَ عُيَيْنَةَ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ وَلَعَلَّهُ ذَكَرَهُ مِنْ حِفْظِهِ فَسَبَقَ لِسَانُهُ , وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى: أَنَّ الْيَتِيمَةَ تُسْتَأْمَرُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بیوہ اپنے معاملے میں ولی سے زیاہ حق رکھتی ہے اور کنواری سے اس کے معاملے میں اجازت لی جائے گی اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے ۔یہ الفاظ ابن سنان کے ہیں اور فضل بن موسیٰ کے الفاظ سے مختلف ہیں ۔ شیخ کہتے ہیں : ہو سکتا ہے کہ حدیث میں با کرہ سے مراد یتیمہ ہو، اللہ اعلم ۔ اس لیے کہ صالح بن کیسان کی روایت اور اس کی موافقت میں سب نے نبی ﷺ کا یہ فرمان ذکر کیا ہے کہ یتیم بچی سے اجازت لی جائے گی ۔ رہازیاد بن سعد سے ابن عیینہ کا یہ قول نقل کرنا کہ کنواری سے اس کا باپ اجازت لے گا، تو ہمارے علم کے مطابق کسی نے ان الفاظ پر اس سے موافقت نہیں کی۔ شاید کہ اس نے اپنے حافظے سے بیان کیا ہے اور سبقت لسانی میں یہ کہہ دیا ہے، واللہ اعلم ۔ ابو بردہ کے واسطے سے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے کہ یتیم بچی سے اجازت لی جائے گی۔
الشَّيْخُ: وَيُشْبِهُ ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← هَذَا خِلَافُ لَفْظِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى ← «الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا». لَفْظُ ابْنِ سِنَانٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ