سنن دار القطنی · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ باب · حديث 3547
3547 - قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ: حَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ , نا عَمِّي , نا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حُسَيْنٍ مَوْلَى آلِ حَاطِبٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَكَ بِنْتًا لَهُ مِنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ , فَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ وَهُمَا خَالَايَ فَخَطَبْتُ إِلَى قُدَامَةَ بِنْتَ عُثْمَانَ فَزَوَّجَنِيهَا , فَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ [ص:331] إِلَى أُمِّهَا فَأَرْغَبَهَا فِي الْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَيْهِ وَحَطَّتِ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ قُدَامَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةُ أَخِي وَأَوْصَى بِهَا إِلَيَّ فَزَوَّجْتُهَا ابْنَ عَمٍّ وَلَمْ أُقَصِّرْ بِالصَّلَاحِ وَالْكَفَاءَةِ , وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ وَإِنَّهَا حَطَّتْ إِلَى هَوَى أُمِّهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ يَتِيمَةٌ وَلَا تُنْكَحُ إِلَّا بِإِذْنِهَا» فَانْتُزِعَتْ مِنِّي وَاللَّهِ بَعْدَ أَنْ مَلَكْتُهَا فَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ وفات پا گئے ، انہوں نے خولہ بنت حکیم سے ایک بیٹی چھوڑی اور اپنے بھائی قدامہ بن مظعوان رضی اللہ عنہ کو اس کے متعلق وصیت کی ، وہ دونوں میرے ماموں ہیں ۔ میں نے قدامہ بن مظعون کو ( ان کی بھتیجی سے) نکاح کا پیغام بھینا تو انہوں نے اس کی شادی میرے ساتھ کر دی۔ پھر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس کی والدہ کے پاس گئے اور اسے مال کی رغبت دلائی تو وہ ان کی طرف مائل ہو گئی ، لڑکی اپنی والدہ کی پسند پر راضی تھی، چنانچہ معاملہ نبی ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ تو قدامہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! یہ میری بھتیجی ہے، میرے بھائی نے اس کے متعلق مجھے وصیت کر رکھی ہے، میں نے اس کا نکاح اپنے چچازاد سے کیا ہے اور اس کی بھلائی و برابری کے سلسلے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ، جبکہ یہ اور اس کی والدہ اس رشتے کونہیں رکھنا چاہتیں ۔ تو رسول الله ﷺ نے فرمایا: یہ یتیم بچی ہے، اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اس کے معاملات کا مالک ہونے کے بعد اسے مجھ سے چھین لیا گیا، پھر انہوں نے اس کی شادی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کر دی۔
ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُمَرُ بْنُ حُسَيْنٍ مَوْلَى آلِ حَاطِبٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← عَمِّي، ← أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيّ ← قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ
Hadith 3547
